| 85797 | خرید و فروخت کے احکام | بیع کی مختلف اقسام ، بیع وفا، بیع عینہ اور بیع استجرار کا بیان |
سوال
حضرت میرا سوال یہ ہے کہ ایک شخص کو پیسوں(دو لاکھ) کی ضرورت ہے، لیکن ادھار دینے والے عدمِ ادائیگی کی وجہ سے پریشان ہیں، لہذا اس نے اپنے کھیت کو فروخت کرنے کی پیشکش کی اس شرط پر کہ پیسوں کی واپسی کے بعد کھیت واپس لیا جاسکے گا۔مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح کا معاہدہ شرعی طور پر جائز ہے؟ خاص طور پر اس شر ط کے ساتھ کہ خریدار کھیت کا فائدہ اٹھاتا رہے گا جب تک پیسے واپس نہ کیے جائیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کوئی شخص اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے کھیت کو اس شرط پر بیچ رہا ہے کہ جب وہ رقم واپس کرے گاتو کھیت واپس لے لے گا ، شریعت کی رو سے اس طرح کی بیع میں واپسی کی شرط لگانے کی وجہ سے بیع فاسد ہوجاتی ہے ،اگر اس طرح معاملہ کیا ہے تو اسے فورا ًختم کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالی سے توبہ و استغفار بھی کریں ۔البتہ اس کی جائز صورت یہ ہوگی کہ حقیقی بیع کی جائے یعنی کھیت کو بیچ کر اس کا ثمن(قیمت) وصول کرکے اپنی ضروریات پوری کریں ،تاہم آپس میں الگ سے یہ بات کرلیں کہ جب باہمی رضامندی سے چاہیں گے تو نئی قیمت طے کرکے واپس خرید لیں گے، اس کو شرط نہ بنائیں ، ایک وعدہ کی حیثیت سے رکھیں جس پر عمل کرنے کی پوری کوشش ہو، البتہ عذر کی صورت میں پورا نہ کرنا بھی ممکن ہو۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ: وفي الأشباه: كل قرض جر نفعا حرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن.
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: قوله :(كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا ، وعن الخلاصة :وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي: لا بأس به . قوله:( فكره للمرتهن إلخ) الذي في رهن الأشباه يكره للمرتهن الانتفاع بالرهن إلا بإذن الراهن .
قلت: وهذا هو الموافق؛ لما سيذكره المصنف في أول كتاب الرهن، وقال في المنح هناك، وعن عبد الله بن محمد بن أسلم السمرقندي، وكان من كبار علماء سمرقند: إنه لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن،لأنه أذن له في الربا ؛لأنه يستوفي دينه كاملا، فتبقى له المنفعة فضلا، فتكون ربا ، وهذا أمر عظيم. (رد المحتار :5/ 166)
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ: وبيع الوفاء ذكرته هنا تبعا للدرر : صورته أن يبيعه العين بألف على أنه إذا رد
عليه الثمن رد عليه العين ، وسماه الشافعية بالرهن المعاد ، ويسمى بمصر بيع الأمانة ، وبالشام بيع الإطاعة ، قيل هو رهن فتضمن زوائده ، وقيل بيع يفيد الانتفاع به ، وفي إقالة شرح المجمع عن النهاية : وعليه الفتوى ، وقيل إن بلفظ البيع لم يكن رهنا ، ثم إن ذكرا الفسخ فيه أو قبله أو زعماه غير لازم كان بيعا فاسدا ، ولو بعده على وجه الميعاد جاز لزم الوفاء به ؛ لأن المواعيد قد تكون لازمة لحاجة الناس ، وهو الصحيح كما في الكافي والخانية وأقره خسرو هنا والمصنف في باب الإكراه وابن الملك في باب الإقالة بزيادة ). رد المختار:( 276/5
احسان اللہ بن سحر گل
دار الافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
/05جمادی الآخرۃ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ بن سحرگل | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


