| 85466 | حدیث سے متعلق مسائل کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
یاجوج ماجوج جب آئیں گے تو دنیا کی ہر چیز کھا جائیں گےتو جو لوگ اس وقت اس دنیا میں رہیں گے وہ کیا کھائیں گے؟ عوام میں مشہور ہےکہ وہ اس وقت پتے کھائیں گے، اس بات کی کیا حقیقت ہے؟ کیا اس طرح کوئی روایت موجود ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یاجوج ماجوج کےآنےکےبعدلوگوں کاپتے کھانے کی بات روایات سےثابت نہیں اور نہ ہی روایات میں کہیں اس کا ذکر ملتا ہے، البتہ صحیح مسلم کی ایک لمبی حدیث ہے، جس کےمطابق قرب قیامت میں اللہ تعالیٰ جب یاجوج و ماجوج کو بھیجے گاتو ان کا پہلا گروہ بحیرہ طبریہ پر گزرے گا اور اس کا سارا پانی پی جائے گا، پھر ان کے آخری لوگ وہاں سے گزریں گے اور کہیں گے کہ یہاں کبھی پانی تھا۔ اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی محصور ہو جائیں گے، یہاں تک کہ ان کے لیے بیل کا سر سو دینار سے مہنگا ہو جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان پرکیڑے بھیجے گا، جس سے وہ سب ایک ساتھ مر جائیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی زمین پر اتریں گے اور ہر جگہ لاشوں کی بو اور چربی پائیں گے۔ پھر وہ اللہ سے دعا کریں گے، جس پراللہ تعالی اللہ بارش برسائے گا جو زمین کو دھو کر صاف کر دے گی، اور زمین سے کہا جائے گا کہ اپنے پھل اگا اور اپنی برکتیں لوٹا دے۔
مذکورہ حدیث میں یاجوج اورماجوج کےآنےکےبعدمسلمانوں کاتکلیف میں رہنے کااگرچہ تذکرہ ہے،لیکن اس روایت میں یااس کےعلاوہ کسی دوسری روایت میں لوگوں کاپتے کھانے کاصریح ذکرنہیں ملتا،گو اس وقت انسانوں کاانتہائی مشقت میں ہونےکی بنا پر پتےکھانابعیدازقیاس نہیں، لیکن اسےشریعت کی بات یاحدیث سمجھناجائزنہیں۔
حوالہ جات
أخرج الإمام في "صحيحه" حديثَ النواس بن سمعان وذكر من خلالہ: ويبعث الله يأجوج ومأجوج. وهم من كل حدب ينسلون. فيمر أوائلهم على بحيرة طبرية. فيشربون ما فيها. ويمر آخرهم فيقولون: لقد كان بهذه، مرة، ماء. ويحصر نبي الله عيسى وأصحابه. حتى يكون رأس الثور لأحدهم خيرا من مائة دينار لأحدكم اليوم. فيرغب نبي الله عيسى وأصحابه. فيرسل الله عليهم النغف في رقابهم. فيصبحون فرسى كموت نفس واحدة. ثم يهبط نبي الله عيسى وأصحابه إلى الأرض. فلا يجدون في الأرض موضع شبر إلا ملأه زهمهم ونتنهم. فيرغب نبي الله عيسى وأصحابه إلى الله. فيرسل الله طيرا كأعناق البخت. فتحملهم فتطرحهم حيث شاء الله. ثم يرسل الله مطرا لا يكن منه بيت مدر ولا وبر. فيغسل الأرض حتى يتركها كالزلفة. (4/2251: 2937)
وأخرج الإمام البخاري في "صحيحه" والإمام مسلم في "مقدمة صحيحه"من حديث المغيرةبن شعبة رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إن كذبا علي ليس ككذب على أحد، من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار». (صحيح البخاري: 2/ 80، الحديث رقم: 1291)، (مقدمة صحيح مسلم: 1/8)
راز محمد
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
16جمادی الاولی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رازمحمدولداخترمحمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


