| 85361 | دعوی گواہی کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
ایک آدمی نےاپنی زمین میں سے ایک ٹکڑا بیچنے کیلئے اپنے بھتیجے کو وکیل بنایا،بھتیجے نے وہ ٹکڑا ایک لاکھ روپے کے بدلے قسطوں پر بیچ دیا ۔تقریبا ًسات سال بعد بھتیجاوفات پا گیا اور اصل مالک بھی اُس سے پہلے فوت ہو چکا تھا۔ اب ورثا(موکل کے بھائی ،کیونکہ موکل کے فرع اور اصل میں سے کوئی زندہ نہیں ہے)یہ کہتے ہیں کہ ہم نےیہ ٹکڑا نہیں بیچا ہے،حالانکہ وہ سات سال تک خاموش تھے،کوئی دعوی نہیں کیا تھا ۔واضح رہے کہ مذکورہ جگہ پر خریدار نے پانچ سال پہلے دکان بھی بنائی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ورثہ شرعاً اس دعوی کرنے کے مجاز ہیں؟ ان میں مدعی اورمدعی علیہ کون ہے اورگواه لانا کس کے ذمہ ہوگا ؟نیز وکیل اور اس کے بھائی نے ایک لاکھ روپے میں سے سینتالیس ہزار پا نچ سو پچاس رو پے وصول کر لئے تھے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسولہ میں جب خریدار نے مذکورہ زمین کا ٹکڑا خرید لیا اور پھر اس میں مالکانہ تصرف کرکے دکان بنائی،اس وقت ورثہ کی طرف سے کوئی دعوی ٰ سامنے نہیں آیا ،یہ اس بات کی دلیل ہے کہ زمین کاٹکڑا خریدار نے خریدا تھا ،اس لئے ورثہ کا دعوی ٰ معتبر نہیں ہوگااور نہ شرعاً دعویٰ کرنے کے مجاز ہیں،لہذا زمین کا ٹکڑا خریدار کا ہوگا اوربقایا پیسے دینا بھی خریدار کے ذمہ لازم ہوں گے ۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 742):
(باع عقارا) أو حيوانا أو ثوبا (وابنه أو امرأته) أو غيرهما من أقاربه (حاضر يعلم به ثم ادعى الابن) مثلا (أنه ملكه لا تسمع دعواه) ...(بخلاف الأجنبي) فإن سكوته و (لو جارا) لا يكون رضا (إلا إذا) سكت الجار وقت البيع والتسليم و (تصرف المشتري فيه زرعا وبناء) فحينئذ (لا تسمع دعواه) على ما عليه الفتوى قطعا للأطماع الفاسدة.
[رد المحتار]
في جامع الفتاوى أول كتاب الدعوى عن الخلاصة رجل تصرف في أرض زمانا ورجل آخر يرى تصرفه فيها، ثم مات المتصرف ولم يدع الرجل حال حياته لا تسمع دعواه بعد وفاته اهـ، وفي الحامدية عن الولوالجية: رجل تصرف زمانا في أرض ورجل آخر يرى الأرض والتصرف، ولم يدع ومات على ذلك لم تسمع بعد ذلك دعوى ولده فتترك على يد المتصرف اهـ
مجلة الأحكام العدلية(333):
مادة 1659: إذا باع أحد مالا على أنه ملكه في حضور آخر لشخص وسلمه ثم ادعى الحاضر بأنه ملكه مع أنه كان حاضرا في مجلس البيع وسكت بلا عذر فينظر إلى أن الحاضر هل كان من أقارب البائع أم لا؟ فإن كان من أقاربه أو زوجها أو زوجته لا تسمع دعواه هذه مطلقا، وإن كان من الأجانب فلا يكون حضوره وسكوته في مجلس البيع فقط مانعا لدعواه، بل بعد حضوره وسكوته في مجلس البيع بلا عذر إن تصرف المشتري في ذلك الملك تصرف الملاك بناء أو هدما أو غرسا ورآه الحاضر، ثم بعد ذلك لو ادعى بقوله هذا ملكي أو لي فيه حصة فلا تسمع دعواه.
عبدالعلی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
08/ جمادی الاولیٰ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعلی بن عبدالمتین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


