| 86328 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کسی ایسے شخص کو سننا یاایسی ویب سائٹ یا کتاب پڑھنا کیسا ہے جو نظریہ ارتقاءکوسپورٹ کرتی ہو؟کیا ایسے ذرائع سےکسی قسم کی معلومات لینا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
"نظریۂ ارتقاء/Theory of evolution"انیسویں صدی کے ایک مشہور سائنس دان"چارلس ڈاروِن " کا مشہورنظریہ ہے، جوقرآن وحدیث کی نصوص ِ قطعیہ اور مسلمہ سائنسی حقائق کے خلاف ہے۔لہذا اگر اس کو غلط سمجھ کر محض معلومات کے لئے پڑھنا یا اس کے رد میں لکھنا مقصود ہواورپڑھنے والاصحیح اور غلط میں تمییز کرسکتا ہوتو شرعاً اس کو پڑھنےاورسننے کی اجازت ہے، البتہ اگر ان نظریات کو پڑھنے اورسننے سے ایمان اور اعتقادبگڑنے کا خطرہ ہواور ذہن میں مختلف شکوک وشبہات آئیں تو اس کو ترک کرنالازم اور ضروری ہے۔
نظریہ ارتقاء قرآن، حدیث اور سائنسی حقائق کی روشنی میں
"نظریۂ ارتقاء/Theory of evolution"انیسویں صدی کے ایک مشہور سائنس دان"چارلس ڈاروِن " کا مشہورنظریہ ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ" دنیا کی تمام چیزیں کسی ہستی کے پیدا کردہ نہیں بلکہ ایک ایسی بنیادی مادّہ سےبنے ہیں جو خود بخود وجود میں آئی ہے،پھر بغیر کسی خالق و کار ساز کے بہت سے ارتقائی منزلیں طے کرتے ہوئے بندر وجود میں آیا،اورپھربندر مزید ارتقاء کےمراحل طے کر کے انسان بن گیا۔یہ نظریہ جہاں قرآن و حدیث کے صریح نصوص کے خلاف ہے وہیں مسلمہ سائنسی حقائق کے خلاف ہوکر سائنس کے دنیا میں فرسودہ ہوچکا ہے۔
قرآن کی روشنی میں:
قرآن مجید مختلف مقامات پر واضح طور پر انسان کی تخلیق کو ایک منفرد عمل قرار دیتا ہے،چناچہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ" ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا۔"(سورۃ المؤمنون: 12).
اسی طرح ایک اور جگہ آپ نے فرمایا:
اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَآئِكَـةِ اِنِّىْ خَالِقٌ بَشَـرًا مِّنْ طِيْنٍٝفَاِذَا سَوَّيْتُه وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِىْ فَقَعُوْا لَـه سَاجِدِيْنَ۔
"یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں گارے سے ایک انسان پیدا کرنے والا ہوں،چنانچہ جب میں اسے پوری طرح بنا دوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جانا"۔(سورة ص :71,72).
اسی طرح اللہ تعالی انسان کےبہترین شکل و صورت کے بارےمیں فرماتے ہیں :
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِىٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍٝ"ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر پیدا کیا ہے"۔ (سورہ التین: 4)۔
ان جیسی اور بھی بہت سی آیات قرآن پاک میں ایسی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ تخلیق انسان کی ابتداء مٹی سے ہوئی ہےاوراس بات کی نفی کرتےہیں کہ انسان بندروں یا کسی اور نوع کے ارتقاء کا نتیجہ ہے،ان تمام آیات سے یہ بات بالکل واضح طور پر پتا چلتی ہے کہ تاریخِ انسانی کا آدم علیہ السلام سے پہلے کوئی تصور نہیں ہے۔
احادیث کی روشنی میں:
چنانچہ حدیث کی تمام معروف کتابوں میں حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت آدم علیہ السلام کا آپس میں کلام مذکورہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نےحضرت آدم علیہ السلام سے مخاطب ہوکر فرمایا:
أَنْتَ آدَمُ الذي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِن رُوحِهِ، وَأَسْجَدَ لكَ مَلَائِكَتَهُ، وَأَسْكَنَكَ في جَنَّتِهِ.
"آپ وہی آدم (علیہ السلام ) ہیں کہ اللہ تعالی نے آپ کو اپنے ہاتھوں سے بنایااس میں اپنی طرف سے روح پھونکی اور آپ کو اپنے فرشتوں سےسجدہ کروایا اورآپ کو اپنی جنت میں ٹھہرایا۔"
نیز حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے تمام انسانوں کا آدم علیہ السلام سے اور حضرت آدم علیہ السلام کا مٹی سے پیدا ہونا ارشاد فرمایا ہے:أنتم بنو آدم و آدم من تراب. "تم سب آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے ( پیداہوئے) ہیں۔"(سنن أبی داؤد).
سائنس کے حقائق کی روشنی میں:
یہ نظریہ اہم مسلمہ سائنسی نظریات ،حقائق کے مکمل خلاف ہے، ذیل میں چند ایسے اہم نظریات ملاحظہ فرمائیں جن سے نظریہ ارتقاء متصادم ہے :
حیاتیاتی پیچیدگی: نظریہ ارتقاء کے مطابق زندگی خود بخود وجود میں آئی، لیکن حیاتیاتی نظام کی پیچیدگی، جیسے ڈی این اے اور سیل کی ساخت، خودبخود بننے کے امکان کو رد کرتی ہے۔
فوسل ریکارڈ: فوسل ریکارڈ میں "عبوری شکلوں" (Transitional Forms) کی کمی نظریہ ارتقاء کو چیلنج کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایسی کوئی مخلوق نہیں ملی جو واضح طور پر ایک نوع سے دوسری نوع میں تبدیلی کا ثبوت دے۔
معاشرتی اور اخلاقی اثرات: نظریہ ارتقاء کے تحت "بقا کے لئے جدوجہد" (Survival of the Fittest) کا اصول انسانی اخلاقیات اور معاشرتی انصاف سے متصادم ہے۔
سائنس دانوں کے نظر میں:
نظریہ ارتقاء کے خلاف کئی سائنس دانوں اور محققین نے اعتراضات اٹھائے ہیں اور اپنے دلائل پیش کئے ہیں۔ ذیل میں چند مشہور سائنس دانوں اور ان کے دلائل کے حوالے ملاحظہ فرمائیں :
(1)ڈاکٹر مائیکل بیہ، (Michael Behe)جو ایک مشہور حیاتیاتی جینیات کے ماہر ہیں، اپنی کتاب Darwin’s Black Box میں کہتے ہیں کہ:"زندگی کا ہر خلیہ اتنا پیچیدہ ہے کہ یہ کسی ارتقائی عمل کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔" زندگی کے مختلف نظام "Irreducibly Complex" ہیں، یعنی حیاتیاتی نظام جیسے کہ بیکٹیریا کا فلیجلوم موٹر اتنے پیچیدہ ہیں کہ جس کے مطابق حیاتیاتی نظام ان کا ارتقائی مراحل سے گزرنا ناممکن ہے۔مثلاً: انسانی خلیے کے اندر موجود "Flagellum Motor" جیسے نظام ایک ساتھ کام کرنے والے کئی حصوں پرمشتمل ہیں، جو کسی ایک حصے کے بغیر کام نہیں کر سکتےاوریہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ زندگی کے پیچیدہ نظام کسی ذہین ڈیزائنر (خالق) کی تخلیق ہیں، نہ کہ حادثاتی ارتقاء کا نتیجہ۔
"The conclusion of intelligent design flows naturally from the data itself—not from sacred books or sectarian beliefs. Inferring that biochemical systems were designed by an intelligent agent is a conclusion based on empirical evidence.”(Book:Darwin's Black Box: The Biochemical Challenge to Evolution,Page:193)
(2) برطانوی سائنسدان فریڈ ہوئل (Fred Hoyle)نے زندگی کی ابتدا اور ارتقاء کے امکانات کو ریاضیاتی نقطہ نظر سے مسترد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک پروٹین کا خودبخود وجود میں آنا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا کہ ایک ہوائی جہاز کا خودبخود کچرے کے ڈھیر سے بن جانا، جس سے صاف معلوم ہوتا ہےکہ زندگی کی پیچیدگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ ارتقاء کے بجائے ایک ذہین خالق کی تخلیق ہے۔
"The notion that not only the biopolymer but the operating program of a living cell could be arrived at by chance in a primordial soup here on Earth is evidently nonsense of a high order.”(book:The Intelligent Universe,page:20)
(3) اسٹیفن مائر (Stephen Meyer) کے مطابق ڈی این اے کی ساخت اور اس میں موجود معلوماتی کوڈ کو ارتقاء کےمکمل خلاف ہیں ، ڈی این اے میں موجود معلوماتی نظام کسی ذہین منصوبہ بندی کے بغیر نہیں بن سکتا،لہذا زندگی کے وجود کے لیے "ذہین ڈیزائن" (Intelligent Design) کا تصور ضروری ہے۔
"DNA functions like a software program. We know from experience that software comes from programmers. The information in DNA comes from an intelligent source."( Signature in the Cell,page:347)
مذکورہ سائنس دانوں نے نظریہ ارتقاء پر علمی، سائنسی اور تجرباتی اعتراضات مطابق زندگی کی ابتدا اور ارتقاء کے عمل میں ایسی پیچیدگی موجود ہے جسے کسی ذہین خالق کے بغیر بیان نہیں کیا جا سکتا،نیز ارتقاء کے حق میں دئے گئے شواہد، جیسے فوسل ریکارڈ اور تجربات، ناقص یا جعلی ہیں، لہذا یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ارتقاء کے بجائے "ذہین ڈیزائن" اور "خالق" کا تصور زندگی کے وجود کی وضاحت کے لیے زیادہ منطقی اورمعقول ہے۔
خلاصہ:
نظریہ ارتقاء کئی سائنسی، منطقی اور دینی پہلوؤں سے کمزور ہے۔ قرآن و حدیث کے مطابق انسان کی تخلیق ایک خاص مقصد کے تحت ہوئی، جسے اللہ تعالیٰ نےاپنی قدرت اور حکمت سے انجام دیا، اس لئے مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں اللہ کی طرف سےدی گئی تعلیمات پریقین رکھناچاہیےاوران نظریات کوقبول نہیں کرنا چاہیے جو اسلامی عقائدسےمتصادم ہوں۔
حوالہ جات
«الجامع لعلوم الإمام أحمد - الرجال» (18/ 135):
«عن ابن سيرين قال: إن هذا العلم دين، فانظروا عمن تأخذونه.»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (5/ 377):
«قال الشيخ الإمام صدر الإسلام أبو اليسر نظرت في الكتب التي صنفها المتقدمون في علم التوحيد فوجدت بعضها للفلاسفة مثل إسحاق الكندي والاستقراري وأمثالهما وذلك كله خارج عن الدين المستقيم زائغ عن الطريق القويم فلا يجوز النظر في تلك الكتب ولا يجوز إمساكها فإنها مشحونة من الشرك والضلال قال ووجدت أيضا تصانيف كثيرة في هذا الفن للمعتزلة مثل عبد الجبار الرازي والجبائي والكعبي والنظام وغيرهم فلا يجوز إمساك تلك الكتب والنظر فيها كي لا تحدث الشكوك ولا يتمكن الوهن في العقائد .... وقد صنف الأشعري كتبا كثيرة لتصحيح مذهب المعتزلة ثم إن الله عز وجل لما تفضل عليه بالهدى صنف كتابا ناقضا لما صنف لتصحيح مذهب...ومن العلوم المذمومة علوم الفلاسفة فإنه لا يجوز قراءتها لمن لم يكن متجرا في العلم وسائر الحجج عليهم وحل شبهاتهم والخروج عن إشكالاتهم.»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
11/رجب /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


