03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد کی پرانی لکڑیاں خرید کر گھر میں استعمال کرنے کا حکم
87074وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں  مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں کچی آبادی والی مسجدیں ہوتی ہیں ،اور وقتا فوقتا ان کی مرمت کی جاتی ہے۔ ان میں پرانی لکڑیاں مسجد کے استعمال میں نہیں آتیں ۔سوال یہ ہے کہ کیا مسجد کی پرانی لکڑیاں اپنے گھروں کے لیے استعمال کر سکتے ہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جو چیزیں مسجد کے لیےدوبارہ  استعمال  نہ ہوسکیں اوران کی ضرورت بھی  نہ رہے اور ویسے  رکھنے کی صورت میں ان کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تومسجدکی انتظامیہ باہمی مشورے اور اتفاق سے اس سامان کو بازاری قیمت کے مطابق فروخت کرکے اس کی رقم اسی مسجد کی ضروریات میں خرچ کر سکتی ہے ،فروخت کی صورت میں کوئی بھی خرید سکتاہے،خریدنے کے بعداس کو گھر میں یا کہیں اور  استعمال کرنا درست ہوگا ۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:ثم رأيت الآن في الذخيرة قال وفي فتاوى النسفي: سئل شيخ الإسلام عن أهل قرية رحلوا وتداعى مسجدها إلى الخراب، وبعض المتغلبة يستولون على خشبه، وينقلونه إلى دورهم هل لواحد من أهل المحلة أن يبيع الخشب بأمر القاضي، ويمسك الثمن ليصرفه إلى بعض المساجد أو إلى هذا المسجد؟   قال: نعم. (رد المحتار :4/ 360)

  في الفتاوی الھندیۃ :أهل المسجد لو باعوا غلة المسجد أو ‌نقض ‌المسجد بغير إذن القاضي الأصح أنه لا يجوز، كذا في السراجية. ( في الفتاوی الھندیۃ: 2/ 463(

 قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:ولو خرب المسجد، وما حوله وتفرق الناس عنه لا يعود إلى ملك الواقف عند أبي يوسف ‌فيباع ‌نقضه ‌بإذن ‌القاضي ويصرف ثمنه إلى بعض المساجد. (رد المحتار:4/ 359)

شمس اللہ

 دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی

/8   رمضان ،1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شمس اللہ بن محمد گلاب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب