| 86104 | نان نفقہ کے مسائل | بیوی کا نان نفقہ اور سکنہ ) رہائش (کے مسائل |
سوال
سوال: اگر شوہر اپنی بیوی کو رہائش فراہم نہ کرے بلکہ خود اسکے گھر میں رہے تو کیا بیوی اس سے رہائش دینے کا مطالبہ کر سکتی ہے،یا مکان کا کرایہ مانگ سکتی ہے اور اگر شوہر اس پر راضی نہ ہو تو کیا وہ گناہگار ہو گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیوی کوالگ رہائش(عام گھرسےالگ کمرہ)دیناچونکہ شوہرپرشرعالازم ہے،لہذا بیوی شوہر سےالگ رہائش کامطالبہ کرسکتی ہے،جہاں تک شوہرسےکرایہ وصول کرنےکی بات ہےتومیاں بیوی باہمی رضامندی سےشوہرکی استطاعت کےمطابق کرایہ طے کرسکتےہیں۔اگرشوہرراضی نہ ہواورمالی استطاعت ہو نےکےباوجود الگ رہائش کابندوبست نہ کرےتوگناہگارہوگا،بیوی اگرمالی طورپراستطاعت رکھتی ہوتو اس کااخلاقی فرض بنتاہےکہ شوہر سےکرایہ کامطالبہ نہ کرے۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية "11 / 413:الفصل الثاني في السكنى تجب السكنى لها عليه في بيت خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك كذا في العيني شرح الكنز۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
27/جمادی الثانیہ 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


