| 86879/64 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
محترم! مجھے مسئلہ کا حل درکار ہے کہ میرے والد صاحب سید مظہر علی شاہ صاحب 17 اکتوبر 2024 کو رضائے الٰہی سے وفات پا گئے۔ ہم کل 3 بھائی تھے۔ میرے سب سے چھوٹے بھائی کا انتقال 28 اگست 2021 میں ہی ہو گیا تھا۔ اس کی ایک بیٹی ہے جبکہ اسکی والدہ نے دوسری شادی بھی کر لی ہے۔ ہماری کوئی بہن نہی ہے۔ اب ہم دو بھائی اور ہماری والدہ حیات ہیں جبکہ تیسرے بھائی کا والد صاحب کی زندگی میں ہی انتقال ہو چکا ہے اور میرے اس مرحوم بھائی کی بیٹی یعنی میرے والد کی پوتی حیات ہے اور ابھی نا بالغ ہے۔ مجھے وراثت کی تقسیم کے حوالے سے شرعی راہنمائی درکار ہے۔ برائے مہربانی میری راہنمائی فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں مرحوم نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں سونا، چاندی ،نقدی، ، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب ان کا ترکہ یعنی میراث ہے۔اس سے متعلق حکم یہ ہے کہ سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان اٹھائے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا ۔اس کے بعد اگر ان کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر ِوارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو بچ جائے اس کے کل 16 حصے کیے جائیں اور انہیں درج ذیل طریقے کے مطابق ورثاء میں تقسیم کیا جائے۔
نوٹ: اگر بیٹے کا انتقال والد کی زندگی میں ہوجائے تو دیگر بیٹوں کی موجودگی میں مرحوم بیٹے کی اولاد کو بطورِ وراثت حصہ نہیں ملتا، البتہ اگر دیگر ورثا عاقل و بالغ ہوں اور وہ برضا و خوشی مرحوم بیٹے کی اولاد کو حصہ دیں تو ایسا کرنا جائز اور باعثِ ثواب ہے۔
|
نمبرشمار |
ورثہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
زوجہ |
2 |
12.5 % |
|
2 |
بیٹا |
7 |
43.75 % |
|
3 |
بیٹا |
7 |
43.75 % |
|
کل |
16 |
100% |
|
حوالہ جات
﴿ وَلَـكُم نِصفُ مَا تَرَكَ اَزوَاجُكُم اِن لَّم يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ، فَاِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَـكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكنَ مِنۢ بَعدِ وَصِيَّةٍ يُّوصِينَ بِهَآ اَودَ ينٍ﴾[النساء[12:
رد المحتار (29/ 351)
وشروطه : ثلاثة : موت مورث حقيقة ، أو حكما كمفقود ، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه۔
احمد الر حمٰن
دار الافتاء، جامعۃ الرشید کراچی
20/ شعبان المعظم 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احمد الرحمن بن محمد مستمر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


