03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدنےاپناگھرامانتابیٹےکےنام کیااورگواہ بھی بنالیےتواپنی زندگی میں واپس لےسکتاہے۔
85824امانتا اور عاریة کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

 سوال:میں (سہیل احمد ولد محمدزکی)نے1996 میں اپنےگھریلوناچاقی کی وجہ سےاپناگھرامانتا اپنےبیٹےکےنام کردیاتھا،بیٹےاوردونوں گواہوں کوآگاہ کردیاتھاکہ یہ میں امانتا تمہارےنام کررہاہوں،گھرکاقبضہ اورکاغذات بھی میرےپاس ہیں،اور پراپرٹی ٹیکس بھی میں ہی اداکرتاہوں۔

اس وقت میں میں بیمارہوں اورکینسر کامریض ہوں،علاج کےلیےخطیررقم کی ضرورت ہوتی ہے،اس کےعلاوہ دیگرحقداروں کوبھی حق دیناچاہتاہوں،میرابیٹامجھ سےکوئی تعلق نہیں رکھتا،نہ ہی اس بیماری کی حالت میں مجھے پوچھتاہے،میں چاہتاہوں گھرواپس لےلوں،کیابیٹےکوانکارکرنےکاشرعی حق ہے؟اس سلسلےمیں میری راہنمائی فرمائیں۔

نیز:میراایک بیٹااوردوبیٹیاں ہیں،تینوں پہلی بیوی سےہیں(جن سےبچوں کےبچپن میں ہی طلاق ہوگئی تھی)پھرمیں نےدوسری شادی کرلی ،لیکن دوسری بیوی سےکوئی بچےنہیں ۔

1994میں دوسری بیوی اورسسرال والوں سےروزمرہ کےمسائل پرشدیدلڑائی ہوئی تھی،میں نےسوچاکہ بیوی کےانتقال کےبعد(چونکہ اس کےبچےنہیں ہیں)اس کاحصہ سالےاور سالوں کوچلاجائےگا،لہذا بیوی کےلیےعلیحدہ چھوٹاگھر خریدکر،اس کےنام کیا،جبکہ بڑاگھرامانتا بیٹےکےنام کردیا۔

بیٹااس وقت 20 سال کاتھااورکالج میں پڑھتاتھااورمجھےقابل بھروسہ لگتاتھا،اس لیےگھربیٹےکےنام کیاتھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں چونکہ والدنےاپناگھربیٹےکےنام امانتاکیاتھا،اس امانت پرگواہ بھی بنالیےتھے،بیٹےکوبھی پتہ ہےکہ والدنےیہ گھربطورامانت اس کےنام کیاہے،امانت سےمتعلق شرعاحکم یہ ہےکہ جس کےپاس امانت  رکھی جائے،اس کی ملکیت نہیں ہوتی،بلکہ امانت رکھوانےوالےہی کی ملکیت ہوتی ہے،اورواپس لینےکابھی شرعااختیار ہوتاہے،لہذاوالداپنی زندگی میں  گھر بیٹےسے واپس لےسکتاہے،شرعاا س میں حرج نہیں ہوگا،بیٹاکسی صورت میں اس گھرکی واپسی کاانکارنہیں کرسکتا۔

حوالہ جات

"الدر المختار للحصفكي"5 / 227:

كتاب الايداع لا خفاء في اشتراكه مع ما قبله في الحكم وهو الامانة (هو) لغة: من الودع: أي الترك.

وشرعا: (تسليط الغير على حفظ ماله صريحا أو دلالة) كأن انفتق زق رجل فأخذه رجل بغيبة مالكه ثم تركه ضمن لانه بهذا الاخذ التزم حفظه دلالة.

بحر (والوديعة ما تترك عند الأمين) وهي أخص من الامانة كما حققه المصنف وغيره. (وهي أمانة) هذا حكمها مع وجوب الحفظ والاداء عند الطلب واستحباب قبولها

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

06/جمادی الثانیہ 1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب