| 86201 | پاکی کے مسائل | نجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان |
سوال
ہماری جامع مسجد میں دو عدد کنوئیں ہیں ایک صاف پانی پینے کا اور دوسرا گٹر ہے ۔گٹر والا کنواں صاف کنوئیں میں شامل ہوگیا۔مسجد کی دونوں اطراف میں وضو کرنے کی جگہ ہے ۔ایک طرف آٹھ قدم کے فاصلے پہ ہے جس میں چپل پہن کر مسجد میں داخل ہونا پڑتا ہے اور دوسری طرف صرف چار قدم کے فاصلے پہ مسجد ہے ،دو سیڑھیاں اترنے کے بعد تین قدموں پہ ایک مختصر سی سوراخوں والی شیٹ ہے پھر مسجد کی حدود ہے۔ اب صورت مسئلہ یہ ہے کہ نمازی حضرات نےاپنی نمازیں لوٹا لی ہیں اور جو وضو بنا کے مسجد کی صفوں پہ پاؤں لگتے رہے کیا وہ صفیں دھونی پڑیں گی ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مسجد کی جن صفوں پرگیلے ناپاک پاؤں لگتے رہےوہ صفیں ناپاک ہوئیں ان کو دھونا لازمی ہے،مسجد کی صفوں کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کسی پائپ کے ذریعہ مسلسل پانی بہایا جائے یہاں تک کہ اطمینان ہوجائے کہ ناپاکی بہہ گئی ہے ۔
حوالہ جات
وما لا ينعصر يطهر بالغسل ثلاث مرات والتجفيف في كل مرة؛ لأن للتجفيف أثرا في استخراج النجاسة وحد التجفيف أن يخليه حتى ينقطع التقاطر ولا يشترط فيه اليبس. (الفتاوى الهندية:(42/1
(و قدربتثليث جفاف ،أي: انقطاع تقاطر في غيره ،أي: غير منعصر مما يتشرب النجاسة وإلا فبقلعها كما مر، وهذا كله إذا غسل في إجانة، أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقا بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس هو المختار.) قوله: بتثليث جفاف، أي: جفاف كل غسلة من الغسلات الثلاث وهذا شرط في غير البدن ونحوه(الدر المختار مع رد المحتار:332/1)
إذا وجب غسل الخف أو النعل في الموضع الذي وجب فإن كان الجلد يشف رطوبات النجاسة فقد قال بعض مشايخنا: إنه لا يطهر أبداً على قول محمد رحمه الله إذا كان لا يمكن عصره، وعلى قول أبي يوسف رحمه الله ينقع ثلاثاً في ماء طاهر ويجفف في كل مرة في رواية، وفي المرة الثالثة في روايةوالمختار أنه يغسل ثلاث مرات ويترك في كل مرة حتى ينقطع التقاطر وتذهب الندوة ولا يشترط اليبس(المحيط البرهاني :(201/1
انس رشید ولد ہارون رشید
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
06/رجب المرجب1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | انس رشید ولد ہارون رشید | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


