| 85412 | قصاص اور دیت کے احکام | متفرق مسائل |
سوال
میں اورمیرابڑابھائی 15.9.24 کی شام اپنے کھیتوں کو پانی لگاکرگھرجارہےتھے کہ راستہ میں دوڈاکوآگئے،انہوں نے لوٹ مارکے دوران پیسے کم نکلنے پرگالیاں دیں،جس کی وجہ سے جھگڑاہوگیا،انہوں نے فائرنگ کرکے میرے بھائی کوقتل کردیا اورمجھے شدیدزخمی کردیا،پولیس بھی پہنچ گئی،شناخت ہونے پرپولیس نے ایک ڈاکوکوتوماردیا،مگردوسرے کوبارباراصرارکے باوجودگرفتارنہیں کیا،اب جب یہ ڈاکو میرے سامنے آتاہے تومجھ سے برداشت مشکل ہوجاتی ہے،پتہ یہ لگاہے کہ یہ پولیس کامخبرہے،معلوم یہ کرناہے کہ اگرمیں خوداس کوقتل کردوں تومیں آخرت میں مجرم تونہیں بنوں گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قصاص مقتول کے اولیاء کاحق ہے،لیکن براہ راست قصاص لینے کااختیارنہیں،قتل کرنے کا اختیارشریعت نے حاکم یااس کے نائب کودیاہے کہ وہ مقتول کے ورثہ کے مطالبہ پرقاتل کوقصاصاقتل کریں،اس لئے صورت مسؤلہ میں آپ کے لئے بھائی کے قاتل کوخودقتل کرناجائزنہیں،قانونی راستہ اختیارکریں،اگرعدالت یاسرکاراپنے فرائض میں کوتاہی کرتی ہے تواس کی وجہ سے آپ کےلئے قتل کرنے کاجواز پیدا نہیں ہوتا،یہ ذھن میں رکھیں اگردنیاکی عدالت میں انصاف نہیں ملاتوقیامت کے دن توضرورملے گااورجنہوں نے یہ انصاف دلانے میں غفلت کی توان سے بازپرس ہوگی۔
حوالہ جات
فی الفقه الإسلامي وأدلته (ج 7 / ص 599):
استيفاء القصاص بالسيف ونحوه قد يكون بالجلاد المتخصص إذا رغب عنه مستوفي القصاص، وقد يكون بنفس مستحق القصاص، فيمكَّن من السيف، ولكن بإشراف الحاكم؛ لأن المبدأ الشرعي المتفق عليه أن تنفيذ عقوبات الحدود والقصاص والتعزيرات يكون من اختصاص الإمام، فيشترط وجوده عند استيفاء العقوبة . وتعتبر مشاركة ولي الدم في القصاص سبيلاً لإطفاء لوعته وإزالة حقده، فتهدأ نفسه، ويوصد الباب أما م أسرته، كيلا تبادر إلى الاقتتال مع أسرة القاتل، قال الله تعالى: {ومن قُتِل مظلوماً فقد جعلنا لوليه سلطاناً فلا يسرف في القتل، إنه كان منصوراً} [الإسراء:33/17].
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۱۳/جمادی الاولی ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


