| 86443 | وصیت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
ایک شخص نے اپنی زندگی میں اپنے تین بیٹوں اور ایک یتیم پوتے کو کچھ جائیداد تقسیم کر کے دی، پھر اس نے مرنے سے پہلے وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد میرا یتیم پوتا بقیہ جائیداد میں بھی میرے بیٹوں کے برابر ہوگا، یعنی میرے بیٹوں کو میراث میں جتنا حصہ ملے گا، اتنا ہی حصہ میرے پوتے کو بھی دیا جائے۔ کیا پوتا اس وصیت کے مطابق حصے کا حق دار ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ شخص کے بیٹے موجود ہیں تو پوتے کے لیے کی گئی وصیت درست ہے، لہٰذا پہلے مرحوم کے پوتے کو حسبِ وصیت ایک بیٹے جتنا حصہ دیا جائے گا، بشرطیکہ یہ حصہ مرحوم کے (تجہیز و تکفین اور قرضوں کی ادائیگی کے بعد بچ جانے والے) کل مال کے ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو؛ کیونکہ وصیت ایک تہائی مال تک ہی نافذ ہوتی ہے، اس کے بعد باقی ترکہ مرحوم کے ورثا میں اپنے اپنے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔
حوالہ جات
الدر المختار (6/ 649):
( سببها ) ما هو ( سبب التبرعات وشرائطها كون الموصي أهلا للتمليك ) فلم تجز من صغير أو مجنون ومكاتب، إلا إذا أضاف لعتقه كما سيجيء ( وعدم استغراقه بالدين ) لتقدمه على الوصية كما سيجيء ( و ) كون ( الموصى له حيا وقتها ) تحقيقا أو تقديرا؛ ليشمل الحمل الموصى له، فافهمه، فإن به يسقط إيراد الشرنبلالية ( و ) كونه ( غير وارث ) وقت الموت…… الخ
حاشية ابن عابدين (6/ 649):
قوله ( وقت الموت ) أي لا وقت الوصية، حتى لو أوصى لأخيه وهو وارث، ثم ولد له ابن صحت الوصية للأخ، ولو أوصى لأخيه وله ابن، ثم مات الابن قبل موت الموصي، بطلت الوصية، زيلعي.
درر الحكام شرح مجلة الأحكام (4/ 128):
مادة 1601: إقرار المريض بعين أو دين لأجنبي، أي لمن لم يكن وارثه في مرض موته صحيح.
الشرح: وقد فسر لفظ "أجنبي" الوارد في هذه المادة بغير الوارث، وعليه فابن الابن - إذا وجد الابن - أجنبي بحسب هذا المعنى، وإقراره لابن ابنه معتبر، كما أن إقرار المسلم لزوجته النصرانية بمال في مرض موته معتبر من جميع ماله، كما أنه إذا أوصى لها بشيء، فيعتبر من ثلث ماله أيضا ( تكملة رد المحتار ) .
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
17/رجب المرجب/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


