03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض کی واپسی کو کسی چیز کی قیمت کے ساتھ معلق کرنا
87439خرید و فروخت کے احکام دین )معاوضہ جو کسی عقدکے نتیجے میں لازم ہوا(کی خرید و فروخت

سوال

میرے پاس کچھ پیسے تھے جس سے میں اپنے  گھر کے لئے کنسٹرکشن کا سامان لے کر رکھنا چاہ رہا تھا ،تاکہ جب گھر بنانا شروع کروں تو کچھ آسانی ہو۔ایک رشتہ دار نے مجھ سے ادھار پیسے مانگ لئے تو میں نے اس شرط پر اس  کو پیسے ادھار دیے کہ جب میں گھر بناؤں گا،اس   وقت جو سامان کا ریٹ ہوگا، تو اس حساب سے آپ کو مجھے پیسے واپس دینے پڑیں گے یا مجھے وہ مٹیریل خرید کر دیناہوگا۔ مثال کے طور پہ پیسے دیتے وقت سیمنٹ کی بوری 1000روپے کی تھی ، آج کل اس کی قیمت 1500 ہے اور میں نے  ابھی کنسٹرکشن کرنا ہے ،جبکہ وہ 1500 روپے والی بوری سیمنٹ کی خرید کر مجھے دینے یا 1500 روپے دینےکا پابند ہے ۔ تو کیا اس طرح ڈیل کرنا یا اس طرح پیسے لینا  جائز ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قرض کے بارے میں شرعی اصول یہ ہے کہ جتنا قرض لیاجائے اتنی ہی مقدارقرض دار پر واپس کرنالازم ہے، چاہے جتنے عرصے بعد واپسی ہو، قرض میں دی گئی رقم کی مالیت گھٹنے یا بڑھنے کا شریعت نے اعتبار نہیں کیا ہے، اگر قرض کی واپسی میں اضافہ کی شرط لگائی جائے تو وہ عین سود ہوگا۔

سائل کا اپنے رشتہ دار کو قرض دیتے وقت  رقم کی واپسی کو کنسٹرکشن کے میٹیریل کی قیمت کے ساتھ مشروط کرنا درست نہیں تھا،لہذا سائل صرف اسی رقم کا مستحق ہےجو اس نے اپنے رشتہ دار کو دی ہے،رقم میں اضافہ یا کمی کرناسود کے زمرہ میں داخل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے۔

حوالہ جات

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (4/ 175):

والأصل فيه أن النبي صلى الله عليه وسلم «نهى عن ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا»

شرح الزيادات - قاضي خان (5/ 1536):لما عرف ‌أن ‌الديون ‌تُقضي بأمثالها لا بأعيانها.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

 8/ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب