| 87415 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
والد صاحب کا انتقال 16.4.2017میں جبکہ والدہ کا انتقال 2021 میں ہوا ہے اور 2020 23.4.میں چھوٹے بھائی عبد الرحیم کا بھی انتقا ل ہوگیا،اس کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔والد کی ملکیت میں ایک مکان تھا ، 17.5.2019 کو گجر نالہ کٹنگ میں کچھ حصہ آکر حکومت نے گرادیا تھا ۔ مکان کا جو حصہ باقی تھا وہ ہماری والدہ اور سب بہن بھایوں نے مل کر بڑے بھائی علی مردان کو اسٹامپ پیپر پر لکھ کراس کےحوالے کر دیا ۔
20.7.2020 کو گرائے گئے حصہ کا حکومت نے معاوضہ دیا۔
پہلا چیک 90000= والدہ کو دیا۔
دوسرا چیک 90000= علی مردان نے لیا۔
تیسرا چیک 180000= عبد المجید نے لے لیا۔
آخری چیک 1450000=
ہم آٹھ بہن ،بھائی ہیں، چار بہنیں ،چار بھائی لیکن ایک بھائی عبد الرحیم کا انتقال ہوگیا ہے جیسے درج بالا سوال کے شروع میں ذکر کیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا علی مردان کو حصہ ملےگا جبکہ اس کو گھر کا باقی حصہ بھی دیا ہے؟کیا ہم سب بہن بھایوں کا حصہ ہے یا جس کے نام چیک آئے ہیں اس کو ساری رقم ملے گی؟کیونکہ والد صاحب کی جگہ گھر کے کاغذات میرے نام ہیں اور چیک بھی میرے نام آئے ہیں، اس طرح اگر حکومت کی طرف سے کوئی پلاٹ ملتا ہے،گھر کے معاوضہ کی صورت میں تو اس کی تقسیم کا کیا طریقہ کار ہوگا؟
سوال کی تنقیح : سائل سے فون پر رابطہ کر کے معلوم ہوا کہ گھر انہوں نےعلی مردان کو بڑے بھائی ہونے کے ناطے دیا ہے ، ورثاء میں صرف تین بھائی اور چار بہنیں ہیں ۔
سوال کی دوبارہ تنقیح : عبد الرحیم کے ورثاء میں اس کی بیوی ،دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مذکورہ میں علی مردان کو دیا ہے ہوا گھر شرعا ہبہ(گفٹ ) ہے ، کیونکہ دیگر ورثاء نے مشترکہ گھر میں اپنے
حصے علی مردان کو بلا عوض دے دئے ہیں،اس لئے وہ اس کی ملکیت ہے۔باقی جو بھی رقم گرائے گئےگھر کی مد میں ملے
وہ والد کی میراث کے طور پر تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم ہوگا۔
مذکورہ رقم جو گھر کی مد میں ملی ہے وہ والد صاحب کی میراث ہے اس لئے اس کو اندازے سے تقسیم کرنا جائز نہیں ہے اور جن لوگوں نے حصے سے زیادہ وصول کیا ہے ان پر اتنی رقم لوٹا لازم ہے۔مجموعی رقم (1810000)جو ابھی تک ملی ہے اس کی تقسیم درجہ ذیل ہے اور آئندہ اگر مذکورہ گھر کی مد میں کچھ ملتا ہے پلاٹ یارقم تو اس کو بھی درج ذیل ورثاء پر ان کے شرعی حصے کے مطابق تقسیم کیا جائے گا ۔
عبد الحمید ،علی مردان، اور عبد اللہ میں سے ہر ایک کو 318006.9444 روپے اور فیصدی حصہ% 17.569 ہر ایک کو ملے گا۔ بہنوں میں سے ہر ایک 159003.4722 روپے اور فیصدی حصہ % 8.784 ملے گا۔عبد الرحیم کے دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو 74788.194 روپے ملیں گے،جس کا فیصدی حصہ ٪ 4.131 ہو گا، اس طرح عبد الرحیم کی بیٹی کو 37394.097 روپے حصے میں دئے جائیں گے جس کا فیصدی تناسب ٪2.065 ہے۔عبد الرحیم کی بیوی کو 32994.791 روپے میراث میں ملے گا جس کا فیصدی تناسب ٪ 1.822 ہے۔
|
ورثاء |
رقم |
فیصد |
|
عبد الحمید |
318006.9444 |
17.569٪ |
|
علی مردان |
318006.9444 |
17.569٪ |
|
عبد اللہ |
318006.9444 |
17.569٪ |
|
بہن |
159003.4722 |
8.784٪ |
|
بہن |
159003.4722 |
8.784٪ |
|
بہن |
159003.4722 |
8.784٪ |
|
بہن |
159003.4722 |
8.784٪ |
|
عبد الرحیم کا بیٹا |
74788.194 |
4.131٪ |
|
عبد الرحیم کا بیٹا |
74788.194 |
4.131٪ |
|
عبد الرحیم کا بیٹی |
37394.097 |
2.065٪ |
|
عبد الرحیم کی بیوی |
32994.791 |
1.822٪ |
حوالہ جات
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (6/ 121):
«(ولنا) أن القبض شرط جواز الصدقة ومعنى القبض لا يتحقق في الشائع أو لا يتكامل فيه لما بينا في الهبة ولأن التصدق تبرع كالهبة وتصحيحه في المشاع يصيرها عقد ضمان فيتغير المشروع على ما ينافي الهبة ولو وهب شيئا ينقسم من رجلين كالدار والدراهم والدنانير ونحوها وقبضاه لم يجز عند أبي حنيفة وجاز عند أبي يوسف ومحمد وأجمعوا على أنه لو وهب رجلان من واحد شيئا ينقسم وقبضه أنه يجوز فأبو حنيفة يعتبر الشيوع عند القبض وهما يعتبرانه عند العقد والقبض جميعا فلم يجوز أبو حنيفة هبة الواحد من اثنين لوجود الشياع وقت القبض وهما جوزاها لأنه لم يوجد الشياع في الحالين بل وجد أحدهما دون الآخر وجوزوا هبة الاثنين من واحد.»
زاہد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
01/ذی قعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زاہد خان بن نظام الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


