03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
انبیاء سے متعلق فلم دیکھنے والے کا حکم
85795جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ایک ضروری مسئلہ سے متعلق راہنمائی فرمائیں ،کہ ہمارے ہاں ایک مولانا صاحب سے کسی نے مسئلہ دریافت کیا ،کہ آج کل انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے متعلق فلمیں منظر عام پر آرہی ہیں تو ان کے دیکھنے کا کیا حکم ہے؟ تو ان مولانا صاحب نے یہ جواب دیا : یہ دیکھنا حرام ہے اور اگربندے کو پتہ چل جائے کہ واقعتا یہ دیکھنا حرام ہے اس کے باوجود وہ دیکھ رہا ہے ،تو اس صورت میں اس بندے کا اگر نکاح ہے تو نکاح ٹوٹ جائے گا ،دائرہ اسلام میں وہ بندہ دوبارہ داخل ہوگا،اور اگر انجانے میں دیکھی تو توبہ کرے اور تجدید ایمان بھی ضروری کرے، جب کہ دوسری طرف ایک مولانا صاحب نے کہا کہ کفر کا تعلق اعتقاد سے ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس طرح کی فلم دیکھنے والے کا قصد(نعوذ باللہ)انبیاء کی توہین نہیں ہوتا ،وہ تو پکا اور سچا مسلمان ہوتا ہے البتہ ان گستاخوں اور بدبخت یہودیوں کے دام تزویر میں آگیا ۔

    اب آپ حضرات سے درخواست ہے کہ ہماری راہنمائی فرماویں کہ صحیح مسئلہ کیا ہے، کیا واقعتا ایسا شخص محض فلم دیکھنے سے کافر ہو جاتا ہے یا نہیں؟ امید واثق ہے توجہ فرماویں گے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

انبیاء علیہم السلام  کی سیرت ،واقعات اور غزوات پرمبنی فلموں کےمحض دیکھنے سے آدمی کافر نہیں ہوجاتاہے۔البتہ کارٹون یا انسانی کرداروں سے اس قسم کی فلمیں دیکھنایا دکھانا حرام ہے ۔

اگر واقعات کو کارٹون یا انسانی کرداروں سے بچتے ہوئے جھوٹ کی آمیزش کےبغیرصرف جائز مناظر کے ذریعے سمجھایاجائےتو جائزہوسکتاہے ۔

حوالہ جات

 قال العلامۃ بدر الدین رحمہ اللہ : ضابط ما يكفر به ثلاثة أمور: أحدها: ما يكون نفس اعتقاده كفرا؛ كإنكار الصانع، أو صفاته التي لا يكون صانعا إلا بها، وجحد النبوات.الثاني: صدور ما لا يقع إلا من كافر.الثالث: إنكار ما علم من الدين ضرورة؛ لأنه آيل إلى تكذيب الشارع.(مصابیح الجامع :5/322)

ارشاد احمدبن عبد القیوم 

دار الافتاءجامعۃالرشید ،کراچی

6/جمادی الثانیۃ 1446ھ    

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ارشاد احمد بن عبدالقیوم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب