| 85468 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
اگر ایک بندہ کسی ادارے میں کام کر رہا ہے لیکن کام کرتے وقت اس نے چھٹی کی اور گھر چلا گیا، اور کسی نے دیکھا بھی نہیں تو اس بندے کی تنخواہ کا کیا حکم ہےاور اگر وہ اسکولوٹا بھی نہ سکتا ہو ۔ تو کس طرح وہ صرف کرے تاکہ اس کا ذمہ بری ہو جائے ؟
تنقیح:یہ پیسے اس وجہ سے لوٹانا ممکن نہیں کہ اگر ادارے والوں کوچھٹی کا بتایااورپیسے واپس کیے تو یہ خطرہ ہے کہ وہ نوکری سے نکال دیں گے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی ادارے میں کام کرنے والے شخص کی حیثیت اجیر خاص کی ہوتی ہےاور اجیرخاص اجرت کا اسی وقت مستحق ہو تا ہے جب وہ صحیح طریقہ سے کام کرےاورپورا وقت اپنے کام کو دے۔اگر وہ کام کے وقت حاضرنہ ہو تو اس کے لیے تنخواہ لینا جائز نہیں۔ بغیر کام کےجتنی تنخواہ وہ لے چکا ہے تو اس شخص پر واجب ہےکہ وہ مخصوص رقم ادارےمیں واپس جمع کرادے ۔ یادرہےکہ اس میں بتانا ضروری نہیں بلکہ کسی بھی طریقے اور عنوان سے ادارےمیں رقم جمع ہو جانے سے ذمہ داری ادا ہوجائے گی۔مثلاآپ ادارےکے کسی فنڈمیں ڈال دیں یاعطیات میں جمع کرادیں یامالک متعین ہو تواسے ہدیہ کردیں۔
حوالہ جات
قال في الهندية:ثم كما إن ثمن الخمر حرام كله فكذلك كسب المغنية، حتى قال بعض مشاخنا: كسب المغنية كالمغصوب لا يحل أخذه.وعلى هذا قالوا: لو مات رجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة إن تورع الورثة عن ذلك فهو أولى، ويردون على أربابها إن عرفوهم، وإن لم يعرفوهم تصدقوا بها؛ لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد. (النهاية في شرح الهداية:23/ 118)
قال ابن عابدین رحمہ اللہ: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل)حاشية ابن عابدين: 6/ 69)
قال أفندي :الأجير الخاص إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل استحق الأجرة. (مجلة الأحكام: 1/ 537
محمد اسماعیل بن محمداقبال
دارالافتاء جامعہ الرشید کراچی
14/جمادی الاولی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن محمد اقبال | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


