| 87487 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھیل،گانے اور تصویر کےاحکام |
سوال
ویڈیو میں بیک گراؤنڈ میوزک لگانے کا کوئی متبادل یا جائز شرعی صورت موجود ہو، جس سے کلائنٹ کی ضروریات بھی کسی حد تک پوری ہو جائیں اور ہماری آمدنی بھی حلال رہے، تو برائے کرم اس کی وضاحت بھی فرما دیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا کاروبار شریعتِ مطہرہ کے مطابق ہو اور ہماری آمدنی مکمل طور پر حلال ہو۔ اس لیے ہم آپ کی واضح، مدلل اور تفصیلی شرعی رہنمائی کے منتظر ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ ویڈیوزکے بیک گراؤنڈ میں خالص میوزک کا استعمال تو ناجائز اور حرام ہے ۔تاہم، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا کاروبار مکمل طور پر شریعت کے مطابق ہو اور آمدنی بھی حلال رہے، تو اس کے لیے چند متبادل صورتیں اختیار کی جا سکتی ہیں جو کلائنٹ کی ضروریات بھی کسی حد تک پوری کر سکتی ہوں اور شرعی تقاضوں پر بھی پورا اتریں۔ ایک جائز متبادل یہ ہے کہ خود ریکارڈ شدہ آواز کو ایکو ساؤنڈ سسٹم کے ذریعہ ایسی سریلی اور نغماتی آوازوں میں منتقل کیا جائے جو اصل آواز کے تابع ہوں اور میوزک سے واضح طور پر ممتاز ہوں۔ اس طرح کی آوازیں شرعاً حرام نہیں ہیں، بلکہ فی نفسہ جائز ہیں، بشرطیکہ ان میں میوزک کے ساتھ مشابہت پیدا نہ ہو۔ اگر مشابہت پیدا ہو جائے تو وہ مکروہ ہے، اور اس سے بچنا چاہیے۔ اس کے علاوہ، قدرتی اور فطری آوازوں کا استعمال بھی ایک مؤثر اور جائزمتبادل ہے، جیسے پرندوں کی چہچہاہٹ، پانی کی لہروں کی سرسراہٹ، بارش کی بوندوں کی آواز، اور جنگل کی فطری گونج وغیرہ۔ ان قدرتی آوازوں کا استعمال نہ صرف ویڈیوز کی کوالٹی کو بہتر بناتا ہے بلکہ کلائنٹ کی توقعات بھی پوری کرتا ہے اور آمدنی کو مکمل طور پر حلال رکھتا ہے۔
حوالہ جات
«المسبوك على منحة السلوك في شرح تحفة الملوك» (4/ 178):
«قوله: وسماع صوت الملاهي كلها حرام.
لقوله صلى الله عليه وسلم: "استماع الملاهي معصية، والجلوس عليها فسق، والتلذذ بها من الكفر"»
النّوع الثّالث : استماع أصوات الجمادات :
إذا انبعثت أصوات الجمادات من تلقاء نفسها أو بفعل الرّيح فلا قائل بتحريم استماع هذه الأصوات . أمّا إذا انبعثت بفعل الإنسان ، فإمّا أن تكون غير موزونةٍ ولا مطربةٍ ، كصوت طرق الحدّاد على الحديد ، وصوت منشار النّجّار ونحو ذلك ، ولا قائل بتحريم استماع صوتٍ من هذه الأصوات . وأمّا أن ينبعث الصّوت من الآلات بفعل الإنسان موزوناً مطرباً ، وهو ما يسمّى بالموسيقى .
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
14 /ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


