03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشتری کے ثمن دینے سے پہلے رب المال کا مضارب سے مطالبہ کرنا
86521مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

اگرکوئی شخص کسی کو پیسے مضاربت مطلقہ کے طور پر دے۔ بعد میں ان پیسوں سے وہ سامان خرید کرکچھ وقت بعد رب المال کی اجازت سے اس کو بیچ دے، مگر مشتری پیسے دینے سے پہلے بھاگ جائے یا اب تک پیسےنقد نہیں ہوئے ،قرض باقی ہے۔ کیا رب المال پیسوں کے نقد ہونے سے پہلے مضارب سے اپنے پیسوں کا مطالبہ کرسکتاہے یا نہیں؟

تنقیح:سائل سے تنقیح کے بعد معلوم ہوا ہے کہ مضارب نے دیانتداری اور رب المال کی رضامندی کے ساتھ سامان بیچا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب تک مضارب کو مبیع کی قیمت اور نفع حاصل نہ ہو،اس وقت تکرب المال کا مضارب سے پیسوں كا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے۔صورت مسئولہ میں چونکہ فی الحالمشتری نےمضارب کو سامان کے پیسے نہیں دیے،لہذا رب المال کا مضارب سے پیسوں پر قبضہ ہونے سے پہلے مطالبہ کرنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

ربح أخذ المالك ما أنفق من رأس المال) أي ما أنفقه المضارب فإذا استوفى رأس ماله وفضل شيء اقتسماه لأن ما أنفقه يجعل كالهالك وأشار المصنف إلى أن للمضارب أن ينفق على نفسه من مال المضاربة في السفر قبل الربح وإلى أنه لو لم يظهر ربح لا شيء على المضارب قيد بالنفقة لأنه لو كان في المال دين غيرها قدم إيفاؤه على رأس المال.(البحر الرائق:7/ 270)

يجوز للمضارب أن يبيع بالنقد والنسيئة كذا في الكافي.وإن باع شيئا من المضاربة وأخر الثمن جاز على رب المال ولا يضمن شيئا .كذا في غاية البيان. ( الفتاوى الهندية:4/ 292)

محمد علی

دارالافتاء جامعۃالرشید کراچی

19/رجب المرجب1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد علی ولد محمد عبداللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب