| 85131 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
ایک سرکاری ملازم کو بینک لون دیتا ہے جو 10 یا 20 ماہ کی تنخواہوں کے برابر ہوتا ہے۔ پھر بعد میں ہر ماہ کی تنخواہ میں سے کٹوتی کی جاتی ہے، لیکن آخر میں جو مجموعی رقم بنتی ہے، اس سے کچھ زیادہ کٹوتی کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر 20 ماہ کی تنخواہ کی رقم 20 لاکھ بنتی ہے، تو وہ 25 لاکھ کاٹتے ہیں۔ آپ سے معلوم کرنا یہ ہے کہ کیا یہ صورت حال جائز ہے؟ یا پھر کوئی جائز متبادل صورت بتائیں۔
وضاحت: سائل نے فون پر بتایا کہ ہمارے ملازمت کے ایگریمنٹ میں کسی بھی بینک سے ایڈوانس سیلری یا لون لینے کی تصریح نہیں ہوتی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سرکاری ملازم کا بینک سے 10یا 20 ماہ کی تنخواہوں کے برابر قرض لے کر اس پر لی ہوئی رقم سے زائد کٹوتی کروانا سودی معاملہ ہے جو کہ شرعا ناجائز اور حرام ہے، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ صورت جائز نہیں ہے۔
باقی نفع کی شرط پر قرض لینے اور دینے کی جائز صورت کوئی نہیں ہے، کیونکہ شرعا کسی سے قرض لے کر اس پر اضافہ دینا سود ہے، البتہ اگر قرض کی رقم کے عوض کوئی چیز جیسے گھر وغیرہ خریدنا مقصود ہو تو آپ مستند علمائے کرام کے زیرنگرانی کام کرنے والے کسی غیرسودی بینک سے وہ چیز خرید سکتے ہیں، یہ بینک شریعت کے اصولوں کے مطابق چیز خرید کر گاہک کو نفع پر فروخت کرتے ہیں۔
حوالہ جات
القرآن الكريم( آل عمران: 3:130):
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ"
القرآن الكريم (الروم :30:39):
وَمَا آتَيْتُم مِّن رِّبًا لِّيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِندَ اللَّهِ وَمَا آتَيْتُم مِّن زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُضْعِفُونَ"
(صحيح البخاري، كتاب البيوع، حديث رقم 2086):
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اجتنبوا السبع الموبقات، قالوا: يا رسول الله وما هن؟ قال: الشرك بالله، والسحر، وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق، وأكل الربا، وأكل مال اليتيم، والتولي يوم الزحف، وقذف المحصنات المؤمنات الغافلات.
فقہ البیوع للشيخ محمد تقي العثماني ( 1/94)مكتبة معارف القرآن، كراتشي:
واتفافیة التوریدعبارة عن اتفاق بین الجھة المشتریة والجھة البائعة علی أن الجھة البائعة تورد إلی الجھة المشریة سلعا أو موادا محدودة الأوصاف فی تواریخ مستقبلة معینة لقاء ثمن معلوم متفق علیہ بین الفریقین....اتفاقیة البیع لیس ببیع مضافا أو معلقا ، بل ھو وعد من الجابین لإنجاز بیع فی المستقبل ...2۔یجوزان یکون الاتفاقیة مواعدة لإنجاز البیع فی المستقبل ،3۔ إن کا ن مواعدة فلابد من أن یعقد البیع فی المستقبل بإیجاب وقبول من جدید أو مایقوم مقامھما من التعاطی ولاینعقد البیع تلقائیافی التاریخ المحددفی الاتفاقیة 3۔لایجوز أن یحمل المتخلف عن الوعد تعویضا إلابمقدار الخسائرة الفعلیة.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
23/ربیع الثانی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


