| 87131 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
پلاٹ لینے کے لیے انویسٹمنٹ کی ہے پر ابھی مسئلہ یہ ہے کہ پتہ نہیں کہ پلاٹ ملے گا بھی یا نہیں، کیا اس پر زکوۃ ہوگی؟
تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ اس نےتجارتی غرض سے ایک پلاٹ لینے کے لیے ایک اور شخص کے ذریعے انویسٹمنٹ کی تھی اور جس سے پلاٹ لے رہے تھے وہ پلاٹ پر قبضہ نہیں دے رہا ، کافی عرصہ سے ٹال مٹول کر رہا ہےاور جو انوسٹمنٹ کی ہے وہ بھی واپس ملنے کی امید نہیں ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح ہو کہ ايسا مال جس کے واپس ملنے کی امید نہ ہو مال ِضمار کے حکم میں ہے اور اس مال پر زکوۃ لازم نہیں ہوتی، لہذا صورت مسئولہ میں چونکہ آپ کو پلاٹ ملنے کی امید نہیں اور نہ ہی انویسٹمنٹ واپس ملنے کی امید ہے تو اس پر زکوۃ ادا کرنا واجب نہیں۔
حوالہ جات
المبسوط للسرخسي (2/ 171):
وجه قولنا حديث علي رضي الله عنه موقوفا عليه ومرفوعا إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا زكاة في مال الضمار» ومعناه مال يتعذر الوصول إليه مع قيام الملك من قولك بعير ضامر إذا كان نحيفا مع قيام الحياة فيه وأن عمر بن عبد العزيز في خلافته لما أمر برد أموال بيت المال على أصحابها قيل أفلا نأخذ منهم زكاتها لما مضى قال: لا، فإنها كانت ضمارا والمعنى فيه أن وجوب الزكاة في السائمة كان باعتبار معنى النماء، وقد انسد على صاحبها طريق يحصل النماء منها بجحود الغاصب إياها فانعدم ما لأجله كان نصاب الزكاة بخلاف ابن السبيل،
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 9):
ولنا ما روي عن علي رضي الله عنه موقوفا عليه ومرفوعا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «لا زكاة في مال الضمار» وهو المال الذي لا ينتفع به مع قيام الملك مأخوذ من البعير الضامر الذي لا ينتفع به لشدة هزاله مع كونه حيا،
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
8/رمضان/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


