| 86801 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم علماء کرام، میرا نام منصور ہے، عمر 30 سال، اور غیر شادی شدہ ہوں ۔ میں آپ سے اپنی منگنی کے حوالے سے رہنمائی چاہتا ہوں جو میرے لیے گزشتہ ڈیڑھ مہینوں سے شدید ذہنی پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔ دو سال پہلے میری پہلی منگنی ختم ہوگئی کیونکہ لڑکی کے خاندان نے میری نوکری پر اعتراض کیا۔ اس کے بعد سے میرے والدین چاہتے تھے کہ میں جلد از جلد شادی کرلوں کیونکہ میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں۔ ایک دن جب میری والدہ میری شادی میں تاخیر پر پریشان تھیں، تو انکی خواہش کی خاطر میں نے ان کا فون چیک کیا اور رشتہ کرانے والی خاتون کے میسجز چیک کیے جو میری والدہ کو رشتے بھیجتی رہتی تھی ۔ایک لڑکی جو مجھے تصویر میں اچھی لگی اور تفصیلات معلوم کرنے پر مجھے معلوم ہوا کہ وہ یونیورسٹی پڑھی ہوئی ہیں، جو میرے لیے ایک اہم بات تھی،کے لیے میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ وہ اس لڑکی کے بارے میں مزید معلوم کریں۔ میر ی والدہ نے اس لڑکی کے گھر جا کر اسے پسند کیا اور انہوں نے بھی ہمارے گھر آکر مجھے پسند کیا۔ دونوں خاندانوں میں رشتے کے لیے پسندیدگی ہوئی اور رشتہ کی بات مزید بڑھانا طے پائی۔ رشتہ طے کرنے کے لیے میں نے شرط رکھی کہ ایک با ر میں اس لڑکی کو دیکھ کر حتمی فیصلہ کروں گا جس کا ذکر میں نے اپنی والدہ سے صاف صاف کیا۔ لڑکی والوں کی طرف جانے سے پہلے میرے والد نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں اس رشتے کے لیے تیار ہوں اور کیا میں کوئی مسئلہ تو نہیں کھڑا کروں گا؟ میں نے کہا کہ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، جبکہ میری نیت یہ تھی کہ میں لڑکی کو دیکھ کر فیصلہ کروں گا، جسے میں اپنی والدہ سے کہہ چکا تھا کیونکہ میں نے حدیث میں پڑھا تھا کہ شادی کے ارادے سے ایک بار لڑکی کو دیکھنا چاہیے۔ جب ہم لڑکی سے ملے تو میں نے محسوس کیا کہ تصویر اور حقیقت میں فرق ہے، اور میں اس میں کوئی کشش محسوس نہیں کر رہا تھا۔ اس کے باوجود، میرے والد نے میری رائے لیے بغیر اور قبل از وقت مطلع کئے بغیر لڑکی کو مالی رقم دی، جو اس بات کی علامت تھی کہ انہوں نے شادی کے لیے رضامندی دے دی۔ اگلے دن جب میرے والدین نے میری رضامندی مانگی تو میں نے انہیں بتایا کہ میں اس رشتے کے لیے مطمئن نہیں ہوں۔ لیکن انہوں نے زور دیا کہ وہ ایک اچھے خاندان کی ہے اور اس کا کردار بھی اچھا ہے۔جبکہ میری وجہ اعتراض اس کی خوبصورتی کو لے کر کی تھی کہ وہ مجھے بیوی کے طور پر پسند نہیں آئی۔ میری والدہ نے کہا کہ جب آپ کے والد نے تحفہ دے دیا تو یہ فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھا، اور انہوں نے میری باتوں کو نظر اندا کیا۔ خاندان کے دباؤ اور ذہنی الجھن کے باعث میں نے ہچکچاتے ہوئے منگنی کے لیے ہاں کر دی، یہ سوچتے ہوئے کہ شاید وقت کے ساتھ میرے جذبات بدل جائیں۔ لیکن منگنی کے بعد سے میں شدید ذہنی پریشانی، بے خوابی اور روحانی بے سکونی کا شکار ہوں جبکہ رشتہ کی بات طے ہونے سے لیکر آج تک میں مسلسل نماز، تہجد اور استخارہ کر رہا ہوں اور اللہ سے رہنمائی مانگ رہا ہوں، لیکن ابھی تک سکون حاصل نہیں ہوا۔ جبکہ منگنی کے فنکشن سے لیکر آج تک ہماری چا ر ملاقاتیں (فیملی کی موجودگی میں ، تنہائی میں بالکل نہیں) ہو چکی ہیں۔ میری منگیتر نے خود مجھ سے رابطہ قائم کیا ،فیملی والوں نے سمجھایا کہ جلد تمہاری اس میں دلچسپی پیدا ہوگی لیکن یہ سب بے سود ثابت ہو رہا ۔ نکاح ایک دینی ذمہ داری ہے اور میں زوجین کے حقوق کے بارے میں باخوبی علم رکھتا ہوں لہذا نہ اپنے آپ کو اور نہ ہی اسے دھوکے میں رکھنا چاہتا ہوں۔ میں آپ سے عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ آپ مندرجہ ذیل معاملات پر میری رہنمائی فرمائیں: 1. کیا میری منگنی اسلامی تعلیمات کے مطابق درست ہے، جبکہ میری رضامندی مکمل اور آزادانہ نہیں تھی؟ 2. کیا اپنے والد سے گھر جانے سے پہلے کی گئی بات میری حتمی رضامندی شمار ہوگی، یا یہ اس شرط پر تھی کہ میں لڑکی کو دیکھ کر فیصلہ کروں گا؟ 3. اگر میں اسی حالت میں رہتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ میں اس شادی کو جاری نہیں رکھ سکتا، تو کیا منگنی ختم کرنا والدین کی نافرمانی یا ان کی بے عزتی میں شمار ہوگا؟ 4. میں اپنے والدین کی اطاعت اور اپنی حقوق، جذبات اور ذہنی سکون کو اسلامی نقطہ نظر سے کیسے متوازن رکھ سکتا ہوں؟ جزاکم اللہ خیراً کہ آپ نے وقت نکالا اور رہنمائی فرمائی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت نےمحض خوبصورتی کی وجہ سےلڑکی کےانتخاب کوناپسندقراردیاہےاورعورت کے دیندارہونےکوترجیح دی ہے۔لہذا عورت کی خوبصورتی کےبجائےدینداری کوترجیح دیں۔اپنےخواہشات پر والدین کی رضامندی اور ان کی خواہش و عزت کو مقدم کریں اوران کےرضامندی اورعزت کےمقابلےمیں کسی چیز کونہ دیکھیں۔اولاداگروالدین کی عزت اوران کےحقوق کاخیال نہ رکھے تویہ شرعاًبہت معیوب ہے۔اس طرح والدین کوبھی اولادکےحقوق کاخیال رکھنےکا حکم دیا گیاہے۔جب شریعت کی ان تعلیمات پرعمل ہوجائےتواس قسم کےتمام معاملات اچھی طرح حل ہوسکتے ہیں ۔لہذاآپ اگراپنی خواہش کو والدین کےرضامندی اورعزت کےلیےقربان کریں اور ان کی طے شدہ بات مان جائیں توبہت بڑی سعادت اوردنیاوآخرت میں نفع کاباعث ہوگا۔البتہ اگربہت بڑاحرج لازم آرہاہے تو ہےکہ ایسی منگنی کوختم کرنےپرگناہ نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
قال اللہ تبارک وتعالی :وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنًاۚ إِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفّٖ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلٗا كَرِيمٗا . وَٱخۡفِضۡ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّحۡمَةِ وَقُل رَّبِّ ٱرۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرٗا . [الإسراء: 23-24]
قال اللہ تبارک وتعالی : وَأَوۡفُواْ بِٱلۡعَهۡدِۖ إِنَّ ٱلۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔولٗا. [الإسراء: 34]
أخرج الإمام بخاری رحمہ اللہ فی صحیحہ :(الرقم: 503) عن عبد الله ابن مسعود رضی اللہ عنہ ، قال:
سألت النبي صلى الله عليه وسلم: أي العمل أحب إلى الله؟ قال: (الصلاة على وقتها). قال: ثم أي؟ قال: (ثم بر الوالدين). قال: ثم أي؟ قال: (الجهاد في سبيل الله). قال: حدثني بهن، ولو استزدته لزادني.
) صحيح البخاري: 1/ 197)
أخرج الإمام أحمدرحمہ اللہ فی مسندہ(الرقم: 25043)عن عائشة قالت: جاءت فتاة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، إن أبي زوجني ابن أخيه يرفع بي خسيسته. فجعل الأمر إليها. قالت: فإني قد أجزت ما صنع أبي، ولكن أردت أن تعلم النساء أن ليس للآباء من الأمر شيء.
( مسند أحمد :41 / 2 49 )
أخرج الإمام بخاری رحمہ اللہ فی صحیحہ :(الرقم: 33) عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان. (صحيح البخاري: 1/ 21)
قال العلامۃ العینی رحمہ اللہ : (إذا وعد أخلف) نبه على فساد النية، لأن خلف الوعد لا يقدح إلا إذا عزم عليه مقارنا بوعده، أما إذا كان عازما ثم عرض له مانع أو بدا له رأي فهذا لم توجد فيه صفة النفاق.
(عمدة القاري :1/ 221)
قال العلامۃ البغوی رحمہ اللہ :وقال ابن عمر: «إنما سماهم الله أبرارا، لأنهم بروا الآباء والأبناء، كما أن لوالدك عليك حقا، كذلك لولدك عليك حق.(شرح السنة للبغوي:13/ 37)
قال العلامۃ عینی رحمہ اللہ : قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: (ولدينها) لأنه به يحصل خير الدنيا والآخرة، واللائق بأرباب الديانات وذوي المروآت أن يكون الدين مطمح نظرهم في كل شيء، ولا سيما فيما يدوم أمره، ولذلك اختاره الرسول صلى الله عليه وسلم بآكدوجه وأبلغه. (عمدة القاري : 20/ 86)
قال الملا علی القاری رحمہ اللہ:رواه الطبراني في الأوسط. قال النبی صلى الله عليه وسلم: لا تتزوجوا النساء لحسنهن، فعسى حسنهن أن يرديهن، ولا تتزوجوهن لمالهن فعسى أموالهن أن تطغينهن، ولكن تزوجوهن على الدين، ولأمة خرماء سوداء ذات دين أفضل. )مرقاة المفاتيح :5/ 2043)
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :من أصبح مطيعا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة، وإن كان واحدا فواحدا، ومن أمسى عاصيا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من النار، إن كان واحدا فواحدا " قال رجل: وإن ظلماه؟ قال: وإن ظلماه، وإن ظلماه، وإن ظلماه.
قال رحمہ اللہ أیضاً:قال الطيبي رحمہ اللہ : يراد بالظلم ما يتعلق بالأمور الدنيوية لا الأخروية.
(مرقاة المفاتيح: 7/ 3098)
وعن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته ; فالإمام الذي على الناس راع وهو مسئول عن رعيته، والرجل راع على أهل بيته.
) مرقات المفاتیح6:/ 2402)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: قال في شرح الطحاوي: لو قال هل أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح. (رد المحتار: 3/ 11)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) ولا الحر البالغ.(رد المحتار :3/ 58)
محمدادریس
دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
/20رجب المرجب1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن غلام محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


