| 86531 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
بیوی کا اپنےخاوند کو اس کے نام کے ساتھ پکارنا کیسا ہے اور اس کا حکم کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیوی کے لیے شوہر کا احترام ضروری ہے اسی بنا پر بیوی کے لیے شوہر کا نام لے کر پکارنے کو فقہاءکرام نے نا مناسب فر ما یا ہے ، بیوی کو چاہیے کہ وہ شوہر کانام لے کرپکارنے کے بجائےاپنی طرف یا کسی بچہ یابچی کی طرف اس کی نسبت کرکےپکارا کرے جیسے محمد کے ابو وغیرہ۔ تا ہم اگر نام لے کر پکار لیا تو وہ نا جائز وحرام بہرحال نہیں ہے۔
حوالہ جات
قال الحصكفي رحمہ اللہ:(ويكره أن يدعو الرجل أباه وأن تدعو المرأة زوجها باسمه)
(الدر المختار : ص666)
قال ابن عابدین رحمہ اللہ:(قوله ويكره أن يدعو إلخ) بل لا بد من لفظ يفيد التعظيم كيا سيدي ونحوه لمزيد حقهما على الولد والزوجة، وليس هذا من التزكية، لأنها راجعة إلى المدعو بأن يصف نفسه بما يفيدها لا إلى الداعي المطلوب منه التأدب مع من هو فوقه.(حاشية ابن عابدين: 6/ 418)
محمد اسماعیل بن محمداقبال
دارالافتاء جا معۃ الرشید کراچی
21رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن محمد اقبال | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


