03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدت کے دوران ظاہر ہونے والے حمل کا حکم
86607نکاح کا بیاننسب کے ثبوت کا بیان

سوال

ایک شخص نے نو مسلمہ سے شادی کی، بعد میں اس کو ایک طلاق دی ،طلاق کے بعد وہ عورت مرتدہ ہوئی اور عدت کے دوران  ایک ہندو کے ساتھ شادی کی اور اسی عدت میں اس کا حمل ٹھہر گیا، اب یہ بچہ کس کا شمار ہوگا؟

 تنقیح: سائل(پیش امام) نے استفسار پر بتایا کہ عورت کا سابق مسلمان شوہر حمل کے نسب  کا دعوی کررہاہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں بیان کی گئی تفصیل اگر حقیقت کے مطابق ہو  تو اس کا حکم یہ  ہےکہ مطلقہ عورت کا عدت میں نکاح کرنا  جائز نہیں ہے ۔عدت کے دوران جب حمل ظاہر  ہوا تو حمل کی نسبت پہلے شوہر کی طرف کی جائے گی ، کیونکہ حمل مسلمان شوہر  کے فراش کا نتیجہ ہے،خاص کر جب شوہر حمل  کے نسب کا دعوی بھی کررہا ہے۔عورت نےعدت کے دوران  جو نکاح کیا یہ نکاح فاسد ہے، اس کاکوئی اعتبار نہیں،لہذا  حمل کی نسبت عدت کے دوران ہونے والے فاسد نکاح کی طرف نہ ہوگی۔

حوالہ جات

 صحيح البخاري (6/ 2499):

حدثنا آدم: حدثنا شعبة: حدثنا محمد بن زياد قال: سمعت أبا هريرة:قال النبي صلى الله عليه وسلم: (الولد للفراش، وللعاهر الحجر).

 الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 337):

(ومنها نكاح معتدة الغير) إذا تزوج الذمي بامرأة هي معتدة الغير إن وجبت العدة من مسلم كان النكاح فاسدا بالإجماع، ويتعرض لهم في ذلك قبل الإسلام ،وإن كانوا يدينون جواز النكاح في حالة العدة.

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

21/ رجب/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب