03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
(شاپی فائی Shopifyپر)قبضہ اور ملکیت کے بغیر کسی چیز کا بیچنا
85427خرید و فروخت کے احکاممرابحہ اور تولیہ کا بیان

سوال

السلام علیکم مفتی صاحب !

میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے ایک ویب سائٹ بنائی ہےشوپی فائی( shopify)کےذریعے ،وہاں پر میں کوئی پروڈکٹ کو لسٹ کرتاہوں سیل کرنے کے لیےاور  ایڈز چلاتاہوں ۔سیل لینے کےلیےجب کوئی  آرڈرکرتاہے تومیں اس پروڈکٹ کو پہلے ہول سیلرز سےخریدتاہوں اور وہ پروڈکٹ پھر کسٹمر کو ڈیلیور کروادیتاہوں مختلف گودام کے ذریعےاوراس میں بعض اوقات میں کسی ہول سیلرز کے ذریعے ڈلیورکردیتاہوں ،کیونکہ کچھ ہول سیلرپروڈکٹ کوڈلیور کرنے والی سرویس دیتےہیں اور کبھی میں کسی بلیو ڈارٹ وغیرہ کے ذریعے بھیجتا ہوں۔اس میں ایک چیز اورکہ کسٹمر کےپاس جب پروڈکٹ پہنچ جاتا ہے تب وہ پیسے دیتےہیں،اس میں آن لائن پیمنٹ کم ہوتی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خرید وفروخت کا ضابطہ یہ ہے اگرمبیع(جو چیز فروخت کی جارہی ہو)بیچنے والے کی ملکیت اور قبضےمیں نہیں ہے تو اس کا بیچنا  جائز نہیں ہے ۔

صورت مسئولہ میں فروخت کی جانے والی چیز بوقت فروخت چونکہ ملکیت میں نہیں ہوتی ،اس لیے صاف الفاظ کےساتھ بیع کرنا جائز نہیں ،البتہ اس کے جواز کی یہ صورت بن سکتی ہےکہ گاہک سے آرڈرلیتے وقت حتمی معاملہ نہ کیاجائے بلکہ فروختگی  کے وعدے کے الفاظ استعمال کیےجائیں  ،پھروہی چیز متعلقہ دکان  یا اسٹور سے خرید کر خود یاوکیل کے ذریعے قبضہ میں لی جائے ،پھر کسٹمر کو بھیجی جائے تو اس کے وصول کرنے پر بیع درست ہوجائے گی، یاد رہے کہ اگر ڈراپ شپنگ کی گئی تو نفع حلال نہ ہوگا ۔

جواز کی دوسری صورت یہ ہے کہ خریدار سے آرڈر لینے کے بعد مطلوبہ چیز کسی دکان یا اسٹور سے لےکر خریدار تک پہنچائیں اور اس عمل کی اجرت مقرر کرلیں ،یعنی بجائےاشیاءکے خرید وفروخت کے بروکری کی اجرت مقرر کرکے یہ معاملہ کریں ۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ :قولہ:( وبيع ما ليس في ملكه) المراد بيع ما سيملكه قبل ملكه له ثم رأيته كذلك في الفتح في أول فصل بيع الفضولي، وذكر أن سبب النهي في الحديث ذلك (قوله لبطلان بيع المعدوم) إذ من شرط المعقود عليه: أن يكون موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه وأن يكون ملك وما له خطر العدم .         (ردالمحتار :58/5)

قال العلامۃأبوبکر الحداد رحمہ اللہ :وأما نهيه عن بيع ما لم يقبض يعني في المنقولات، وأما نهيه عن بيع ما ليس عنده فهو أن يبيع ما ليس في ملكه، ثم ملكه بوجه من الوجوه فإنه لا يجوز إلا في السلم فإنه رخص فيه.    (الجوھرۃ النیرۃ:203/1)

قال الإمام فخرالدین عثمان بن علی الزیلعی رحمہ اللہ :قولہ :(صح بیع العقار قبل قبضہ لا بیع المنقول):أي لا یجوز بیع المنقول قبل القبض ؛لما روینا ولقولہ علیہ الصلاۃوالسلام ((اذا ابتعت طعاما فلاتبعہ حتی تستوفیہ ))رواہ مسلم و أحمد ولأن فیہ غرر انفساخ العقد علی اعتبارالھلاک قبل القبض ؛لأنہ إذا ھلک المبیع قبل القبض ینفسخ العقد.

 (تبیین الحقائق :437/4)

قال العلامۃعلاءالدین رحمہ اللہ (ومنھا)القبض فی بیع المشتری المنقول فلا یصح بیعہ قبل القبض؛لما روي أن النبٖي  صلی اللہ علیہ وسلم (نھی عن بیع  ما لم یقبض).

(بدائع الصنائع :180/5)

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ :صح بیع عقار لا یخشی ھلاکہ قبل قبضہ لا بیع منقول بخلاف ھبتہ والتصدق بہ و إقراضہ من غیر بائعہ علی الأصح.(الدر المختار،ص427:)

 ارشاداحمدبن عبدالقیوم

دار الافتاء جامعۃالرشید ،کراچی

23ربیع الثانی1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ارشاد احمد بن عبدالقیوم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب