03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین معلق طلاقوں سے بچنے کی صورت
86288طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔ سوال ہے کہ میں نے اپنی بیوی سے کہا"اگر تم نے اپنے بھائی سے بات کی تو تم کو تین طلاقیں واقع ہوں گی"اب اس مسئلے کا کوئی حل بتائیں. کہ وہ اپنے بھائی سے بات بھی کرے اور تین طلاقیں بھی نہ ہوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں جب آپ نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تم نے اپنے بھائی سے بات کی تو آپ کو تین طلاقیں واقع ہوں گی، تو اس کے بعد آپ کی بیوی  جب اپنے بھائی سے بات چیت کرے گی تو اس کو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی جس کی وجہ سے وہ آپ پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجائے گی۔

تین طلاقیں ہونے   سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ آپ اپنی بیوی کو یہ کہتے ہوئےکہ میں آپ کو ایک طلاقِ بائن دیتا ہوں ایک طلاق بائن دیں ۔پھرعدت گزرنے کے بعد وہ اپنے بھائی  کے ساتھ بات چیت کرے،چوں کہ اس وقت وہ  آپ کی  نکاح میں نہیں ہوگی۔اس لیے آپ  کی بیوی پر تین طلاقیں واقع نہیں ہوں گی اورشرط پوری ہوجائے گی، اور یوں تعلیق ختم ہوجائے گی، پھر اس کے بعد  دوبارہ   آپ  اپنی بیوی کے ساتھ باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرلیں ، اس کے بعد اگر آپ کی بیوی  اپنے بھائی کے ساتھ رشتہ داری اور بات چیت برقرار رکھتی ہے توآپ  کی بیوی کو کوئی  طلاق واقع نہیں ہوگی۔تاہم اس  کے بعد آئندہ کے لیے آپ کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا،یعنی اس کے بعد اگر آپ اپنی بیوی کو دو اورطلاقیں دیں گے توآپ  کی بیوی ہمیشہ کے لیےآپ  پر حرام ہوجائے گی۔

حوالہ جات

في الفتاوی الھندیۃ :‌وإذا ‌أضافه ‌إلى ‌الشرط ‌وقع ‌عقيب ‌الشرط ‌اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.(الفتاوی الھندیۃ: 5/ 268)

‌ في الفتاوی الھندیۃ :إذا ‌حلف ‌بثلاث ‌تطليقات ‌أن ‌لا ‌يكلم ‌فلانا ‌فالسبيل ‌أن ‌يطلقها ‌واحدة ‌بائنة ويدعها حتى تنقضي عدتها، ثم يكلم فلانا، ثم يتزوجها كذا في السراجية. (الفتاوى الهندية:6/ 397)

 قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ تعالی :فإن كانا حرين ‌فالحكم ‌الأصلي ‌لما ‌دون ‌الثلاث ‌من ‌الواحدة ‌البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره، وإيلاؤه ولا يجري اللعان بينهما ولا يجري التوارث ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائنا - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية. (بدائع الصنائع :3/ 187)

 شمس اللہ

  دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی

/10     رجب،1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شمس اللہ بن محمد گلاب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب