| 87592 | خرید و فروخت کے احکام | دین )معاوضہ جو کسی عقدکے نتیجے میں لازم ہوا(کی خرید و فروخت |
سوال
مفتی صاحب میں نے چند دن قبل درج ذیل سوال پوچھا تھا ۔
میرے پاس کچھ پیسے تھے جس سے میں اپنے گھر کے لئے کنسٹرکشن کا سامان لے کر رکھنا چاہ رہا تھا ،تاکہ جب گھر بنانا شروع کروں تو کچھ آسانی ہو۔ایک رشتہ دار نے مجھ سے ادھار پیسے مانگ لئے تو میں نے اس شرط پر اس کو پیسے ادھار دیے کہ جب میں گھر بناؤں گا،اس وقت جو سامان کا ریٹ ہوگا، تو اس حساب سے آپ کو مجھے پیسے واپس دینے پڑیں گے یا مجھے وہ مٹیریل خرید کر دیناہوگا۔ مثال کے طور پہ پیسے دیتے وقت سیمنٹ کی بوری 1000روپے کی تھی ، آج کل اس کی قیمت 1500 ہے اور میں نے ابھی کنسٹرکشن کرنا ہے ،جبکہ وہ 1500 روپے والی بوری سیمنٹ کی خرید کر مجھے دینے یا 1500 روپے دینےکا پابند ہے ۔ تو کیا اس طرح ڈیل کرنا یا اس طرح پیسے لینا جائز ہے ؟
جواب
قرض کے بارے میں شرعی اصول یہ ہے کہ جتنا قرض لیاجائے اتنی ہی مقدارقرض دار پر واپس کرنالازم ہے، چاہے جتنے عرصے بعد واپسی ہو، قرض میں دی گئی رقم کی مالیت گھٹنے یا بڑھنے کا شریعت نے اعتبار نہیں کیا ہے، اگر قرض کی واپسی میں اضافہ کی شرط لگائی جائے تو وہ عین سود ہوگا۔
سائل کا اپنے رشتہ دار کو قرض دیتے وقت رقم کی واپسی کو کنسٹرکشن کے میٹیریل کی قیمت کے ساتھ مشروط کرنا درست نہیں تھا،لہذا سائل صرف اسی رقم کا مستحق ہےجو اس نے اپنے رشتہ دار کو دی ہے،رقم میں اضافہ یا کمی کرناسود کے زمرہ میں داخل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے۔
اب اگر مٹیریل خرید کر دے دے تو کوئی گنجائش نکل آئے گی یا اس کا بھی یہی ناجائز کا حکم ہوگا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مذکورہ میں جب سائل نے اپنے رشتہ دار کو کرنسی (روپیہ) کی صورت میں قرض دے کر وصولی کے وقت کنسٹرکشن کے میٹیریل کی قیمت کے حساب سے روپیہ واپس لینا یا میٹیریل لینا طے کیا تھا ،تو یہ قرض کا معاملہ تھا اور قرض کے بارے میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے یہ اصول لکھا ہے کہ"الديون تقضى بأمثالها" یعنی قرض اپنی مثل کے ساتھ واپس لوٹائے جاتے ہیں۔ مطلب یہ کہ قرض جس جنس،کوالٹی اور جتنی مقدار میں دیا جائے گا اسی جنس، اسی کوالٹی اور اتنی ہی مقدار میں واپس لیا جائے گا، قرض کے طور پر دی گئی چیز کی جنس، کوالٹی اور مقدار وغیرہ میں کمی بیشی کی شرط لگانے سے معاملہ سودی ہو جائے گا، جس کی شرعاً بالکل اجازت نہیں۔البتہ اگر معاملہ کرتے وقت کمی بیشی اور جنس کی تبدیلی وغیرہ کی کوئی شرط سائل نے نہ لگائی ہوتی اور اب دونوں فریقین باہمی رضامندی سے بطورِ صلح قرض دی گئی رقم کے عوض میٹیریل لینا طے کر لیتے ،تو پھر یہ جائز ہوتا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کو شرعاً روپیہ کی جنس میں سے صرف دی گئی رقم ہی واپس لینے کا حق حاصل ہے، اس کے عوض میٹیریل کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔
حوالہ جات
فتح القدير للكمال ابن الهمام (8/ 110):
(لأن الديون تقضى بأمثالها) لا بأعيانها (إذ قبض الدين نفسه) أي قبض نفس الدين (لا يتصور) لأنه وصف ثابت في ذمة من عليه (إلا أنه جعل استيفاء العين حقه من وجه) استثناء من قوله لأن الديون تقضى بأمثالها: يعني أن الديون وإن كانت تقضى بأمثالها لا بأعيانها لما ذكرنا آنفا، إلا أن قبض المثل جعل استيفاء لعين حق الدائن من وجه ولهذا يجبر المديون على الأداء، ولو كان تملكا محضا لما أجبر عليه، وكذا إذا ظفر الدائن بجنس حقه حل له الأخذ.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 61):
الربا هو الفضل المستحق لأحد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 395):
(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض، فأما إذا كانت غير مشروطة فيه ولكن المستقرض أعطاه أجودهما؛ فلا بأس بذلك؛ لأن الربا اسم لزيادة مشروطة في العقد، ولم توجد، بل هذا من باب حسن القضاء، وأنه أمر مندوب إليه قال النبي عليه السلام: «خيار الناس أحسنهم قضاء»۔
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
22/ذی قعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


