| 86091 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
یہ مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ کسی شخص کا انتقال ہوگیا اور لواحقین میں ایک بیوی،چار بیٹے ،چار بیٹیاں اور ایک بھائی چھوڑے ہیں تو میراث کی تقسیم کس طرح سے ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ميت كے ترکہ میں سے سب سے پہلے کفن دفن کے مناسب اخراجات )اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو(نکالے جائیں گے، اس کے بعد مرحوم کے ذمہ واجب قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی (1/3) تک اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعدباقی ماندہ کل ترکہ (نقدی، چھوٹابڑا سازوسامان اور جائیداد) مرحوم کےورثہ میں تقسیم کیا جائے گا،اگر انتقال کے وقت صرف یہی لوگ ہوں جوسوال میں مذکورہیں ،تو کل ترکہ اس طرح تقسیم ہوگا کہ بیوہ کوآٹھواں حصہ ملے گااور بقیہ سات حصے مرحوم کے بیٹوں اور بیٹیوں میں اس طرح تقسیم ہوں گے کہ بیٹے کوبیٹی کی بنسبت دوگنا دیا جائے گا،اورنرینہ اولادکی موجودگی کی بناء پرمیت کے بھائی)محجوب) محروم ہوں گے،ان کا میراث میں حصہ نہ ہو گا۔
ترکہ کے کل96 حصے بنیں گے جن میں سے بیوہ کو12،ہر بیٹے کو14 اور ہر بیٹی کو 7حصے ملیں گے،جبکہ فیصدی لحاظ سے بیوہ کو12.50% ،ہر بیٹے کو14.5833%،اور ہر بیٹی کو 7.2916% فیصد حصہ ملے گا،نقشہ درج ذیل ہے۔
|
نمبرشمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیوی |
12 |
12.50% |
|
2 |
بیٹا |
14 |
14.5833% |
|
3 |
بیٹا |
14 |
14.5833% |
|
4 |
بیٹا |
14 |
14.5833% |
|
5 |
بیٹا |
14 |
14.5833% |
|
6 |
بیٹی |
7 |
7.2916% |
|
7 |
بیٹی |
7 |
7.2916% |
|
8 |
بیٹی |
7 |
7.2916% |
|
9 |
بیٹی |
7 |
7.2916% |
|
10 |
بھائی |
محروم |
محروم |
حوالہ جات
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتا ء جامعہ الرشید،کراچی
29/جمادیٰ الثانیہ/6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


