03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لوگوں سے مضاربت کے طور پر رقم لے کر آگے مضاربت پر لگانا
86124مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

میں نے 2015ء میں آٹھ  بندوں سے پیسے لیے اورعزیز الرحمن کے ساتھ فیملی بزنس (جس کی دکان بولٹن مارکیٹ میں تھی) میں انویسٹ کیے، جس کی تفصیل یوں ہے کہ %100میں سے   60 نفع انویسٹر کو ملے گا، 30 فیصد عزیز کو اور 10 فیصد مجھے بطور کمیشن  ملےگا۔ شروع میں عزیز نے مجھے اپنے بھائیوں کی  مشترک فیکٹری، دکان اور اپنا گھر دکھایا  اور کہا کہ ہم سب مشترک رہ رہے ہیں اور کاروبار بھی مشترک ہے، گھر کا راشن اور جملہ اخراجات کی رقم عزیز کی دکان سے نکالی جاتی تھی، میرے اعتراض پر عزیز کا جواب تھا کہ بھائیوں سے مشاورت ہوئی کہ تمام اخراجات عزیز کی دکان سے ادا کیے جائیں۔علی سبیل الفرض عزیز کی دکان میں نقصان ہوتا ہے تووہ  نقصان  بھائیوں کی دکان سے پورا کیا جائے گا، جو کہ مشترک ہے ۔ ان کے اشتراک  کی دلیل یہ ہے کہ 2016ء میں عزیز نے مزید انویسٹمنٹ کا یہ کہہ کر مطالبہ کیا کہ ہم نے سب سےبڑے بھائی کو اس دکان سے 20 لاکھ روپے دیے اور میراث کا حق ان کو دے کر اپنے کاروباراورگھرسے الگ کر دیا ہے اور 2017ء میں یہ کہہ کر مزید انویسٹ کا مطالبہ کیا کہ ہم نے اس دکان سے 14 لاکھ کی رقم بھائی اور امی کے حج پر لگائے۔ میری انویسٹمنٹ جب ایک کروڑ تک پہنچی اور انویسٹر پیسہ واپس کرنے  کا مطالبہ کرنے لگے تو عزیز نے یہ کہا کہ ہم سب مشترکہ رہ رہے ہیں اورکاروبار بھی اکٹھا ہے،آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، مردانہ کپڑوں کی فیکٹری ہے، بھائیوں کی مشترک دکان ہے، اگر اس سے بھی آپ  کے پیسے پورے نہ ہوئے تو جس گھر میں میں رہ رہا ہوں یہ گھر آپ کے لیے بیچ دوں گا اور آپ کے انویسٹر فارغ ہو جائیں گے۔ اب  2018ء میں جب انویسٹروں نے بہت زیادہ تنگ کیا اور معاملات جھگڑے تک پہنچ گئے، میں نے عزیز سے پیسہ واپس کرنے کا کہاتو عزیز کا جواب تھا وہ تو میں نے مختلف پارٹیوں یعنی قرضداروں کو دیےہیں، میں نےاس سے کاروبار نہیں کیا، یاد رہے عزیز ہی کے کہنے پر میں ان آٹھ انویسٹروں کو نفع  دے چکا ہوں ،2018ء  میں میں نے عزیز کو اپنے گھر بلایا اور کہا کہ یہ پیسے آپ کیسے ادا کریں گے؟  اس نے کہا کہ آپ کے پیسے دکان سے ادا نہیں ہوں گے،کراچی اور کراچی سے باہر مارکیٹوں میں میری ساڑھے تین کروڑ کی  ریکوری ہے  تو میں دکان سے باہر رہ کر ریکوری کر کے آپ کو دوں گا اور اس طرح انویسٹر فارغ ہو جائیں گے ۔

 میں نے عزیز کو اس کے ساتھ ساتھ ٹائل کا کام شروع کرنے کا کہا اور ایک بندے سے 35 لاکھ روپے لے کر ٹائل کا کام شروع کیا۔ 2018ءمیں میں نے عزیز سے کپڑوں کی دکان بندکرنے اورکام ختم کرنے کا کہا، عزیز نے کہا کہ میں نے اپنے چھوٹے بھائی کو برائے نام دکان میں بٹھا دیا ہے، تاکہ انویسٹر زگھر نہ آئیں، کیونکہ لوگ بھائی کو نہیں جانتے تھے  اور بالآخر ٹائل کا کام چھ مہینے چلنے کے بعد ختم ہوگیا۔ اسی دوران کپڑے کی دکان بھی 2019ءکے اوائل میں ختم کر دی گئی۔ اس کے بعد عزیز کے بقول ان کے چھوٹے بھائی کو بدکاری اور قمار جوا جیسے بری حرکتوں کی لت پڑی اور محلے کے مختلف لوگوں سے پیسے جوئے اور بدکاری میں ہار بیٹھا، عزیز الرحمن اس خارجی نقصان کو بھی دکان پر ڈالتا ہے۔مجھے اس چیز کا علم نہیں تھا،  بعد میں عزیز نے  مجھے یہ ساری تفصیل بتائی، اب پوچھنا ہے:

سوال یہ ہے کہ مندرجہ بالا تفصیل کے تناظر میں عزیز الرحمن کے بھائی مجھے پیسے دینے کے ذمہ دار ہیں یا نہیں؟ جبکہ میرا پیسہ مشترک  کاروبار میں لگا ہے اور اسی كاروباورسے ان  کے گھرکا راشن اور ان کے بھائی اور والدہ کے  حج اور عمرہ کے اخراجات ادا کیے گئے اور اسی میں سے ایک بھائی کو کاروبا ر سےعلیحدہ کرنے پر بیس لاکھ روپیہ ادا کیا گیا۔ایک تخمینہ کے مطابق عزیز کے  بقول ڈیڑھ لاکھ روپے کا ماہانہ راشن اس دکان سے استعمال ہوتاتھا  ۔جو چیزیں عزیز نے شروع میں دکھائی تھیں، تاکہ میں انویسٹ کی جرات کر سکوں وہ تمام چیزیں اب بھی موجود ہیں، بھائیوں کی مشترک فیکٹری،  دکان اور گھر وغیرہ۔ اس تفصیل کے تناظر میں عزیز کے بھائی مجھے پیسے دینے کی ذمہ دار ہیں یا نہیں؟

دوسرا سوال یہ کہ میں نے کئی لوگوں سے رقم قرض لے کر انویسٹروں کو ان کی رقم ادا کی ہے اور یہ رقم عزیز کے کہنے پر لی ہے، کیا اس رقم کی ادائیگی کا ذمہ دار صرف میں ہوں گا یا عزیز بھی اس کا ذمہ دار ہو گا؟

تیسرا سوال یہ ہے کہ %10 میرا کمیشن عزیز نے ابھی تک نہیں دیا، کیا شرعا %10کمیش کاری میں عزیز سے لے سکتا ہوں؟ عزیز کے بقول ان کے چھوٹے بھائی کو بدکاری اور قمار جوا جیسے بری حرکتوں کی لت پڑی اور محلے کے مختلف لوگوں سے پیسے جوئے اور بدکاری میں ہار بیٹھا، عزیز الرحمن اس خارجی نقصان کو بھی دکان پر ڈالتا ہے۔مجھے اس چیز کا علم نہیں تھا،   نیزسائل نے بتایا کہ کاروبار میں نفع بھی ہوا تھا، جو ہم نے انویسٹروں کو دیا ہے۔

وضاحت: سائل نے بتایا کہ میں نے لوگوں سے مضاربت کے طور پر  لیتا تھا اور وہ عزیز کے ساتھ کاروبار میں لگاتا تھا اور اس بات کا لوگوں کو بھی علم تھا کہ  یہ رقم کہا ں انویسٹ کی جا رہی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔صورتِ مسئولہ میں عزیز اور اس کے بھائیوں کے مشترکہ کاروبار کا ثبوت اصولی طور پر ان کے آپس کے معاہدے پر موقوف ہے، اگر ان سب  بھائیوں کے درمیان شرکت کا معاہدہ ہوا ہو تو یہ سب کاروبار مشترکہ شمار ہو گا اور عزیز کے بھائی بھی آپ کی رقم ادا کرنے کے پابند ہوں گے اور اس صورت میں آپ کا ان سے مطالبہ کرنا درست ہے، لہذا اگر عزیز کی گفتگواور دیگرقرائن کی روشنی میں آپ کا دعوی ہے کہ ان سب بھائیوں کا کاروبار مشترکہ ہے تو ایسی صورت میں اصولِ قضاء کے مطابق فیصلہ ہو گا، جس کا طریقہ یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس ان بھائیوں کے مشترکہ کاروبار کے معاہدہ پر گواہی کوئی بھی معتبرثبوت موجود ہو تو ٹھیک، ورنہ دیگر بھائیوں سے قسم لی جائے گی کہ وہ سب عزیز کے ساتھ کاروبار میں شریک نہیں ہیں، اگر وہ قسم اٹھا لیں تو آپ کا ان سے مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہو گا، البتہ اگر وہ قسم نہ اٹھائیں تو ایسی صورت میں ان کا یہ کاروبارشرعاً مشترکہ سمجھا جائے گا۔ اس کے علاوہ جہاں تک عزیز کے گھر بھیجے جانے والے راشن اور والدہ وغیرہ کو حج کے لیے دی جانے والی رقم  کا تعلق ہے تو اس طرح کے قرائن سے شرکت ثابت نہیں ہو سکتی۔

مجلة الأحكام العدلية (ص: 254) الناشر: نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، كراتشي:

المادة (1330) ركن شركة العقد الإيجاب والقبول لفظا أو معنى. مثلا إذا أوجب أحد بقوله لآخر: شاركتك بكذا درهما رأس مال للأخذ والإعطاء وقبل الآخر بقوله قبلت فبما أنهما إيجاب وقبول لفظا فتنعقد الشركة , وإذا أعطى أحد ألف درهم لآخر وقال له: ضع أنت ألف درهم عليها واشتر مالا وفعل الآخر مثل ما قال له فتنعقد الشركة لكونه قبل معنى.

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام(341/3)الناشر: دار الجيل:

وإذا أعطى أحد ألف درهم لآخر وقال له: ضع أنت ألف درهم عليها واشتر كذا نوعا مالا وبعه على أن يكون الربح بيننا مشتركا بكذا نسبة وفعل مثل ما قال له أي وضع أيضا ألف درهم واشترى مالا فيكون قد قبل معنى وفي هذه الصورة يكون قد وقع  الإيجاب لفظا والقبول معنى وانعقدت بينهما شركة عنان.

2۔ صورتِ مسئولہ میں چونکہ یہ رقم اصل میں عزیز کے ذمہ واجب الاداء تھی اورآپ نے یہ قرض انویسٹروں کو دینے کے لیےاس کے کہنےپر لی تھی اس لیے اس قرض کے عوض آپ عزیز سے اتنی رقم وصول کر نے کا حق رکھتے ہیں، مگر جن لوگوں سے آپ نے یہ قرض لیا ہے ان کا قرض ادا کرنا آپ ہی کےذمہ لازم ہے۔ [1]

حاشية ابن عابدين على الدر المختار (5/ 167) الناشر: دار الفكر-بيروت:

والحاصل: أن التوكيل بالإقراض جائز لا بالاستقراض والرسالة بالاستقراض تجوز، ولو أخرج وكيل الاستقراض كلامه مخرج الرسالة يقع القرض للآمر، ولو مخرج الوكالة بأن أضافه إلى نفسه يقع للوكيل وله منعه عن آمره اهـ.

قلت: والفرق أنه إذا أضاف العقد إلى الموكل بأن قال إن فلانا يطلب منك أن تقرضه كذا صار رسولا والرسول سفير ومعبر بخلاف ما إذا أضافه إلى نفسه بأن قال: أقرضني كذا أو قال: أقرضني لفلان كذا، فإنه يقع لنفسه، ويكون قوله لفلان بمعنى لأجله، وقالوا إنما لم يصح التوكيل بالاستقراض، لأنه توكيل بالتكدي وهو لا يصح.

قلت: ووجهه أن القرض صلة وتبرع ابتداء فيقع للمستقرض إذا لا تصح النيابة في ذلك فهو نوع من التكدي بمعنى الشحاذة هذا ما ظهر لي.

درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 284) الناشر: دار إحياء الكتب العربية:

(التوكيل بالاستقراض باطل) حتى لا يثبت به الملك؛ لأن تفويض التصرف في ملك الغير لا يجوز ونقض بالتوكيل بالشراء فإنه بقبض المبيع، وهو ملك الغير وأجيب بأن التصرف في ملك الغير إنما لا يجوز إذا لم يكن بعوض وفي التوكيل بالشراء عوض فافترقا (لا الرسالة) فإنها غير باطلة لانتفاء التصرف فيها؛ لأن الرسول سفير محض، وقد مر أن التوكيل بالإقرار صحيح؛ لأن تفويض التصرف في ملكه.

3۔ شرکت کا اصول یہ ہے کہ اگر کاروبار میں بغیر تعدی اور کوتاہی کے نقصان ہو جائے تو سب سے پہلے اس کو نفع سے پورا کیا جاتا ہے، اگر نفع سے نقصان پورا نہ ہو تو پھر اس کو اصل سرمایہ سے پورا کیا جاتا ہے،  البتہ اگر کسی شریک کی تعدی اور کوتاہی کی وجہ سے نقصان ہو تو ایسی صورت میں وہی  شریک مکمل نقصان کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ لہذا مذکورہ کاروبار میں اگر واقعتاً نقصان دوسرے فریق کی تعدی، کوتاہی یا غفلت کی بنیاد پر ہوا ہے  جیسا کہ سوال کے شروع میں ذکر کی گئی تفصیل سے معلوم ہوتا ہےتو  ایسی صورت میں آپ عزیز سے اصل سرمایہ سمیت اپنے دس فیصدنفع کا مطالبہ کر  سکتے ہیں، کیونکہ یہ نقصان نفع کے حصول کے بعد ہوا ہے۔

1نیز فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ استقراض یعنی قرض لینے کے معاملے میں توکیل درست نہیں، اس لیے شرعی اعتبار سے استقراض میں قرض لینے والا ہی اس کی ادائیگی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 263) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

المادة (1369) الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال بنسبة مقدار رءوس الأموال , وإذا شرط خلاف ذلك فلا يعتبر.

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام(389/3)الناشر: دار الجيل:

الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال أي أنه لو شرط خلاف ذلك سواء في الشركة الصحيحة أو الفاسدة، بنسبة مقدار رءوس الأموال وإذا شرط انقسامها على وجه آخر فلا يعتبر أي أن شرط تقسيم الوضيعة والخسارة على وجه آخر باطل حيث قد ورد في الحديث الشريف «الربح على ما شرطا والوضيعة على قدر المالين» (مجمع الأنهر) من غير فصل بين التساوي والتفاضل (الدر المنتقى) .

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 205) دار احياء التراث العربي – بيروت:

"فإذا دفع رب المال مضاربة بالنصف وأذن له بأن يدفعه إلى غيره فدفعه بالثلث وقد تصرف الثاني وربح، فإن كان رب المال قال له على أن ما رزق الله فهو بيننا نصفان فلرب المال النصف وللمضارب الثاني الثلث وللمضارب الأول السدس" لأن الدفع إلى الثاني مضاربة قد صح لوجود الأمر به من جهة المالك ورب المال شرط لنفسه نصف جميع ما رزق الله تعالى فلم يبق للأول إلا النصف فيتصرف تصرفه إلى نصيبه وقد جعل من ذلك بقدر ثلث الجميع للثاني فيكون له فلم يبق إلا السدس..............ولو كان قال له فما ربحت من شيء فبيني وبينك نصفان وقد دفع إلى غيره بالنصف فللثاني النصف والباقي بين الأول ورب المال" لأن الأول شرط للثاني نصف الربح وذلك مفوض إليه من جهة رب المال فيستحقه. وقد جعل رب المال لنفسه نصف ما ربح الأول ولم يربح إلا النصف فيكون بينهما.

 الفتاوى الهنديةکتاب المضاربۃ،ج4،ص299،ط:دار الفکر،بيروت:

"ولو استهلك المضارب الآخر المال أو وهبه كان الضمان على الآخر خاصة دون الأول لأنه في مباشرة هذا الفعل مخالف لما أمره الأول فيقتصر حكمه عليه."

محمد نعمان خالد

دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی

یکم رجب المرجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب