| 86754 | تاریخ،جہاد اور مناقب کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اہل سنت والجماعت کا کیا عقیدہ ہے؟ کیا وہ صلحِ حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے پہلے باغی شمار ہوتے تھے یا نہیں؟ اور اگر وہ باغی نہیں تھے، تو کیا ایک ہی وقت میں دو خلیفہ ہو سکتے ہیں؟ ان کی خلافت کی کیا حیثیت ہے صلحِ حسن سے پہلے؟ تفصیلی جواب مع الحوالہ مرحمت فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین( بشمول حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ) عدول اور ثقہ ہیں حدیث میں بھی اور ان کی عام زندگی میں بھی ، ان کی عدالت نصوصِ قطعیہ سے ثابت ہے"الصحابۃ کلہم عدول " اور اللہ تعالی ان حضرات سے راضی ہونے کا پروانہ ان کو دنیا میں دے چکے ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے آپس کے اختلاف کے بارے میں اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ ان مشاجرات میں اور خاص طور پر حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنھما کے باہم جنگوں میں حق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء سے اجتہادی غلطی ہوئی تھی ،یعنی دونوں فریق کو دین کی بہتری اورسر بلندی مطلوب تھی اور اسی میں ایک فریق سے اجتہادی خطا ہونےکی وجہ سے اختلاف کی نوبت آئی،لہذا کسی صحابی پر طعن کرنا حرام ہے اورجب ان سب اختلافات کے باوجود اللہ ان سے راضی ہے تو ان کے متعلق بد کلامی کر کے اپنی آخرت کو برباد نہیں کرنا چاہیے۔
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت تک حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کبهی بهی اپنی خلافت کا دعوی یا اعلان نہیں فرمایا، حضرت علی کی شہادت کے بعد بیت المقدس میں حضرت معاویہ نے اہل شام سے اپنی خلافت کی بیعت لی ،لہٰذا ان ایام میں آپ خلیفہ نہیں بلکہ صرف امیر و حاکم تهے ،(تاریخ امت مسلمہ336/2 )البتہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے صلح کے بعد آپ کی خلافت اجماعی بن چکی تھی ۔باقی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق تاریخی حقائق کو مفصل طور پر جاننے اور سمجھنے کے لئے حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی کتاب بنام حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور تاریخی حقائق“ کا مطالعہ کرلیں، اس کتاب کو پڑھ کر صحیح صورت حال واضح ہو جائے گی۔
حوالہ جات
منهاج السنة النبوية (5/ 244):
قال إسحاق بن راهويه: حدثنا أبو نعيم، حدثنا سفيان، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، قال: سمع علي يوم الجمل أو يوم صفين رجلا يغلو في القول، فقال:لا تقولوا إلا خيرا، إنما هم قوم زعموا إنا بغينا عليهم، وزعمنا أنهم بغوا علينا فقاتلناهم. فذكر لأبي جعفر أنه أخذ منهم السلاح. فقال: ما كان أغناه عن ذلك.... أن أصحاب علي سألوه عمن قتل من أصحاب معاوية ما هم؟ قال: هم مؤمنون.
المنتظم في تاريخ الملوك والأمم (5/ 167):
وفِي هذه السنة بويع لمعاوية بالخلافة بإيلياء :قَالَ سعيد بن عبد العزيز: كان علي رضي الله عنه يدعى بالعراق أمير المؤمنين، وكان معاوية يدعى بالشام الأمير، فلما قتل علي رضي الله عنه دعي معاوية بأمير المؤمنين.
تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري (5/ 161):
وفي هذه السنة بويع لمعاوية بالخلافة بإيلياء، حدثني بذلك موسى بن عبد الرحمن، قال: حدثنا عثمان بن عبد الرحمن، قال: أخبرنا إسماعيل ابن راشد- وكان قبل يدعى بالشام أميرا- وحدثت عن أبي مسهر، عن سعيد بن عبد العزيز، قال: كان على ع يدعى بالعراق أمير المؤمنين، وكان معاوية يدعى بالشام: الأمير، فلما قتل على ع دعى معاويه: امير المؤمنين.
الموسوعة العقدية (7/ 318 بترقيم الشاملة آليا):
وقد تجاهل أولئك الواصفون لأبي موسى وعمرو بما تقدم ذكره أموراً لو دققوا النظر فيها لاستحيوا من ذكر تلك الأوصاف وتلك الأمور هي:
الأمر الأول:أنهم تجاهلوا أن معاوية لم يكن خليفة ولا هو ادعى الخلافة يومئذ حتى يحتاج عمرو إلى خلعها عنه أو تثبيتها له.الأمر الثاني:أن سبب النزاع هو أخذ الثأر لعثمان رضي الله عنه من قتلته فلما طلب علي البيعة من معاوية (اعتل بأن عثمان قتل مظلوماً وتجب المبادرة إلى الاقتصاص من قتلته وأنه أقوى الناس على الطلب بذلك والتمس من علي أن يمكنه منهم ثم يبايع له بعد ذلك) (3) ومعنى هذا أن معاوية كان مسلماً لعلي بالخلافة لأنه طلب منه بوصفه الخليفة تسليم القتلة، أو إقامة الحد عليهم باعتباره أمير المؤمنين.
(شرح الفقہ الاکبر ص ۸۶، ۹۶)
لما قال العلامة ملا علی القاری رحمہ اللہ: وخلافة النبوة ثلاثون سنة _منہا خلافة الصدیق سنتان وثلاثة اشہر وخلافة عمر عشر سنین ونصف وخلافة عثمان اثنتا عشرة سنة وخلافة علی اربع سنین وتسعة اشہر وخلافة ابنہ ستة اشہر واول ملوک المسلمین معاویة وہو افضلہم لکنہ انما صار اماما حقا لما فوض الیہ الحسن بن علی الخلافة فان الحسن بایعہ اہل العراق بعد موت ابیہ ثم بعد ستة اشہر فوض الامر الی معاویة والقصة مشہورة وفی الکتب المبسوط مستورہ.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی
28/رجب /6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


