03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چھوٹے گاؤں میں نماز جمعہ کا قیام
86254نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ ہمارے شہر سے تقریباً تین یا چار کلومیٹر کے فاصلے پر ایک گاؤں واقع ہے، جس کی آبادی تقریباً 500 سے 1000 افراد پر مشتمل ہے۔ مذکورہ گاؤں شہر کی ٹاؤن کمیٹی میں رجسٹر ہےاور گاؤں میں صرف ایک مسجد ہے اور کوئی بڑی دکان یا بینک وغیرہ موجود نہیں ہے۔اس گاؤں میں پہلے جمعہ کی نماز نہیں ہوتی تھی، لیکن گزشتہ تین یا چار سال سے جمعہ کی نماز شروع کی گئی ہے۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ آیا یہاں جمعہ کی نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حضراتِ حنفیہ رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی جگہ نمازِ جمعہ کے جواز کے لیے اس جگہ کا شہر،فناءشہر (شہر سے متصل وہ جگہ ہے جس سےشہروالوں کی ضروریات وابستہ ہوں) یا بڑا گاؤں یعنی قصبہ ہوناضروری ہے۔

قصبہ کی تعریف کا مدار دراصل عرف پر  ہے،اس لئے فقہاء نے اپنے اپنے دور کے حساب سےقصبہ کی تعیین کے مختلف معیارات ذکر کئے ہیں، لیکن ان سب میں قدرِمشترک یہ ہے کہ وہ  جگہ جہاں معتدبہ آبادی اور دکانیں ہوں، مقامی لوگوں کی اکثر اشیاء ضرورت (کھانے، پینے اور پہننے کی اشیاء)پوری ہورہی ہوں،دینی وعصری تعلیم کے مراکزہوں،صحت کے ایسے  مراکزجہاں بنیادی علاج معالجہ کی سہولت موجود ہو، پولیس کاتھانہ یاچوکی بھی ہو۔اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سےموسوم ہوں۔ پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہوں گے وہاں جمعہ صحیح ہوگا، ورنہ صحیح نہ ہوگا۔

سوال میں مذکور جگہ سےمتعلق پیش کردہ  تفصیلات کے مطابق آپ کے گاؤں پر  قصبہ کی تعریف صادق نہیں آتی، اس لیےاس میں جمعہ اور عیدین کی نمازقائم کرنا جائزنہیں ،بلکہ جمعہ کے دن بھی جمعہ کی نماز کےبجائےظہر کی نماز کی ادائیگی ضروری ہے،لیکن چونکہ تین سال سے وہاں جمعہ کی نماز ہوتی چلی آرہی ہے،اب اگراسے بند کروانے سے شدید فتنے کا اندیشہ نہ ہو تو پھر اسے ختم کرنا چاہیے،اس لیے کہ جمعہ جاری رکھنےمیں مندرجہ ذیل مفاسد لازم آتے ہیں:جمعہ فرض نہ ہونے کے باوجود فرض ہونے کا اعتقادلازم آئے گا،جمعہ کی نیت سے پڑھی جانے والی نماز نفل ہوگی،یہ اعتقاد رکھنا کہ فرض ذمہ ساقط ہوگیا،فرض نماز کا مستقل ترک اوراس کی قضاء بھی نہ کرنا وغیرہ۔

اگر فتنے کا اندیشہ ہوتو خود صحیح مسئلے پر عمل کرکے سبکدوش ہوجانا چاہیے، اور دوسروں کوحکمت و بصیرت کے ساتھ  درست مسئلہ سمجھانا چاہئے،لیکن اگر وہ لوگ اپنے موقف پر اصرارکریں تو  ان کو  اپنے  حال پرچھوڑدیناچاہیے۔بہرحال پھر  بھی اگر اس مقام پر جواز جمعہ کا شبہہ ہو تو قریبی مقامی دارالافتاءکے مفتیان ِکرام   کو یہ مقام دکھاکر استفتاء کرلیا جائے۔

حوالہ جات

إعلاء السنن (5/2247):

عن علی رضی الله عنه أنه قال: "لا جمعة، ولا تشریق إلا فی مصر جامع". أخرجه أبو عبید بإسناد صحیح إلیه موقوفاً. ومعناه لا صلاة جمعة، ولا صلاة عید. کذا فی فتح الباری، ورواه عبدالرزاق فی مصنفه: أنبأ الثوری عن زبید الأیامی عن سعد بن عبیدة عن أبی عبد الرحمن السلمی عن علی قال: "لا تشریق، ولا جمعة إلا فی مصر جامع"، کذا فی نصب الرایة، وفی الدرایة: إسناده صحیح

وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2/ 136):

(ويشترط لصحتها) سبعة أشياء:الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه فتوى أكثر الفقهاء مجتبى لظهور التواني في الأحكام وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض يقدر على إقامة الحدود كما حررناه فيما علقناه على الملتقى.عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح

 فيض الباري على صحيح البخاري (2/ 423):

واعلم أن القرية والمصر من الأشياء العرفية التي لا تكاد تنضبط بحال وإن نص، ولذا ترك الفقهاء تعريف المصر على العرف كما ذكره في «البدائع»

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی

07/رجب /6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب