| 85713 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
زید نے بکر پر مکان بیچا بکرنے آدھے پیسے دئے ابھی بکر یہ کہتا ہے کہ یہ مکان کسی اور پر بھیچ دو اگر نقصان ہوا تو میں ذمہ ہوں،اب پوچھنا یہ ہے کہ زید کے لئے نقصان لینا کیسا ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بکرمکان کا مالک بن چکا ہے ۔ اب اگر وہ قبضہ کرنے کے بعد زید کو بیچنے کا وکیل بناتا ہے اور مالک ہونےکی حیثيت سے نقصان کی ذمہ داری لیتا ہے تو یہ جائز ہے ۔
حوالہ جات
صح بيع عقار لا يخشى هلاكه قبل قبضه) من بائعه لعدم الغرر لندرة هلاك العقار الخ.
(رد المحتار: 5/ 147)
ويجوز بيع العقار قبل القبض عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمه الله الخ.( الهداية: 3/ 59)
(وأما ركنها) : فالألفاظ التي تثبت بها الوكالة من قوله: وكلتك ببيع هذا العبد أو شرائه كذا في السراج الوهاج.( الفتاوى الهندية: 3/ 560)
ولو قال: أجزت لك بيع عبدي هذا أنه يكون توكيلا بالبيع ولو زاد على قوله أنت وكيلي في كل شيء جائز أمرك ملك الحفظ والبيع والشراء.( البحر الرائق شرح كنز الدقائق: 7/ 139)
عبدالوحید بن محمد طاہر
دارالافتاء جا معۃ الرشید کراچی
۸ جمادی الثانیہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالوحید بن محمد طاہر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


