03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قدرتی آفات میں غیر مسلموں کی مالی مدد ، اور ان کی غم میں شریک ہونا
86730حکومت امارت اور سیاستدارالاسلام اور دار الحرب اور ذمی کے احکام و مسائل

سوال

قدرتی آفات مثلا: آگ ،زلزلہ ،سیلاب وغیرہ میں متاثرہ ہونے والے غیر مسلموں کی مدد کرنے اور  غم میں شریک ہونے  کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے ؟ مکمل تفصیل دلیل کے ساتھ درکار ہے ۔ کچھ لوگ موجودہ لاس اینجلس میں لگنی والی آگ پر خوشیاں منارہے ہیں، اس بارے میں اسلام کیا کہتا ہے ؟ جبکہ 2005 میں ہونے والے زلزلہ میں امریکہ نے پاکستان کی مالی امداد کی تھی اور لوگوں کو ریسکیو کرنے کےلئے اپنی ٹیموں کو پاکستان بھیجا تھا ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 اسلام ہمیشہ اعتدال اور انصاف کا درس دیتا ہے اور    نا انصافی سے بچنے کی تاکید کرتا ہے۔ جہاں تک مذکورہ سوال کا تعلق ہے،  قرآن و احادیث اور سلف صالحین کے عمل سے ہمیں دو مختلف پہلو ملتے ہیں، اور دونوں اپنی جگہ معقول اور مدلل ہیں۔

جب کبھی کفار نے انفرادی یا اجتماعی طور پر اسلام یا پیغمبرِ اسلام کے خلاف نازیبا حرکت کی ہویا مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھایا ہو یا کسی قسم کی سازش میں ملوث ہوں، تو قرآن و سنت میں ان کے خلاف سخت ردعمل کا ذکر ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے ایسے کفار کی تباہی اور بربادی کا ذکر کیا ہے اور ظالم کفار کے حق میں بددعا بھی کی گئی ہے۔احادیث میں ایسی مثالیں ملتی ہیں جہاں رسول اللہ ﷺ نے ان ظالم کفار کے مرنے پر خوشی کا اظہار کیا جو مسلمانوں کو شدید تکلیف اور نقصان پہنچاتے تھے۔ یہ اظہارِ مسرت ان کے ظلم اور زیادتیوں کے خاتمے پر تھا۔بے گناہ انسانوں کے مصیبت زدہ ہونے پر خوشی ، اسوہ رسول ﷺ میں نہیں ہے۔

 اسلام میں ان کفار کے ساتھ نرمی اور انصاف کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جو اسلام کے خلاف محاذ آرائی یا ظلم میں ملوث نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا:اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دین کے معاملے میں نہیں لڑتے اور نہ ہی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالتے ہیں۔" (الممتحنہ: 8)

رسول اللہ ﷺ نے عام کفار کی عیادت، ان کے ساتھ انصاف، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ عام غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کی مدد اسلام کی روح کے مطابق ہے۔مذکورہ اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، امریکہ کے بارے میں موجودہ موقف کو دو زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے:

 جو افراد حکومتی سطح پر عالم اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں براہ راست ملوث ہیں، جیسے غیر منصفانہ جنگوں، اقتصادی پابندیوں، یا سازشوں کے ذریعے ظلم و زیادتی کرتے ہیں،   ان کے لیے کسی بھی قسم کے ہمدردی کے جذبات رکھنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہوگا، کیونکہ انہوں نے جان بوجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔امریکہ کےعوام کی اکثریت حکومتی فیصلوں اور پالیسیوں میں ملوث نہیں ہوتے اور ان میں سے کئی ظلم و ستم کے خلاف آواز بھی بلند کرتے ہیں۔ یہ لوگ ان مظالم کے ذمہ دار نہیں ہیں، بلکہ وہ بھی کبھی کبھار اپنی حکومت کے فیصلوں کی زد میں آ جاتے ہیں۔
لاس اینجلس کی آگ میں متاثر ہونے والے  امریکیوں میں ایسے     لوگ بھی ہیں جو امریکہ کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف ہیں ،  ان کے لیے انسانی بنیادوں پر ہمدردی  کے جذبات رکھنااور ان کی  مدد کرنا اسلامی نقطۂ نظر سے نہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مظلوم کی مدد کریں، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا علاقے سے تعلق رکھتا ہو۔ البتہ اسی شہر میں بکثرت وہ لوگ بھی رہتے ہیں جو امریکا کے ظالمانہ کاروائیوں کی کھل کر تائید کرتے ہیں  اور یہ معروف لوگ ہیں رائے عامہ ان سے متاثر ہوتی ہے ، ایسے لوگوں کے لئے کسی قسم کی ہمدردی مناسب نہیں ہے۔  

حوالہ جات

القرآن الکریم :

ﵟلَّا يَنۡهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ لَمۡ يُقَٰتِلُوكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوكُم مِّن دِيَٰرِكُمۡ أَن تَبَرُّوهُمۡ وَتُقۡسِطُوٓاْ إِلَيۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُقۡسِطِينَ 8 إِنَّمَا يَنۡهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ قَٰتَلُوكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَأَخۡرَجُوكُم مِّن دِيَٰرِكُمۡ وَظَٰهَرُواْ عَلَىٰٓ إِخۡرَاجِكُمۡ أَن تَوَلَّوۡهُمۡۚ وَمَن يَتَوَلَّهُمۡ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ 9ﵞ 

ﵟوَيَصۡنَعُ ٱلۡفُلۡكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَأٞ مِّن قَوۡمِهِۦ سَخِرُواْ مِنۡهُۚ قَالَ إِن تَسۡخَرُواْ مِنَّا فَإِنَّا نَسۡخَرُ مِنكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُونَ 38 فَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ مَن يَأۡتِيهِ عَذَابٞ يُخۡزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٞ مُّقِيمٌ 39ﵞ 

«صحيح البخاري» (1/ 94):

«قال: وحدثني أحمد بن عثمان قال: حدثنا شريح بن مسلمة قال: حدثنا إبراهيم بن يوسف عن أبيه، عن أبي إسحق قال: حدثني عمرو بن ميمون: أن عبد الله بن مسعود حدثه:أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي عند البيت، وأبو جهل وأصحاب له جلوس، إذ قال بعضهم لبعض: أيكم يجيء بسلى جزور بني فلان، فيضعه على ظهر محمد إذا سجد؟ فانبعث أشقى القوم فجاء به، فنظر حتى سجد النبي صلى الله عليه وسلم، وضعه على ظهره بين كتفيه، وأنا أنظر لا أغير شيئا،لو كان لي منعة، قال: فجعلوا يضحكون ويحيل بعضهم على بعض، ورسول الله صلى الله عليه وسلم ساجد لا يرفع رأسه، حتى جاءته فاطمة، فطرحت عن ظهره، فرفع رأسه ثم قال: (‌اللهم ‌عليك ‌بقريش) ثلاث مرات، فشق عليهم إذ دعا عليهم، قال: وكانوا يرون أن الدعوة في ذلك البلد مستجابة، ثم سمى: (اللهم عليك بأبي جهل، وعليك بعتبة بن ربيعة، وشيبة بن ربيعة، والوليد بن عتبة، وأمية بن خلف، وعقبة بن أبي معيط). وعد السابع فلم نحفظه، قال: فوالذي نفسي بيده، لقد رأيت الذين عد رسول الله صلى الله عليه وسلم صرعى، في القليب قليب بدر.»

«المعجم الأوسط للطبراني» (2/ 284):

حدثنا أحمد بن عمرو قال: نا عبد الواحد بن غياث قال: نا أبو عوانة، عن هلال بن خباب، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: غزا رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوا، فلم يفرغ حتى أمسى بالصلاة، عن الوقت الذي كان رسول الله يحافظ عليه، فلما فرغ منهم نظر فإذا صلاة العصر قد أمسى بها، فصلى، فلما فرغ من صلاته دعا على عدوه، فقال: «اللهم من شغلنا، عن الصلاة الوسطى فاملأ ‌بيوتهم ‌نارا، واملأ أجوافهم نارا، واملأ قبورهم نارا»

 الفتاوی الھندیۃ  )128/5)

إذا مات الکافر،  قال لولدہ أو قریبہ  فی تعزیتہ : أخلف اللہ علیک خیرامنہ  وأصلحک ، أی أصلحک بالإسلام  ورزقک ولدا مسلما ؛ لأن الخیریۃ بہ تظھر.

رد  المحتار  (557/9):

جار يهودي أو مجوسي مات ابن له أو قريب ينبغي أن يعزيه، ويقول أخلف الله عليك خيرا منه وأصلحك ،وكان معناه: أصلحك الله بالإسلام، يعني رزقك الإسلام ورزقك ولدا مسلما .

 زاہد خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

29  /رجب/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زاہد خان بن نظام الدین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب