| 87420 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے نانا کی جو جائیداد یا زمینیں تھیں، ان میں سے جو میرے ماموں نے پہلے فروخت کر دی ، کیا اس میں بھی میری والدہ کا کوئی حصہ ہے یا نہیں اور کیا میں اس رقم کا مطالبہ کر سکتا ہوں جو زمین پہلے ان لوگوں نے بیچ دی ہے ؟ اس بارے میں بھی رہنمائی فرمائے۔
(تنقیح: یہ جائیداد نانا کی وفات کے بعد تقسیم میراث کے بغیر فروخت کی گئی۔)
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میت نےاپنے ترکہ میں جوکچھ چھوڑا ہو ، تجہیز و تکفین ،میت کے ذمہ واجب الادامالی واجبات کی ادائیگی اور جائز وصیت پر عمل کے بعد جو مال بھی باقی بچتا ہے ، اس میں تمام ورثاء اپنے حصوں کے بقدر شریک ہوتے ہیں اور ترکہ جب تک تقسیم نہ ہوجائے، اس وقت تک تمام ورثاء اس میں مشترکہ طور پر شریک ہوتے ہیں، کسی وارث کے لیے دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر ترکہ میں تصرف کرنے کا اختیار نہیں ہوتا، اور اگر کوئی وارث ترکہ میں سے کوئی چیز دوسرے شرکاء کی اجازت کے بغیر بیچ دیتا ہے تو وہ اس کا ضامن ہوتا ہے ۔
صورت مسئولہ میں میت کی بعض اولاد(سائل کے ماموں ) نے جو جائیداد بھی ترکہ میں سے فروخت کی ،اگر تمام شرکاء اس خرید وفروخت کے معاملے پر راضی ہیں ، تو وہ اپنے شرعی حصوں کے بقدر فروخت شدہ جائیداد کی رقم کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
یہ بھی واضح رہے کہ میت کانواسہ(سائل ) میت کا شرعی وارث نہیں ، لہذا وہ بطور شرعی وارث اس رقم کا مطالبہ نہیں کر سکتا، البتہ اپنی والدہ ( میت کی بیٹی)کے حکم پر ان کے نمائندہ کے طور پر اپنی والدہ کے لئے شرعی حصے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
حوالہ جات
سورۃ النساء(الایۃ ۱۱-۱۲)
یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ-لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ-فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۚ-وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُؕ ۔
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر» (1/ 715):
(وكل منهما) أي كل واحد من الشريكين أو الشركاء شركة ملك (أجنبي في نصيب الآخر) حتى لا يجوز له التصرف فيه إلا بإذن الآخر كغير الشريك لعدم تضمنها الوكالة.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 189):
الشريك إذا باع نصفاً معيناً من الدار المشتركة على وجه الشيوع بينه وبين شريكه الآخر فالبيع لايجوز۔
(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 96)
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (3/ 165):
استحقاق المبيع على المشتري يوجب توقف العقد السابق على إجازة المستحق ولا يوجب نقضه وفسخه في ظاهر الرواية كذا في المحيط واختلف في البيع متى ينفسخ والصحيح أنه لا ينفسخ ما لم يرجع على بائعه بالثمن حتى لو أجاز المستحق بعدما قضى له أو بعدما قبضه قبل أن يرجع المشتري على بائعه يصح كذا في النهر الفائق.
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
08/ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


