03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک مدرسہ کے لیے وقف شدہ زمین کی آمدن دوسرے مدرسہ پر خرچ کرنا
84173وقف کے مسائلمدارس کے احکام

سوال

ایک آدمی نے 1979 میں اپنے گاؤں میں خود مدرسہ قائم کیا اور اس کی ضروریات پوری کرنے کےلئے اپنا زرعی رقبہ وقف کیا اور وقف نامہ میں جو ہدایات تحریر کرائیں ان میں یہ بھی تحریر کیا کہ اراضی مذکورہ کو کسی بھی وقت مستقبل میں کسی اور ادارہ کے ماتحت نہیں کیا جائےگا، بلکہ اراضی مذکورہ تا قیامت اس مدرسہ کے تصرف میں رہے گی۔ اور مزید یہ بھی کہ آمدن اراضی صرف فلاح و بہبودمدرسہ مذکورہ میں استعمال ہو گی۔کچھ عرصہ بعد  وقف کرنے والا آدمی فوت ہو گیا اور اس کے رشتہ داروں نے اس وقف شدہ زمین پر قبضہ کر لیا تو انتظامیہ مدرسہ قبضہ چھڑانے کےلئے عدالت تک گئے، لیکن انتظامیہ مدرسہ قبضہ زمین چھڑا نہ سکی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک مولانا صاحب سے درخواست کی کہ آپ زمین کو چھڑ وادیں اور یہ مدرسہ چلائیں۔ مولانا صاحب نے بذریعہ عدالت رقبہ بازیاب کرالیا۔ اس کے بعد ایک عرصہ سے زمین کی آمدن کا کچھ حصہ گاؤں والے مدرسے پر اور بقیہ مولانا صاحب کے مدرسہ پر خرچ ہو رہا ہے اور کل آمدن ایک اندازے کے مطابق 94لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ مزید یہ کہ مولانا صاحب نے اراضی کی بازیابی کے ایک عرصہ کے بعد جب کہ  اس وقت وقف شدہ زمین کی آمدن ٹربائن نصب کروانے کے خرچ سے زیادہ حاصل ہو چکی تھی وہاں ایک ٹربائن نصب کروائی، مولانا صاحب کی وفات کے بعد اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ ٹربائن پر حق واقف کے ادارے کا ہے۔ کیونکہ مولانا صاحب نے ٹربائن اس وقت لگوائی تھی جب زمین سے ٹربائن لگانے کے خرچ سے زیادہ آمدن آچکی تھی۔ جبکہ مولانا صاحب کے ورثاءکا مطالبہ ہے کہ اگر اراضی کی آمدن کا حقدار وہی واقف کا مدرسہ ہے تو ٹر بائن پر حق بہر حال ہمارا ہے، کیونکہ مولانا صاحب نے اپنی ذاتی رقم سے ٹربائن لگوائی تھی۔ اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ اگر ٹر با ئن مولانا صاحب نے اپنی ذاتی رقم سے لگائی تھی تو ہمیں وقف زمین کی آمدن جو مولانا صاحب کے مدرسے میں پہنچی ہے وہ واپس کی جائے۔ اہل علاقہ کا مزید یہ کہنا ہے کہ مقدمے کی پیروی میں مولانا صاحب نے جو خرچ کیا تھا اور ٹر بائن لگانے کا خرچ اور مولانا صاحب نے اس گاؤں والے اپنےمدرسے پر جو رقم خرچ کی ہے۔ اس کو وقف شدہ زمین کی آمدن سے کاٹا جائے جو مولانا صاحب کے مدرسے میں پہنچی ہے اور بقیہ رقم ہمیں واپس کی جائے۔ مذکورہ وضاحت کے بعد درج ذیل باتوں کی شریعت کی روشنی میں راہنمائی مطلوب ہے۔ موقوفہ اراضی کی سابقہ آمدن اور موجودہ آمدن واقف کے ادارے کا حق ہے یا دوسرے ادارے پر بھی خرچ کی جاسکتی ہے؟ اگر آمدن اسی ادارے کا حق ہے تو اگر کہیں اور خرچ ہو چکی ہو تو واپس لینے کا حق ہے یا نہیں ؟یہ بھی بتایے کہ ٹر بائن پر کس کا حق ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اگر واقف نے مذکورہ اراضی اپنے مدرسہ کے لیے وقف کی تھی تو اس صورت میں اس زمین کی آمدن کسی اور مدرسہ پر خرچ کرنا جائز نہیں تھا، خصوصاً جبکہ سوال میں تصریح کے مطابق واقف نے وقف کرتے وقت باقاعدہ شرط بھی لگائی تھی کہ اس زمین کی آمدن اسی مدرسہ پر خرچ کی جائےاور واقف کا وقف کرتے وقت کوئی شرط لگانا شارع علیہ السلام کے حکم کی طرح ہے، یعنی جیسے شارع علیہ السلام کے حکم کا اتباع واجب ہے، اسی طرح واقف کی جائز شروط پر عمل کرنا بھی ضروری اور لازم ہے، لہذا واقف کی شرط کےموافق  اس زمین کی  آمدن پہلے مدرسہ پر ہی خرچ کی جائے گی اور اس کی جتنی آمدن دوسرے مدرسہ پر خرچ کی گئی ہے وہ اس مدرسہ کی انتظامیہ سے واپس لی جا سکتی ہے۔البتہ واپس لی جانے والی رقم میں سے وہ اخراجات منہا کیے جا سکتے ہیں جوسوال میں مذکور مولانا صاحب نے مدرسہ کی زمین  میں ٹربائن لگانے(بشرطیکہ یہ ٹربائن مدرسہ کے لیے لگوائی ہو، جیسا کہ سوال سے معلوم ہوتا ہے) اور مدرسہ کی وقف شدہ زمین کا قبضہ چھڑانے پر خرچ کی ہے، کیونکہ یہ اخراجات درحقیقت مدرسہ پر ہی خرچ کیے گئے ہیں، اس لیے وہ اخراجات مدرسہ کی رقم سے منہا کیے جا سکتے ہیں۔نیز اگر بالفرض دوسرے مدرسہ کی اتنی آمدن نہ ہو کہ جس سے پہلے مدرسہ کی رقم واپس کی جا سکے تو اس صورت میں فقہائے کرام رحمہم اللہ کی بعض عبارات سے وہ رقم واپس نہ لینے کی بھی گنجائش معلوم ہوتی ہے،خصوصا جبکہ پہلے مدرسہ کی آمدن کافی ہے۔ (کذا فی الھندیة والمحیط البرھانی والفتاوی الرحیمیة89/9:)

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 366) دار الفكر-بيروت:

 وكذا سيأتي في فروع الفصل الأول أن قولهم شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به قلت: لكن لا يخفى أن هذا إذا علم أن الواقف نفسه شرط ذلك حقيقة.

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 371) دار الكتب العلمية:

(اتحد الواقف والجهة وقل مرسوم بعض الموقوف عليه) بسبب خراب وقف أحدهما (جاز للحاكم أن يصرف من فاضل الوقف الآخر عليه) لانهما حينئذ كشئ واحد (وإن اختلف أحدهما بأن بنى رجلان مسجدين) أو رجل مسجدا ومدرسة ووقف عليهما أوقافا (لا) يجوز له ذلك.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 360) دار الفكر-بيروت:

(قوله: بأن بنى رجلان مسجدين) الظاهر أن هذا من اختلافهما معا أما اختلاف الواقف ففيما إذا وقف رجلان وقفين على مسجد (قوله: لا يجوز له ذلك) أي أي الصرف المذكور، لكن نقل في البحر بعد هذا عن الولوالجية مسجد له أوقاف مختلفة لا بأس للقيم أن يخلط غلتها كلها، وإن خرب حانوت منها فلا بأس بعمارته من غلة حانوت آخر؛ لأن الكل للمسجد ولو كان مختلفا لأن المعنى يجمعهما اهـ ومثله في البزازية تأمل. [تنبيه] قال الخير الرملي: أقول: ومن اختلاف الجهة ما إذا كان الوقف منزلين أحدهما للسكنى والآخر للاستغلال فلا يصرف أحدهما للآخر وهي واقعة الفتوى. اهـ.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (6/ 226) دار الكتب العلمية، بيروت:

في «فتاوي الفضلي» مال موقوف على سبيل الخير والفقراء ومرعياتهم ومال موقوف على المسجد الجامع، فاجتمعت من عليها ثم بانت للإسلام بائنة مثل حادثة اليوم، واحتيج إلى النفقة في تلك الحادثة، أما المال الموقوف على المسجد الجامع إن لم يكن للمسجد حاجة للحال فللقاضي أن يصرف في ذلك على وجه القرض فيكون دينا في مال الفيء، وأما المال الموقوف على الفقراء فإن صرف إلى المحتاجين أو إلى الأغنياء من أبناء السبيل جاز لا على وجه القرض؛ لأنه صرف إلى المصرف، بخلاف المال الموقوف على المسجد الجامع؛ لأنه صرف إلى غير المصرف فلا يجوز إلا بطريق القرض.

وإن صرف إلى الأغنياء من غير أبناء السبيل فإن رأى قاض من قضاة المسملين جواز ذلك جاز الصرف لا بطريق القرض لأن فيه اختلاف العلماء. نحن وإن قلنا: إنه لا يجوز ولكن لما رأى قاض من قضاة المسلمين جواز ذلك وصرف كان قضاء في موضع الخلاف، وإن لم يره قاض من قضاة المسلمين جواز ذلك يصرف على وجه القرض فيصير دينا في مال الفيء والله أعلم.

الفتاوى الهندية (2/ 464) دار الفكر، بيروت:

مال موقوف على سبيل الخير وعلى الفقراء بغير أعيانهم ومال موقوف على المسجد الجامع واجتمعت من غلاتها، ثم نابت الإسلام نائبة مثل حادثة الروم واحتيج إلى النفقة في تلك الحادثة، أما المال الموقوف على المسجد الجامع إن لم تكن للمسجد حاجة للحال فللقاضي أن يصرف في ذلك لكن على وجه القرض فيكون دينا في مال الفيء، وأما المال الموقوف على الفقراء فهذا على ثلاثة أوجه: إما أن يصرف إلى المحتاجين، أو إلى الأغنياء من أبناء السبيل، أو إلى الأغنياء من غير أبناء السبيل. في الوجه الأول والثاني جاز لا على وجه

القرض، وفي الوجه الثالث المسألة على قسمين: إما أن رأى قاض من قضاة المسلمين جواز ذلك أو لم ير ففي القسم الأول جاز الصرف لا بطريق القرض، وفي القسم الثاني يصرف على وجه القرض فيصير دينا في مال الفيء، كذا في الواقعات الحسامية.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

23/ربیع الثانی 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب