| 85712 | حدیث سے متعلق مسائل کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
کیا "نصرت بالشباب" یعنی نوجوانوں کی وجہ سےمیں نےدشمنوں پرغلبہ پایا، اس قسم کی کوئی صحیح حدیث ثابت ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ الفاظ اور ان کےہم معنی "نصرني الشباب وخذلني الشيوخ" اور" أوصيكم بالشبان خيرًا" وغيره جیسے الفاظ والی روايات کی کوئی اصل نہیں، اس مفہوم کی روایت کا ضعیف اور موضوع احادیث پر مشتمل کتابوں میں بھی تذکرہ نہیں ملتا، جس سے اس کا من گھڑت ہونا واضح ہو جاتا ہے، حالانکہ اس مفہوم کی روایات صحیح بخاری وغیرہ کی حدیث: «هل تنصرون وترزقون إلا بضعفائكم»([1]) کےبھی معارض ہیں، لہذا اس کو حدیث سمجھنا اور رسول اللہ ﷺ کی طرف اُسے منسوب کرکے بیان کرنابہت بڑا گناہ ہے۔
واضح رہےکہ بعض اہل علم نےبھی ادب اورتفسیرکی کتابوں میں یہ من گھڑت روایت تسامحًا بغیر سند کےذکر کی ہے، مگرشریعت میں بغیر سند کےکسی روایت کااعتبارنہیں، خصوصًا جب وہ کسی دوسری صحیح حدیث کےبھی معارض ہو، عبد اللہ بن المبارک رحمہ اللہ فرماتےہیں:” اسناددین کاحصہ ہے اگراسناد نہ ہوتاتوکوئی بھی شخص جوچاہتاکہہ دیتا“۔
البتہ نوجوانوں کی فضیلت کےبارے میں دیگرصحیح احادیث ثابت ہیں، چنانچہ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں واردہےکہ قیامت کےدن سات قسم کےلوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جن میں سےایک وہ نوجوان ہےجس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری ہو([2])۔
([1]) (صحيح البخاري: 4/37، الحديث رقم: 2896)
([2]) (صحيح البخاري: 2/111، الحديث رقم: 1423)
حوالہ جات
أخرجه الإمام البخاري في "صحيحه" والإمام مسلم في "مقدمة صحيحه" من حديث المغيرةبن شعبة رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إن كذبا علي ليس ككذب على أحد، من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار».(صحيح البخاري: 2/ 80، الحديث رقم: 1291)، (مقدمة صحيح مسلم: 1/8)
وقال الإمام عبد الله بن المبارك رحمه الله تعالى: "الإسناد من الدین، لو لا الإسناد لقال من شاء ما شاء". (مقدمة صحيح مسلم: 1/15)
وقال الإمام محمد بن سيرين رحمه الله تعالى: "إن هذا العلم دين فانظروا عمن تأخذون دينكم". (مقدمة صحيح مسلم: 1/11)
راز محمد
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
24 جمادی الاولی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رازمحمدولداخترمحمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


