| 84994 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
والدکے انتقال کو آٹھ سال کاعرصہ گزرچکاہے،مگروالدہ وراثت تقسیم کرنے پرراضی نہیں ہیں ،وہ کہتی ہے میرے سرسے چھت چلی جائے گی،ہم سب بہن بھائی مالی لحاظ سے مستحکم بھی نہیں ہیں،ہم اس کامطالبہ کررہے ہیں،لیکن وہ اس پرتیارنہیں ہیں،کیاان کایہ عمل درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مستحق ورثہ کے مطالبہ کے بعدمیراث کی تقسیم لازمی ہے،جووارث تقسیم میں رکاوٹ ڈالتاہے وہ دیگرورثہ کے حق کوغصب کرتاہے اوریہ بہت سخت گناہ ہے،اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء،آیت نمبر13،14 میں میراث کے احکام بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ’’تلک حدود اﷲ ‘‘یعنی یہ میراث کے احکام اللہ تعالی کی بیان کردہ حدود ہیں ،جو اللہ اور اس کے رسول کی اس(میراث ) کے حوالے سے اطاعت کرے گا، اللہ تعالیٰ اُسے ایسی جنت میں داخل فرمائیں گے جس کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اوروہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اوریہ بہت بڑی کامیابی ہے اورجو اس میراث کے حوالے سے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے اور اس کے بیان کردہ حدود سے تجاوز کرتاہے، اللہ اس کو آگ میں داخل کردیں گے، جہاں وہ ہمیشہ رہے گااور اس کے لئے ذلت آمیز عذاب ہو گا، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جو شخص اللہ تعالی اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مقرر کردہ حصہ میراث سے کسی وارث کو محروم کر ے، اللہ تعالیٰ اس کو جنت سے محروم کردیتے ہیں،اس لئے والدہ کوچاہیے کہ مرحوم کے ترکہ کوفوری طورپرتقسیم کریں،جس کاجتناحق بنتاہے وہ اس کودیں،باقی بیٹوں پرضروری ہے کہ وہ والدہ کوچھت فراہم کریں اوران کی خدمت کریں۔
حوالہ جات
فی شعب الإيمان لأبو بكر البيهقي (ج 6 / ص 224):
قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قطع ميراثا فرضه الله و رسوله قطع الله به ميراثا من الجنة۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۱۳/ربیع الثانی۱۴۴۶ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


