| 87427 | قسم منت اور نذر کے احکام | متفرّق مسائل |
سوال
میں نے قسم کھائی تھی کہ دس دنوں تک صبح فجر سے لے کر دن بارہ بجے تک اپنی نیت سے کبھی نہیں سوؤں گا،ہاں اگر مجھے نیند خود آجائے تو اس میں میرا کوئی دخل نہیں ہوگا ،توجب مجھے شدید نیند آیا کرتی تو میں حیلے کے طور پر لیٹ جایا کرتا تھا یا پیٹ کے بل ٹیک لگایا کرتاتھا لیکن نیت سونے کی نہیں ہوتی تھی مگر مجھے یقین تھا ایسا کرنے سےمجھے نیند آجائے گی ، تو سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں میری قسم ٹوٹ گئی ہے؟ اور اگر ٹوٹ گئی ہے تو کفارہ ادا کرنے کا طریقہ بتادیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں چونکہ قسم نیت کے ساتھ مشروط کی گئی تھی، یعنی قسم کھاتے وقت یہ کہا گیا کہ "میں اپنی نیت سے نہیں سوؤں گا"، اور بعد میں سوجانے کی حالت میں نیت موجود نہ تھی، لہٰذا اس صورت میں قسم نہیں ٹوٹی۔چونکہ قسم کی بنیاد نیت پر تھی اور وہ نیت سوتے وقت موجود نہ تھی، اس لیے یہ فعل قسم کے خلاف شمار نہیں ہوگا۔ لہٰذا نہ قسم ٹوٹی ہے اور نہ ہی اس پر کفارہ لازم آئے گا۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 743):
«أن مرادنا بانصراف الكلام إلى العرف إذا لم تكن له نية، وإن كان له نية شيء واللفظ يحتمله انعقد اليمين باعتباره اهـ وتبعه في البحر وغيره.»
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (5/ 92):
(وأما) النذر الذي لا تسمية فيه فحكمه وجوب ما نوى إن كان الناذر نوى شيئا سواء كان مطلقا عن شرط، أو معلقا بشرط، بأن قال: لله علي نذر أو قال: إن فعلت كذا فلله علي نذر، فإن نوى صوما أو صلاة أو حجا أو عمرة، لزمه الوفاء به في المطلق للحال، وفي المعلق بالشرط عند وجود الشرط، ولا تجزيه الكفارة في قول أصحابنا على ما بينا، وإن لم تكن له نية فعليه كفارة اليمين، غير أنه إن كان مطلقا يحنث للحال، وإن كان معلقا بشرط يحنث عند الشرط، لقوله عليه الصلاة والسلام: «النذر يمين وكفارته كفارة اليمين»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 420):
«إذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا»
«الهداية في شرح بداية المبتدي» (1/ 244):
«وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط»
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (3/ 18):
«ثم وقت وجوب الكفارة في اليمين المعقودة على المستقبل هو وقت وجود الحنث فلا يجب إلا بعد الحنث عند عامة العلماء.»
«شرح مختصر الطحاوي» للجصاص (7/ ,377410):
«قوله تعالى: {ذلك كفارة أيمانكم إذا حلفتم واحفظوا أيمانكم}، وحفظ اليمين: مراعاتها لوقت وجوب الكفارة فيها عند الحنث،».....«قيل له: لا خلاف أن الكفارة غير واجبة بنفس اليمين، فإذا في الآية ضمير، وهو الحنث، كأنه قال: "ذلك كفارة ايمانكم إذا حلفتم وحنثتم"، كقوله تعالى: {فمن كان منكم مريضا أو به أذى من راسه ففدية من صيام أو صدقة أو نسك}: معناه: فحلق، {ففدية من صيام}.»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
10/ذی قعدہ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


