| 86309 | حدیث سے متعلق مسائل کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
1۔ہمارے علاقے میں چڑیوں اور دیگر پرندوں کا شکار زیادہ تر بارہ بور بندوق سے کیا جاتا ہے، جس کا کار توس نو کیلا نہیں ہو تا، بلکہ اس میں چھوٹے چھوٹے گول چھرے ہوتے ہیں، لہذا وہ شکار کو چھید تے نہیں، بلکہ دباتے ہیں، ایسی صورت کے بارے میں فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر شکار ذبح کرنے سے پہلے مر گیا تو حلال نہیں ہو گا، کیوں کہ اس کا خون نہیں بہا، جبکہ دوسری طرف مشاہدہ یہ ہے کہ بارہ بورسے کیا گیا شکار خون میں لت پت نظر آتا ہے،عین ممکن ہے کہ چھروں کے رگوں کو دبوچنے کی وجہ سے رگوں کے پھٹنے سے خون نکلتا ہو تو حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی روایت (ما ٲنهر الدم وذکر اسم اللہ علیہ) کا تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی طرح سے شکار کا خون نکل کر بہ جائے تو وہ حلال ہو، اس لحاظ سے بارہ بور بندوق سے کیا ہو اشکار بھی حلال ہونا چاہیے، کیوں کہ خون تو بہر حال اس کا بھی بہا ہوتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟
2۔دوسراسوال یہ ہے کہ کار توس کے فائر کے نتیجے میں چڑیوں کی ایک بڑی تعداد ڈھیر ہو جاتی ہے، جس میں بہت کم چڑیوں کو ذبح کیا جاسکتا ہے، جب کہ اکثر چڑیاں ذبح کرنے سے پہلے ہی مر جاتی ہیں، اس مسئلے میں عموم بلوی پایا جار ہا ہے،عوام تو ایک طرف خواص بھی ذبح اضطراری کا حکم لگا کر ایسے پرندوں کو کھارہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ بارہ بور بندوق کے شکار کو"المنخنة والموقوذة" پر قیاس کر کے حرام قرار دینے کے بجائے عموم بلوی اور عرف کی وجہ سے اس کو حلال قرار دیا جا سکتا ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق بارہ بور بندوق کے چھرے چونکہ گول ہوتے ہیں اور گول چھرا لگنے سے پرنده چھرے كے ثقل یعنی بوجھ اور دبانے کی وجہ سے زخمی ہوتا ہے، جبکہ شرعی اعتبار سے ذبح اختیاری ہویا اضطراری (شکارکرنا بھی ذبح اضطراری میں شامل ہے) بہردوصورت ایسی چیز سے درست ہوتا ہے جو تیز اور دھاری دار ہو، خواہ وہ لوہے کی کوئی چیز ہو یا لکڑی اور پتھر کا ٹکڑا ہو۔ لیکن اگر وہ چیز دھاری دار اور کاٹنے والی نہ ہو تو ایسی صورت میں جانوراور پرندہ حلال نہیں ہوتا، بلکہ بدستور حرام رہتا ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں بارہ بور بندوق سے کیے گئے شکار کو اگر گرنے کے بعد دوبارہ چھری وغیرہ سے ذبح نہیں کیا گیا تو یہ پرندہ حرام ہو گا اور اس کا کھانا ناجائز اور کبیرہ گناہ ہو گا۔
جہاں تک سوال میں ذکر کی گئی حدیث کا تعلق ہے تو اس کا جواب یہ کہ اس روایت میں بھی دھاری دار چیز ہی مراد ہے، ہرخون بہانے والی چیز مراد نہیں، چنانچہ ایک اور حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوڑائی کے بل تیر لگنے سے شکار مر جانے کی صورت میں اس کو کھانے سے منع فرمایا۔ لہذا اس حدیث سے ہرخون بہانے والی چیز کے ذریعہ ذبح کے جواز پر استدلال کرنا درست نہیں، کیونکہ شرّاح حدیث نے اس روایت سے غیر دھاری دار آلہ کے ذریعہ ذبح اور شکار کے جواز پر استدلال نہیں کیا، یہاں تک کہ مذاہب اربعہ یعنی حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ شرعاً ذبح کے درست ہونے کے لیے دھادی دار آنے کا ہونا ضروری ہے، ورنہ ذبیحہ اور شکار حلال نہیں ہو گا۔
2۔عرف اور عمومِ بلوی کی وجہ سے کسی صریح متفق علیہ چیز کو حلال قرار نہیں دیا جا سکتا، خصوصاً جبکہ نص یعنی حدیثِ پاک میں بھی اس کی حرمت ثابت ہوتی ہے اور اصولیین نے یہ اصول بیان فرمایا ہے:
" وجه التخفيف عموم البلوى والضرورة وهي توجب التخفيف فيما لا نص فيه."
(تبيين الحقائق وحاشية الشلبي :1/ 75)
ترجمہ: کسی بھی شرعی حکم میں عموم بلوی اور ضرورت کی وجہ سے تخفیف ہوتی ہے اور یہ دونوں چیزیں ان مسائل میں تخفیف کو واجب کرتی ہیں جن میں نص وارد نہ ہوئی ہو۔
لہذا مذکورہ صورت میں ایسے پرندےجو گول چھرے لگنے کی وجہ سے زمین پر گرے اور وہ ذبح کرنے سے پہلے مرگئے تو عمومِِ بلوی اور تعامل کی وجہ سے بھی ان کو حلال قرار دیا جا سکتا، بلکہ ان کا حکم طبعی موت مرنے والے پرندوں کی طرح حرمت والا ہی ہو گا۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (7/ 86) دار طوق النجاة:
عن عدي بن حاتم رضي الله عنه، قال: قلت: يا رسول الله، إنا نرسل الكلاب المعلمة؟ قال: «كل ما أمسكن عليك» قلت: وإن قتلن؟ قال: «وإن قتلن» قلت: وإنا نرمي بالمعراض؟ قال: «كل ما خزق، وما أصاب بعرضه فلا تأكل»
سنن أبي داود ت الأرنؤوط (4/ 442) الناشر: دار الرسالة العالمية:
عن جده رافع بن خديج، قال: أتيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، فقلت: يا رسول الله، إنا نلقى العدو غدا وليس معنا مدى، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-:"أرن - أو
اعجل - ما أنهر الدم وذكر اسم الله عليه فكلوا، ما لم يكن سنا أو ظفرا، وسأحدثكم عن ذلك: أما السن فعظم وأما الظفر فمدى الحبشة" وتقدم سرعان الناس فتعجلوا فأصابوا من الغنائم، ورسول الله - صلى الله عليه وسلم - في آخر الناس، فنصبوا قدورا، فمر رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بالقدور فأمر بها فأكفئت، وقسم بينهم فعدل بعيرا بعشر شياه، وند بعير من إبل القوم، ولم يكن معهم خيل فرماه رجل بسهم فحبسه الله، فقال النبي - صلى الله عليه وسلم -: "إن لهذه البهائم أوابد كأوابد الوحش، ما فعل منها هذا فافعلوا به مثل هذا"
دررالحکام شرح غرر الاَحکام، كتاب الصيد،ج:6،ص:471،ط:سعيد:
(أو بندقة ثقيلة ذات حدة) إنما حرم لاحتمال قتلها بثقلها حتى لو كانت خفيفة بها حدة يحل لتيقن الموت بالجرح...قوله: أو بندقة ثقيلة. . . إلخ) كذا قاله صدر الشريعة وابن كمال باشا وفي المستصفى البندقة طينة مدورةيرمي بها.وفي الجوهرة البندقة إذا كان لها حدة تجرح بها أكل. وقال قاضي خان لا يحل صيد البندقة والحجر والمعراض والعصا وما أشبه ذلك وإن جرح؛ لأنه لا يخرق إلا أن يكون شيء من ذلك قد حده وطوله كالسهم وأمكن أن يرمي به فإن كان كذلك وخرقه يحده حل أكله فأما الجرح الذي يدق في الباطن ولا يخرج في الظاهر لا يحل؛ لأنه لا يحصل به إنهار الدم."
رد المحتار:كتاب الصيد، ج:1، ص:274، ط:دار إحياء الكتب العربية:
"أو بندقة ثقيلة ذات حدة لقتلها بالثقل لا بالحد، ولو كانت خفيفة بها حدة حل؛ لقتلها بالجرح، ولو لم يجرحه لا يؤكل مطلقا."
قوله: ولو كانت خفيفة، يشير إلى أن الثقيلة لا تحل وإن جرحت. قال قاضي خان: لا يحل صيد البندقة والحجر والمعراض والعصا وما أشبه ذلك وإن جرح؛ لأنه لا يخرق إلا أن يكون شيء من ذلك قد حدده وطوله كالسهم وأمكن أن يرمي به؛ فإن كان كذلك وخرقه بحده حل أكله، فأما الجرح الذي يدق في الباطن ولا يخرق في الظاهر لا يحل لأنه لا يحصل به إنهار الدم... ولا يخفى أن الجرح بالرصاص إنما هو بالإحراق والثقل بواسطة اندفاعه العنيف إذا ليس له حد فلا يحل. وبه أفتى ابن نجيم."
الفتاویٰ الهندية :كتاب الصيد،الباب الرابع،ج:5،ص:425،ط:دار الفکر،بیروت:
"ولا يؤكل ما أصابه المعراض بعرضه، ولا يؤكل ما أصابته البندقة فمات بها كذا في الكافي وكذا إن رماه بحجر، وإن جرحه إذا كان ثقيلا، وبه حدة؛ لأنه يحتمل أنه قتله بثقله، وإن كان الحجر خفيفا وبه حدة حل لأن الموت بالجرح، وإن كان الحجر خفيفا وجعله طويلا كالسهم، وبه حدة حل...ولو رماه بعصا أو بعود حتى قتله حرم؛ لأنه قتله ثقلا لا جرحا إلا
إذا كان له حد يبضع بضعا فحينئذ يحل لأنه كالسيف والرمح والأصل في هذه المسائل أن الموت إذا أضيف إلى الجرح قطعا حل الصيد، وإن أضيف إلى الثقل قطعا حرم، وإن وقع الشك، ولم يدر أنه مات بالثقل أو بالجرح حرم احتياطا."
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (4/ 2788) دار الفكر - سوريَّة – دمشق:
وقال المالكية : إن وجد الحديد أي الآلة الجارحة كالسكين ونحوها ، تعين. وإن وجد غير الحديد كالحجر والزجاج مع الظفر والسن، ففي الذبح بهما أربعة أقوال للإمام مالك:
الأول ـ الجواز مطلقا متصلا أو منفصلا، والثاني ـ المنع مطلقا فلا يؤكل ما ذبح بهما، والثالث ـ التفصيل بالجواز عند الانفصال، والمنع عند الاتصال. والرابع ـ الكراهية بالسن مطلقا، والجواز بالظفر مطلقا. وإن لم يوجد غيرهما، أي غير السن والظفر جاز بهما جزما. ولو تم الذبح بقطعة عظم محددة، فلا خلاف في الجواز.
وقال الشافعية والحنابلة: يحل الذبح بكل محدد (له حد) يجرح (يقطع) أو يخرق بحده لا بثقله، كحديد ونحاس، وذهب، وخشب، وقصب، وحجر، وزجاج، إلا ظفرا وسنا، وعند الشافعية: وسائر العظام، متصلا كان أو منفصلا من آدمي أو غيره؛ لأن منع الذبح بالسن علل بكونه عظما، فكل عظم وجدت العلة فيه، فيكون ممنوعا. وأجاز الحنابلة الذبح بالعظم ، واستدلوا على السن والظفر بحديث رافع بن خديج عند الأئمة الستة وأحمد، قال: «قلت: يارسول الله، إنا نلقى العدو غدا، وليس معنا مدى ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ما أنهر الدم، وذكر اسم الله عليه، فكلوا، ما لم يكن سنا أو ظفرا، وسأحدثكم عن ذلك: أما السن فعظم، وأما الظفر فمدى الحبشة»
محمد نعمان خالد
دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی
7/رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


