03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈراپ شپنگ کو اسلامی اصولوں کے مطابق کرنے کے لئے متوقع سافٹ ویئر کا حکم
87454خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میں ایک سافٹ ویئر بنانا چاہتا ہوں جو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈراپ شپنگ کے مسئلے کو حل کرے۔اس کے لئے میں نے آپ کے دار الافتا ء سے پوچھا تھا تو جو طریقہ آپ نے بتایا تھا ،ہم نے اس کے مطابق ڈیزائن کرنے کی کوشش کی ہے ،اب آپ بتائیں کہ کیا یہ طریقہ درست ہے ؟

1-ہمارا سافٹ ویئر سیلر کی ویب سائٹ کے ساتھ لنک ہوگا اور ہم بطور ایجنٹ سیلر کے لئے کام کریں گے۔

2-جب کلائنٹ سیلر کی ویب سائٹ سے پروڈکٹ آرڈر کرےگا ، تو سافٹ ویئر اس کی پیمنٹ کو روک لے گا ۔

3-سیلر کو نوٹیفکیشن بھیجا جائیگا کہ آپ کی ویب سائٹ پرآرڈر آیا ہے،لہٰذا وہ مطلوبہ پروڈکٹ   اصل کمپنی سے خریدے گا۔

4-سیلر پروڈکٹ کو کمپنی سے خرید کر ویئر ہاؤس (مثلاً ٹی سی ایس وغیرہ کوئی بھی کمپنی جو سافٹ ویئر والوں کے لئے بطور ایجنٹ یا بطور شریک کام کرے گی) میں بھیجے گا، جو ہماری طرف سے قبضہ کر ےگا ۔

5-جب ویئر ہاؤس میں متعلقہ کمپنی (ٹی سی ایس وغیرہ) پروڈکٹ پر قبضہ کرے گی ،اس کےبعد سافٹ ویئر والےسیلر کو پیمنٹ بھیجیں گے ۔

6-آخر میں، پروڈکٹ کلائنٹ کی اصل لوکیشن پر بھیجا جائے گا، اور کلائنٹ کو ای میل اور نوٹیفکیشن کے ذریعے اپ ڈیٹس دی جائی گی۔

نوٹ :سافٹ ویئروالے،سیلراور ویئر ہاوس کمپنی تینوں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہوں گے بایں طور کہ سب کے پاس Dashboard کھلا ہوگا اور جیسے جیسے پراسس ہوتا رہے گا ،کلائنٹ کو  ای میلز بھیجے جائیں  گے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذكوره بالا طریقہ درست ہے بشرطیکہ سیلر کومواعد ظاہر کیا جائےیعنی سافٹ ویئر یا  ویب سائٹ کے ڈسکرپشن یا تعارف یا انفو وغیرہ کے سیکشن میں یہ اعلان لکھ دے کہ یہاں سےجو بھی معاملہ ہوگا وہ کنٹریکٹ آف سیل نہ ہوگا بلکہ پرامیس ٹوسیل (وعدہ بیع) ہوگا اس طور پر کہ پہلے ہم وہ چیز کہیں سے خرید لیں گے پھر آپ کو فروخت کریں گے۔

حوالہ جات

مصنف ابن أبي شيبة (4/ 311)::

حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم، عن أبي بشر، عن يوسف بن ماهك، عن حكيم بن حزام، قال:

قلت: يا رسول الله، الرجل يأتيني ويسألني البيع ليس عندي، أبيعه منه،أبتاعه له من السوق؟ قال: فقال: «لا تبع ما ليس عندك»

المبسوط للسرخسي (13/ 8)

المنقولات لا يجوز بيعه قبل القبض عندنا...وحجتنا ما روي عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه نهى  عن بيع  ما لم  يقبض الخ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/84) :

قلت: وفي جامع الفصولين أيضا: لو ذكرا البيع بلا شرط ثم ذكرا الشرط على وجه العقد جاز البيع ولزم الوفاء بالوعد، إذ المواعيد قد تكون لازمة فيجعل لازما لحاجة الناس... فقد صرح علماؤنا بأنهما لو ذكرا البيع بلا شرط ثم ذكرا الشرط على وجه العدة جاز البيع ولزم الوفاء بالوعد.

مجلة مجمع الفقه الإسلامي: (ج:12,ص:652,المكتبة الشاملة):

"فقرار المجمع يقول: الوعد ملزم للواعد ديانة إلا لعذر، وهو - أي الوعد - ملزم قضاء إذا كان معلقًا على سبب ودخل الموعود في كلفة نتيجة الوعد، وأثر الإلزام يتحدد بصورتين: إما الوفاء بالوعد وتنفيذه. وإما بالتعويض عن الضرر الواقع فعلًا بسبب عدم الوفاء بالوعد بلا عذر."

فقہ البیوع، المجلد الثانی، (1103/2 ):          

الوعد او المواعدۃ بالبیع لیس بیعاً، ولا یترتب علیہ آثار البیع من نقل ملکیۃ المبیع ولا وجوب الثمن.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

 8/ذی قعدہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب