| 87421 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
سائل اپنے والدین کے ساتھ ایک ہی گھر کے الگ کمرے میں رہائش پذیر ہے ، ایک دن سائل کا اپنے بھائی کے ساتھ کسی بات پر جھگڑا ہوا ، جس پر سائل نے یوں طلاق ڈالی کہ " آج کے بعد میں اس گھر میں کبھی نہیں رہوں گا ، اگر رہا تو میری بیوی کو تین طلاقیں ہوں گی" یہ کہنے کے بعد سائل اسی وقت فوراً اپنے بال بچوں کو لے کر وہاں سے نکل چکا ہے اور دوسری جگہ اپنے بھائی کے ہاں عارضی طور پر رہائش اختیار کی ہے ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا سائل اپنے بال بچوں سمیت دوبارہ اسی گھر میں والدین کے ساتھ رہائش اختیار کرسکتا ہے یا نہیں ؟ چونکہ مذکورہ گھر سائل کا اپنا ذاتی نہیں ہے ، بلکہ والد کا ہے اور سائل اپنے والدین کے ساتھ وہاں رہتا ہے ۔
(نوٹ) یہاں مقامی علمائے کرام سے پوچھنے پر دوبارہ مذکورہ گھر میں رہائش اختیار کرنے کی صورت میں عدم طلاق کا فتویٰ دیا ہے ، اور انہوں نے حوالہ کی صورت میں فتاویٰ عالمگیری اور فتاویٰ شامی کی درج ذیل عبارات پیش کی ہے
" (حلف لا یسکن ھذہ الدار أو البیت أو المحلۃ) فخرج وبقی متاعه وأھله ، حتیٰ لوبقی وتد حنث...(الی ان قال) وھذا لو یمینه بالعربیۃ ولو بالفارسیۃ بر بخروجه بنفسه ، کما لوکان سکناہ تبعا ، کابن کبیر ساکن مع أبیه أو امرأۃ مع زوجہا ، فلو حلف أحدھما لایسکن ھذہ الدار فخرج بنفسه وترک أھله وماله أو ھی زوجھا ومالھا لایحنث." (فتاویٰ شامی:ج 5ص561) " رجل حلف أن لا یسکن ھذہ الدار فخرج بنفسه وترک أھله ومتاعه فیھا ان کان الحالف فی عیال غیرہ کالابن الکبیر یسکن فی دار الأب والمرأۃ تسکن فی دار زوجھا ونحوھما لا یحنث فی یمینه." (عالمگیری:ج2ص74)
مذکورہ بالا عبارات کی روشنی میں کیا مقامی علمائے کرام کا فتویٰ از روئے شرع محمدی درست ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جب بیوی کی طلاق کو کسی شرط کے ساتھ مشروط کیا جائے گا توشرط پائے جانےپراس کو طلاق واقع ہوجائےگی، لہذا صورت مذکورہ میں اگر سائل دوبارہ گھر میں رہے گا تو تین طلاقیں ایک ساتھ واقع ہوجائیں گی۔البتہ اس شرط کو ختم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی بیوی کو ایک طلاق دے کر اس کی عدت گزرنے کا انتظار کرے، جب عدت گزر جائے گی تو بیوی طلاق کا محل نہیں رہے گی ،اس کے بعد سائل گھر آکر رہے تو باقی دو طلاقیں واقع نہیں ہوں گی۔ بیوی کے ساتھ دوبارہ دو گواہوں کے سامنے نکاح کرکے دوبارہ سے رشتہ ازداج میں منسلک ہوجائے ، اب آئندہ صرف دو طلاقوں کا اختیار رہے گا۔باقی مقامی علماء نے جن عبارات سے استدلال کیا ان عبارات کا صورت مسؤلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ، کیونکہ منقولہ عبارات میں محلوف علیہ گھر میں حنث کے بغیر رہنے کی کوئی گنجائش نہیں لکھی گئی ہے،بلکہ اس میں صرف اتنی بات ہے کہ حالف(قسم اٹھانے والا)کے نکلنے کے بعداگر اس کے گھر والے یا سامان پڑا رہے تو بھی حانث ہوگا یا نہیں ، اس میں عرف عربی اور عرف فارسی کا فرق بیان کیا ہے ۔
حوالہ جات
(بدائع الصنائع:(126/3
والتعليق في الملك نوعان: حقيقي، وحكمي. أما الحقيقي: فنحو أن يقول لامرأته: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو إن كلمت فلانا أو إن قدم فلان ونحو ذلك، وإنه صحيح بلا خلاف؛ لأن الملك موجود في الحال، فالظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط، فكان الجزاء غالب الوجود عند وجود الشرط فيحصل ما هو المقصود من اليمين وهو التقوي على الامتناع من تحصيل الشرط فصحت اليمين، ثم إذا وجد الشرط، والمرأة في ملكه أو في العدة يقع الطلاق وإلا فلا يقع الطلاق.
زاہد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
10/ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زاہد خان بن نظام الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


