| 86257 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
میرے والد صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ نے کوٹ ادو شہر کی زمین فروخت کر کے ایک دیہات میں مین روڈ کے قریب اس نیت سے زمین خرید کی تھی کہ مسجد ومدرسہ بنائیں گے ، پھر اس سارے کاموں کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی، زمین خرید کر اس کے دو حصے کیے، ایک حصہ مدرسے ومسجد کے لیے،جبکہ دوسرا حصہ اپنی اور اولاد کی رہائش کے لیے،پھر پہلے حصے میں مسجد کے لیے جگہ بھی متعین کر دی۔ ابھی بنایا کچھ نہیں تھا کہ کچھ حالات کی بناء پر وہ ساری زمین بیچ کر ملتان شہر کے قریب زمین خرید کر کے وہاں مدرسہ ومسجد بنانے کا فیصلہ کرنے لگے۔ زمین ابھی بکی نہیں تھی کہ پھر پہلی جگہ سے منتقل ہونے کا ارادہ منسوخ کر دیا اور پہلے والے ارادے پر فیصلہ کر دیا، کیونکہ سب کچھ مجھ پر چھوڑا تھا اور کئی وجوہ کی بنا پر میں اس کام کو شروع نہ کرسکا ، البتہ زمین خرید کرنے کے بعد رہائش والے حصہ میں ایک مکان والدین کے لیے بنا لیا تھا، باقی جگہ خالی پلاٹ ہے ابھی دیوار وغیرہ سے کوئی حد بندی بھی نہیں کی گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا حضرت والد صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کی وراثت مکمل زمین سے تقسیم ہوگی یا اس حصہ سے جو رہائش کے لیے متعین ہوا تھا اور بقیہ حصہ مسجد شمار ہو گی؟ نیزمدرسہ کی جگہ کا حکم کیا ہوگا؟
وضاحت: سائل نے بتایا کہ مسجد کی بنیادوں کی کھودائی کر لی گئی تھی، مدرسہ کی جگہ کی صرف پیمائش کی تھی، نشانات نہیں لگائے تھے، البتہ ہمارے عرف میں جب اس طرح کوئی شخص مدرسہ وغیرہ کے لیے جگہ دے تو اس کو وقف ہی سمجھا جاتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطورتمہیدجاننا چاہیے کہ اگر کوئی شخص مسجد، مدرسہ یا کسی اور وقف کے لیے محض جگہ کی تعیین کرےباقاعدہ زبانی یا تحریری طور پر لفظِ وقف نہ کہے تو ایسی صورت میں فقہائے کرام رحمہم اللہ کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس شخص نے وہ جگہ مستقل طورپر مسجد یا مدرسہ وغیرہ کے لیے مختص کر دی ہو اورزبان سے ایسے الفاظ بھی کہہ دیے ہوں جو عرف میں وقف پر دلالت کرتے ہوں، جیسے وقف کرنے کی نیت سے یہ کہنا کہ میں نے یہ جگہ مسجد کے لیے مختص کر دی یا ا س جگہ کو میں نے مسجد بنا دیا تو ایسی صورت میں وہ جگہ وقف شمار ہو گی، کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ اگر کسی شخص نے کہا "ضيعتي هذه للسبيل" یعنی میری یہ زمین اللہ کے راستے کے لیے ہے تو ایسی صورت میں اگر یہ جملے عرف میں وقف کے لیے استعمال ہوں تو یہ زمین وقف ہو جائے گی۔لیکن اگر اس نے فی الحال اس جگہ کو وقف کرنے کی نیت نہ کی ہو، بلکہ مسجد ومدرسہ وغیرہ بنانے کے ارادے سے محض جگہ کی تعیین وتحدید کی ہو، جیسے نئی کالونیوں (Colonies) اور ٹاؤنز(Towns) وغیرہ میں نقشہ جات بناتے وقت مسجد بنانے کے ارادے سے جگہ متعین کر دی جاتی ہے تو ایسی صورت میں محض زمین کی تعیین اور حد بندی کرنے سے یہ جگہ شرعاً مسجد وغیرہ کے لیے وقف شمار نہیں ہو تی۔
لہذاسوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق جب آپ کے والد صاحب نے یہ بات کہی کہ یہ جگہ مسجد کے لیے ہے اور پھر ان کی زندگی میں مسجد کی بنیادیں بھی کھود لی گئیں تو یہ جگہ عملی طور پر مسجد کے لیے مختص ہو گئی، اس لیے اس جگہ کو شرعاً مسجد کے لیے وقف شمار کیا جائے گا، اسی طرح مدرسہ کی جگہ کی تعیین کرنے کے ساتھ ساتھ جب انہوں نے یہ کہہ دیا کہ یہ جگہ مدرسہ کے لیے ہے اور آپ کے عرف میں بھی اس طرح کہنے کو مدرسہ کے لیے وقف سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہ جگہ مدرسہ کے لیے وقف ہو گئی، لہذا ان دونوں جگہوں میں وراثت کے احکام جاری نہیں ہوں گے، البتہ ان کے علاوہ رہائش کے لیے مختص جگہ آپ کے والد صاحب کے ترکہ میں شامل ہو کرتمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گی۔
حوالہ جات
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (6/ 109) دار الكتب العلمية، بيروت:
وإذا قال: أرضي هذه للسبيل ولم يزد على هذا، فيه تفصيل: فإن كان هذا الرجل من قوم هذا اللفظ في متعارفهم: وقف، وإن لم يكن من قوم تعارفهم أن هذا وقف، يسأل عنه إن أراد به الوقف فوقف وإن أراد به الصدقة فهو صدقة فيتصدق بعينها أو بثمنها، وذكرنا في المسألة المتقدمة وهو ما إذا قال: جعلت أرضي هذه للفقراء ولم ينو شيئا أنه يكون نذرا ولا فرق بينهما؛ لأنه إذا صار نذرا، فإذا مات يصير ميراثا عند هذه الجملة في الباب الأول من «الواقعات» . وفي هذا الموضع أيضا إذا قال: ضيعتي هذه للسبيل، فلم يزد على هذا لم يصر وقفا، إلا إذا كان القائل في ناحية يفهم أهل تلك الناحية بها الوقف المؤبد بشرائطه؛ لأن المطلق ينصرف إلى المتفاهم فيصير كالتصريح بالوقف وفي هذا الموضع أيضا إذا قال: اشتروا من غلة داري هذه كل شهر بعشرة دراهم حرا وفرقوا على المساكين صارت الدار وقفا؛ لأن هذا لفظ يودي معنى الوقف، فصار كما قال: وقفت داري هذه بعد موتي على المساكين.
الفتاوى الهندية (2/ 359) الناشر: دار الفكر، بيروت:
ولو قال: أرضي هذه للسبيل فإن كان في بلدة تعارفوا مثل هذا وقفا صارت الأرض وقفا وإن لم يتعارفوا يسأل منه إن أراد به الوقف فهي وقف وإن نوى الصدقة أو لم ينو شيئا تكون نذرا فيتصدق بها أو بثمنها وكذلك لو قال: جعلتها للفقراء إن كان ذلك وقفا في تعارف تلك البلدة كانت وقفا وإن لم يرجع إليه بالبيان فإن نوى وقفا كانت وقفا وإن نوى صدقة أو لم ينو شيئا تكون نذرا بالتصدق كذا في المحيط السرخسي.
لو قال: ضيعتي هذه للسبيل لم تصر وقفا إلا إذا كان القائل من ناحية يعلم أهل تلك الناحية بها الوقف المؤبد بشروطه كذا في السراجية.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 20) الناشر: دار احياء التراث العربي – بيروت:
"وإذا بنى مسجدا لم يزل ملكه عنه حتى يفرزه عن ملكه بطريقه ويأذن للناس بالصلاة فيه، فإذا صلى فيه واحد زال عند أبي حنيفة عن ملكه" أما الإفراز فلأنه لا يخلص لله تعالى إلا به، وأما الصلاة فيه فلأنه لا بد من التسليم عند أبي حنيفة ومحمد............. "وقال أبو يوسف: يزول ملكه بقوله جعلته مسجدا" لأن التسليم عنده ليس بشرط؛ لأنه إسقاط لملك العبد فيصير خالصا لله تعالى بسقوط حق العبد وصار كالإعتاق.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 219) الناشر: دار الكتب العلمية:
وأجمعوا على أن من جعل داره أو أرضه مسجدا يجوز، وتزول الرقبة عن ملكه لكن عزل الطريق وإفرازه والإذن للناس بالصلاة فيه، والصلاة شرط عند أبي حنيفة ومحمد، حتى كان له أن يرجع قبل ذلك، وعند أبي يوسف تزول الرقبة عن ملكه بنفس قوله: جعلته مسجدا، وليس له أن يرجع عنه على ما نذكره.
بداية المبتدي (ص: 129) الناشر: مكتبة ومطبعة محمد علي صبح – القاهرة:
وإذا بنى مسجدا لم يزل ملكه عنه حتى يفرزه عن ملكه بطريقه ويأذن للناس بالصلاة فيه فإذا صلى فيه واحد زال عند أبي حنيفة رحمه الله عن ملكه وقال أبو يوسف يزول ملكه بقوله جعلته مسجدا.
النتف في الفتاوى للسغدي (1/ 524) مؤسسة الرسالة بيروت:
أحدها أن يجعل الرجل داره وارضه مسجدا لله واشهد على ذلك فاذا اذن وأقيم فيه الصلاة في الجماعة فقد صار مسجدا وخرج من ملكه في قول الفقهاء.
وقال الشيخ إذا قال جعلته مسجدا أو كان يقر بذلك فقد صار مسجدا وإن لم يشهد على ذلك وإن لم يصل فيه ولم يؤذن ولم تقم فيه الصلاة وأفضل ذلك أن يبنيها كما يبنى المسجد.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (3/ 329) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:
(ومن بنى مسجدا لم يزل ملكه عنه حتى يفرزه عن ملكه بطريقه ويأذن بالصلاة فيه وإذا صلى فيه واحد زال ملكه) وهذا عند أبي حنيفة ومحمد.............. وقال أبو يوسف - رحمه الله - يزول ملكه بقوله جعلته مسجدا لأن التسليم عنده ليس بشرط لأنه إسقاط لملك العبد فيصير خالصا لله بسقوط حق العبد وصار كالإعتاق.
محمد نعمان خالد
دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی
6/رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


