03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مہر کے لیے زمین بیٹے کو قرض دینے اور ترکہ کے مکان سے متعلق سوالات
85946میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

والد صاحب کی پہلی زوجہ جو فوت ہوگئی ہیں اس میں سے 4 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں اور دوسری زوجہ جو حیات ہیں اس میں سے 2 بیٹے ہیں جو مکان والد صاحب کا ہے اس کا کل رقبہ 80 گز ہے، پہلی والدہ سے دوسرے نمبر والے بھائی کی شادی 1989 ء میں ہوئی، شادی سے پہلے اس بھائی کے سسر نے بھائی سے کہا پہلے اپنے والد کے مکان میں سے ایک مرلہ زمین (30) گز  حق مہر میں لکھ کر دو پھر شادی ہو گی،بھائی نے والد صاحب سے کہا آپ بطور قرض کے ابھی زمین لکھ کر دے دو جیسےہی میرے مکان کے کاغذات بنک سے واپس آئیں گے میں آپ کو زمین واپس کر دونگا ( بھائی نے بنک سے قرض لیکر مکان بنوایا تھا اس لیے کاغذات بنک کے پاس تھے ) بھائی کی اس بات پر والد صاحب نے رضا مندی ظاہر کی اور حق مہر میں زمین لکھ کر دے دی ، شادی کے کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ جو زمین حق مہر میں لکھی گئی ہے وہ ایک مرلہ نہیں، بلکہ ڈیڑھ مرلہ (45 گز ) ہے اور بھائی کی زوجہ کے نام اس کی رجسٹری بھی ہے، اسکے بعد والد صاحب مسلسل زمین کی واپسی کا مطالبہ کرتے رہے، لیکن زمین بھائی نے واپس نہیں کی، بھائی کا یہی جواب ہوتا تھا میں زمین واپس کر دوں گا میں نے یہاں رہائش تو نہیں کی، بھائی نے والد صاحب کی وفات تک زمین واپس نہیں کی اور والد صاحب کی وفات جولائی 2021ء میں ہوئی۔

والد صاحب والا مکان کچا تھا جو رفتہ رفتہ خستہ ہوتا جارہا تھا، 2004 ء میں بہت زیادہ خستہ ہو گیا، اس میں رہائش ممکن نہ تھی، مستری کو دکھایا ارادہ اس کی مرمت کا تھا، لیکن مستری نے کہا مرمت کرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، رقم ضائع ہو جائےگی، بہتر تو یہی ہے اس کی دوبارہ تعمیر کرائی جائے ،لیکن بھائیوں میں سے کوئی رقم لگانے کیلئے تیار نہیں تھا، پھر مشورہ ہوا اور یہ بات طے پائی کہ اس مکان کی تقسیم کی جائے اس لیے مکان کی مالیت لگوائی گئی، کسی نے ایک لاکھ پچاس یا ساٹھ ہزار سے زیادہ مالیت نہیں لگائی، پھر دوسرے نمبر والے بھائی ایک آدمی کو لائے، اس نے سب سے زیادہ مالیت ایک لاکھ اسی ہزار کے قریب لگائی تو گھر والوں نے ( 180000 ) پر اتفاق کیا، والد صاحب نے کہا اس کو 12 حصوں پر تقسیم کردو، توفی حصہ 15000 ہزار بنتا تھا، والد صاحب نے کہا جو یہ مکان لے گا وہ باقی سب کو حصہ دےگا، والد صاحب نے دوسرے نمبر والے بھائی کو بھی کہا کہ یہ مکان تم رکھ لو پہلے بھی تمہاری زوجہ کے نام زمین ہے ۔اس نے کہا مجھے ضرورت نہیں ہے، میرا اپنا مکان ہے، میں زمین واپس کر دوں گا، جو یہ مکان لیتا ہے تو لے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے، بھائی کی اس یقین دہانی کے بعد پہلے نمبر والے بھائی نے کہا کہ 8 حصوں کی جتنی زمین بنتی ہے وہ مجھے دے دو میں7 بہن بھائیوں کو 15000 کے حساب سے حصہ دے دوں گا، پھر والد صاحب نے مکان کی پیمائش کر کے 54 گز زمین پہلے نمبر والے بھائی کو دے دی،اتنے حصہ کو بھائی نے تعمیر کرایا اور باقی 26 گز زمین اس میں چار حصے ہیں، والد والدہ اور دو بھائی۔ اس کے نیچے کے حصہ کو والد صاحب نے تعمیر کرایا اور اوپر کے حصہ کو والدہ نے تعمیر کرایا، مکان کی تعمیر کے کچھ عرصہ بعد دوسرے نمبر والے بھائی کی زوجہ نے مطالبہ کیا کہ مجھے میرے حق مہر کی زمین واپس کرو، اس مکان کو فروخت کرو اور رقم میرے حصہ کی دو، گھر والوں نے کہا یہ بات آپ کو اس وقت کرنی  چاہیےتھی جب والد صاحب نے اس کی تقسیم کی تھی اور جب اس کی تعمیر ہورہی تھی، یہ تو ہم نے بھائی کی یقین دہانی کے بعد اس کو تعمیر کیا ہے، ویسے بھائی نے بھی یہ زمین بطور قرض کے والد صاحب سے لی تھی۔ دوسری بات اس مکان کو فروخت کرنے کے بعد کل رقم میں سے پہلے ہم اپنی تعمیری لاگت کو موجود ہ ریٹ کے مطابق الگ کر یں گے، بالفرض اگر 2004ء میں 15 تولہ  سونے کے برابر رقم صرف ہوئی تھی توہم موجودہ  ریٹ کے مطابق پہلے 15 تولہ سونا کی قیمت کو الگ کر لیں گے ،اس کے بعد جو باقی ہو گا اس میں سے آپ کو حصہ دیا جائےگا، اس پر بھائی کی زوجہ نے کہا  زمین والی بات وہ باپ بیٹے کا معاملہ ہے، سمجھ دار تھے، عقل و شعور میں لکھ کر دی ہے اور دوسری بات تعمیری لاگت کو الگ نہیں کیا جائےگا،کیونکہ آپ نے تعمیر کرایا ہے تو اس کواستعمال بھی تو آپ لوگوں نےکیا ہے، اگر کرائے کے گھر میں رہتے تو کرا یہ بھی تو ادا کرتے، گو یا تعمیری رقم کرائے کی صورت میں ادا ہو گئی، اگر تمہاری تعمیرکی رقم الگ بھی کی جائے گی تو 2004ء میں جتنا خرچہ ہوا تھا ،اس کو الگ کر سکتے ہیں، مثلا اگر اس وقت 2 لاکھ خرچہ ہوا ہے تو کل رقم میں سے 2 لاکھ کو الگ کیا جائے گا، اب مکان کی موجودہ مالیت ایک کروڑ  سے بھی زیادہ ہے ،اتنی مالیت تعمیر کی وجہ سے ہے ،بغیر تعمیر کے اس کی مالیت 30 یا 40 لاکھ سے زیادہ نہیں ہے اور اب ہمارا علاقہ بھی کمرشل بن گیا ہے اور سب مارکیٹ اور دو کا نہیں بن گئی ہیں، 2004ء میں یہ محلہ تھا، اب بھائی خودسامنے نہیں آتا اس کی حل کی کیا صورت ہو گی؟

جب مکان کی تعمیر مکمل ہوئی تھی،اس وقت یہ بات طے ہوئی تھی کہ جب مکان فروخت ہو گا تو کل رقم کے 3 حصے کیے جائیں گے، 2 حصے بڑے بھائی کو اور ایک حصہ والداور والدہ کو ملے گا۔

1۔ کیا والد صاحب کو پورے مکان کی تقسیم کا اختیار تھا؟ جب انہوں نے پورے مکان کی تقسیم کر دی کیا وہ نافذ ہوگی یا نہیں؟

2۔ اگر نافذ نہیں ہوئی تو جس نے رقم لگائی اس کے نقصان کی تلافی کی کیا صورت ہوگی ؟

3۔ جس نے اس مکان پر رقم لگائی تھی اس نے یہ سمجھ کر لگائی تھی کہ والد صاحب نے اس کوا تنے حصہ کا مالک بنادیا ہے کیا وہ والد صاحب کی تقسیم سےاتنے حصے کے  مالک نہیں ؟

4۔ اب مکان کو فروخت کرنے کے بعد کل رقم کی تقسیم کس طرح کی جائےگی؟کیا پہلے بھائی کی زوجہ کا حصہ نکالا جائے گا ؟ بھائی کی زوجہ کا حصہ موجود مالیت کے مطابق نکالا جائے گا یا 2004ء کے مطابق ؟

5۔ اب وراثت کا حکم نافذ ہوگا یا تقسیم کا ؟

6۔ کسی کو حصہ نہیں ملا،  اب بہن بھائیوں کو موجودہ مالیت کے مطابق حصہ ملے گا یا 2004 کے مطابق اگر کوئی کہے کہ مجھے موجودہ مالیت کے مطابق حصہ دو کیا اس کی بات مانی جائےگی؟

7۔ کیاوالد صاحب کا حصہ نکالا جائےگا؟ جبکہ پہلے انہوں نے اپنا حصہ رکھا تھا ،اگر نکالا جائیگا تو پھر اس کی تقسیم کس طرح کی جائیگی؟

8۔ والد صاحب نے مکان کی تعمیر کے وقت بڑے بھائی سے قرضہ لیا تھا تو 2016ء میں والدہ نے ایک تولہ سوناد یا والد صاحب کوقرضہ ادا کرنے کے لیے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ میں نے واپسی ایک تو لہ سوناہی لینا ہے، چاہے وہ کتنے کا بھی ہو؟ اب اس کی ادائیگی کس طرح کی جائےگی ؟

 9۔ والداور والد ہ والے حصہ میں کچھ چیزوں پر خرچہ بڑے بھائی نے کیا تھا ،جیسے اوپرکی چھت کی چار دیواری اور کچن جو پہلے مشترک تھا ،اب بھائی نے الگ کر لیا ہے، لیکن سامان پہلے والے کچن میں رکھا ہوا ہے، صرف انہوں نےچولہا الگ کیا ہے، اب وہ کہتے ہیں اس کی کچن پر جولاگت آئی تھی وہ موجودہ ریٹ کے مطابق میں لوں گا اور چھت پر جو اینٹیں لگی تھیں اس کی قیمت موجود ہ ریٹ کے مطابق لوں گا ،کیا بھائی کو سب کی قیمت موجودہ  ریٹ کے مطابق ادا کی جائےگی۔

10۔ اس مکان میں تقسیم کے وقت ہر وارث کا کتنا حصہ ہو گا؟ جبکہ والد صاحب کے ورثاء میں چھ بیٹے، چار بیٹیاں اور ایک بیوہ ہیں اور سب حیات ہیں۔   

وضاحت: 1۔سائل نے فون پر بتایا کہ والد صاحب نے اپنی بہو کو یہ زمین مالک بنا کر نہیں دی تھی، بلکہ شروع میں بھائی نے والد صاحب سے کہا تھا کہ آپ یہ زمین بطور قرض دے دیں، جب میرے مکان کے کاغذات آجائیں گے تو میں اہلیہ کو اپنے مکان سے زمین دے کر آپ کی زمین واپس کر دوں گا، والد صاحب اور بھائی کے درمیان زبانی بات ہوئی تھی، اس کے بعد شادی سے قبل اس کے سسرال والوں نے والد صاحب کو بلایا کہ آپ ان کاغذات پر دستخط کردیں تو والد صاحب نے صرف دستخط کیے تھے۔

پہلے نمبر والے بھائی نے والد صاحب سے کہا کہ جب آپ مجھے مکان کی رجسٹری دیں گے تو میں بقیہ سب بھائی بہنوں کا حصہ دے دوں گا، مگر والد صاحب نے زندگی میں رجسٹری نہیں دی، جس کی وجہ سے اس بھائی نے کسی بھی وارث کو اس کے حصہ کی رقم نہیں دی۔

بھائی نے والدین کے کچن پر جس وقت اخراجات کیے تھے اس وقت تمام بہن بھائی اکتھے رہتے تھے اور بھائی نے یہ اخراجات سب کے لیے کیے تھے، البتہ جب بھائی علیحدہ ہو گئے تو پھر یہ مطالبہ کرنے لگے کہ مجھے  اخراجات دیے جائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1،2۔سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق والد صاحب اور دوسرے نمبر والے بھائی کے درمیان  ایک مرلہ زمین قرض کے طور پرلینے کا معاملہ ہوا تھا، جبکہ قرض کے بارے میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ قرض کا معاملہ ان چیزوں میں درست ہوتا ہے جو مثلیات (جس چیز کی مثل مارکیٹ میں موجود ہو، جیسے گندم، چاول اور کرنسی وغیرہ) میں سے ہوں، تاکہ اس چیز کی مثل واپس کی جا سکے، جبکہ زمین مثلی چیزوں میں سے نہیں ہے، کیونکہ ایک زمین دوسری زمین کی مثل نہیں ہوتی، اسی لیے زمین کو فقہی اعتبار سے ذوات القیم یعنی قیمی چیزوں (جن کے واجب فی الذمہ ہونے کی صورت میں مثل کی بجائے ان کی قیمت واجب الاداء ہوتی ہے) میں سے شمار کیا جاتا ہے، اس لیے فقہاء کرام رحمہم اللہ نے ایسی چیزوں کے قرض کو عاریت قرار دیا ہے، بشرطیکہ اس چیز کا قبضہ دے دیا گیا ہو، جبکہ مذکورہ صورت میں قبضہ نہیں دیا گیا تھا، اس لیے اس کو عاریت بھی نہیں کہا جا سکتا۔ باقی والد صاحب نے اپنی بہو کوبھی یہ زمین  اپنی زندگی میں مالک  اور قابض بنا کر نہیں دی تھی اور مالکانہ قبضہ دیے بغیرمحض کاغذات پر دستخط کرنا مالک بنانے کے لیے شرعاً کافی نہیں،ا س لیے والد صاحب کے دستخط کرنے سے مذکورہ خاتون شرعاً اس زمین کی مالک نہیں بنی، بلکہ یہ زمین زندگی میں بدستور والد صاحب کی ملکیت میں رہی، لہذا والد صاحب کا اس زمین کو سب بیٹے اور بیٹیوں کےدرمیان برابر تقسیم  کرنا  درست تھا۔

باقی مذکورہ خاتون کے حق مہر کا حکم یہ ہے کہ چونکہ اس کے شوہر نے اتنی زمین بطورِ مہر دینا نکاح کے وقت طے کیا تھا اور جب اس طرح کسی شخص کی زمین بطور مہر دینا طے کیا جائے تو اصولی طور پر حق مہر اسی زمین سے متعلق ہوجاتا ہے، اس لیے فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ ایسی صورت میں اس زمین کے مالک سے پوچھا جائے گا، اگر وہ یہ زمین بیچنے یا ہدیہ کے طور پر دینے پر راضی ہو تو شوہر کے ذمہ وہی زمین بطورِ حق مہر دینا ضروری ہے اوراگر وہ اپنی زمین دینے سے انکار کر دے تو پھر اس زمین کی قیمت دی جائے گی اور قیمت کون سے دن کی معتبر ہو گی؟ تو کتبِ فقہ میں اس کی صراحت نہیں ملی، البتہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے غلام کو مہرمقرر کرنے اور پھر اس کے مدبر یا مکاتب ظاہر ہونے پر فورا ًقیمت کا وجوب ذکر کیا ہے،کیونکہ اس کی ذات کو سپرد کرنے کا تعذر اسی وقت ظاہر ہو گیا تھا،  جبکہ دوسرے شخص کی زمین یا کوئی اورچیز مہر مقرر کرنے کے مسئلہ میں مالک کے انکار کرنے پر قیمت کو لازم کیا ہے، اس لیے مذکورہ صورت میں والد صاحب کی وفات کے وقت  زمین کی  قیمت کا اعتبار کیا جائے گا، کیونکہ اس وقت تک والد صاحب سے یہ زمین بطورِ مہر دینے کی اجازت لی جا سکتی تھی،  جبکہ کے بعد یہ زمین مشترکہ طور پر تمام ورثاء کی ملکیت میں  چلی گئی اور شوہرکے ذمہ اس دن کی قیمت کی ادائیگی واجب ہو گئی، لہذا اس دن کے ریٹ کے حساب سے ایک مرلہ زمین کی قیمت شوہر کے ذمہ واجب الاداء ہے، باقی رجسٹری میں ڈیڑھ مرلہ(45گز) چونکہ  غلطی سے لکھا گیا تھا،اس لیے  زائد آدھے مرلے کی قیمت دینا اس کے شوہر کے ذمہ لازم نہیں ہو گا۔

البحر الرائق (6/133): (تتمة: في مسائل القرض):

قال في المحيط: ويجوز القرض فيما هو من ذوات الأمثال، كالمكيل، والموزون والعددي المتقارب، كالبيض، والجوز؛ لأن القرض مضمون بالمثل، ولا يجوز في غير المثلي؛ لأنه لا يجب دينا في الذمة" انتهى.

المبسوط للسرخسي (5/ 70) الناشر: دار المعرفة – بيروت:

 نقول: السبب الموجب للمسمى هو العقد، فلا يجوز الحكم ببطلان التسمية مع بقاء السبب الموجب له، ولكن بالرد بالعيب يتعذر تسليم العين كما التزم، فتجب قيمته كالمغصوب إذا أبق.

وعلى هذا الأصل إذا هلك الصداق قبل التسليم عندنا لا تبطل التسمية، ولكن يجب على الزوج مثله إن كان من ذوات الأمثال، وقيمته إن لم يكن من ذوات الأمثال، وعند الشافعي - رحمه الله تعالى - تبطل التسمية كما يبطل البيع بهلاك المبيع قبل القبض فيكون لها مهر مثلها، وبعض أصحابه يقول: لا تبطل التسمية بالهلاك عندنا، ولكن تجب قيمة المسمى؛ لتعذر تسليم العين فأما الرد بالعيب لا يكون إلا لرفع تلك التسمية فتبطل به التسمية، وعلى هذا لو استحق المسمى بعينه لا تبطل التسمية؛ لأن شرط صحة التسمية كون المسمى مالا. وبالاستحقاق لا تنعدم المالية، ولكن يتعذر التسليم فيكون بمنزلة الهلاك في أنه يجب قيمته على الزوج.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 86) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:

وإذا تزوجها على هذا العبد وهو ملك الغير، أو على هذه الدار (التي) هي ملك الغير، فالنكاح جائز والتسمية صحيحة، فتسمية مال الغير صداقا صحيح؛ لأن المسمى مال معلوم، فبعد ذلك ينظر؛ إن أجاز صاحب الدار وصاحب العبد ذلك فلها عين المسمى، وصار الجواب في النكاح مع  المستحق التسمية نظير الجواب في البيع. وإن المستحق لا يبطل النكاح ولا التسمية، حتى لا يجب مهر المثل، وإنما تجب قيمة المسمى بخلاف البيع.

(الفتاوى الهندية،کتاب النکاح ،الباب السابع في المهر ،الفصل الأول ،ج1ص303):

وإذا تزوجها على هذا العبد وهو ملك الغير أو على هذه الدار وهي ملك الغير فالنكاح جائز والتسمية صحيحة فبعد ذلك ينظر إن أجاز صاحب الدار وصاحب العبد ذلك فلها عين المسمى وإن لم يجز المستحق لا يبطل النكاح ولا التسمية حتى لا يجب مهر المثل وإنما تجب قيمة المسمى كذا في المحيط.

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 204) الناشر: دار احياء التراث العربي – بيروت:

" فإن تزوج امرأة على هذا الدن من الخل فإذا هو خمر فلها مهر مثلها عند أبي حنيفة رحمه الله وقالا لها مثل وزنه خلا وإن تزوجها على هذا العبد فإذا هو حر يجب مهر المثل عند أبي حنيفة ومحمد وقال أبو يوسف تجب القيمة " لأبي يوسف أنه أطمعها مالا وعجز عن تسليمه فتجب قيمته أو مثله إن كان من ذوات الأمثال كما إذا هلك العبد المسمى قبل التسليم وأبو حنيفة رحمه الله يقول اجتمعت الإشارة والتسمية فتعتبر الإشارة لكونها أبلغ في المقصود وهو التعريف.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 179) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:

لو كان تزوجها على هذا العبد فإذا هو مدبر أو مكاتب أو أم ولد والمرأة تعلم بحال العبد أو لم تعلم كان لها قيمة العبد كذا في الخانية مع أن المشار إليه لا يصلح مهرا لكن لما لم يخرج عن المالية بالكلية صحت التسمية واعتبر المسمى.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 180) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:

إذا تزوجها على هذا العبد، وهذا البيت فإذا العبد حر أو على مذبوحتين فإذا أحدهما ميتة كما في شرح الطحاوي وقيد بأن يكون أحدهما حرا إذ لو استحق أحدهما فلها الباقي وقيمة المستحق ولو استحقا جميعا فلها قيمتهما، وهذا بالإجماع كذا في شرح الطحاوي.

3۔صورتِ مسئولہ میں چونکہ والدنےزمین باقاعدہ تقسیم کر کے نہیں دی تھی، بلکہ اس کی قیمت لگوا کر ہر بیٹے اوربیٹی کو بطورِ ہبہ (کیونکہ زندگی میں والدین وغیرہ کا کسی کو کوئی چیز دینا شرعاً ہبہ کہلاتا ہے، وراثت نہیں۔) اس کے حصہ کے عوض رقم دینا طے کیا تھا، اس لیے جس بیٹے کو والد صاحب نے چوّن (54)گز زمین دی، اس کا حکم یہ ہےکہ اس میں ایک حصہ والد صاحب نے اس کو ہبہ(ہدیہ) کر کے اس کو قبضہ بھی دے دیاتھا، اس لیے وہ بیٹا اتنے حصے کا مالک بن گیا، اس کےعلاوہ ایک  بھائی اور چاربہنوں کا حصہ والدصاحب نے شرعی اعتبار سے اس کو بیچ دیا تھا اور فی حصہ کی قیمت 15000روپیہ دینا طے کر دیاتھا، جس کی وجہ سے اتنی رقم مذکورہ بیٹے کے ذمہ والد صاحب کے  لیے دَین یعنی بطور قرض واجب ہو گئی اور خریدفروخت کا معاملہ مکمل ہونے کی وجہ سےمذکورہ بیٹا ان چوّن گزوں کا شرعاً مالک بن گیا، اس کے بعد اس کے اوپر اس نے جتنی تعمیر کروائی ہے وہ سب اس کی ملکیت ہے، باقی چونکہ اس بیٹے نےدیگر بہن بھائیوں کا حصہ دینا مکان کی رجسٹری کروانے کے ساتھ مشروط کیا تھا اور یہ شرط لگانا خلاف شرع نہیں، بلکہ آج کل زمین کی خریدوفروخت کے معاملے کا لازمی حصہ سمجھی جاتا ہے، اس لیے رقم کی ادائیگی کے لیے اس کا یہ شرط لگانا درست تھا،جبکہ والد صاحب نے زندگی میں اس کو مکان کی رجسٹری نہیں دی،جس کی وجہ سے اس نے باقی بھائی بہنوں کو ان کے حصہ کی رقم بھی ادا نہیں کی، اس لیے اب بقیہ تمام ورثاء کے ذمہ لازم ہے کہ وہ ان  چوّن گزوں کی اس بیٹے کو رجسٹری کروا کر دیں، تاکہ وہ  بیٹا  والد صاحب کا اپنے ذمہ وہ قرض ادا کر دے اور یہ اتنی رقم ہی ادا کی جائے گی، اس میں زمین کی موجودہ قیمت کا اعتبار نہیں ہو گا، کیونکہ والد صاحب اپنی زندگی میں وہ زمین پندرہ ہزار روپے فی حصہ کے اعتبار سے شرعاً اس کو بیچ چکے تھے، اس لیے اب اس کے ذمہ صرف   طے شدہ  قیمت ہی  ادا کرنا واجب ہو گا۔

یہ بات یاد رہے کہ والدصاحب کی وفات سے اب وہ رقم ان کا ترکہ شمار ہو گی اور اس میں تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے حساب سے حق دار ہوں گے،(کیونکہ زندگی میں رقم یا حصہ دینا ہبہ تھا اور ہبہ قبضہ دیے بغیر شرعا مکمل اور نافذ نہیں ہوتا اور والد صاحب نے زندگی میں ان بھائی بہنوں کو قبضہ نہیں دیا تھا) البتہ تمام ورثاء اپنی رضامندی سے یہ رقم انہی بھائی بہنوں کے درمیان تقسیم کر دیں جن کو والد صاحب نے زندگی میں اس رقم کا فی کس پندرہ ہزار روپیہ کے حساب سے حق دار قرار دیا تھا تو ایسا کرنا جائز ہے، بلکہ بہتر ہے، تاکہ بہن بھائیوں کے درمیان اچھے تعلقات قائم رہیں۔

جہاں تک اس مکان کے بقیہ چھبیس (26)گزوں کا تعلق ہے تو وہ زمین بدستور والد صاحب کی ملکیت میں رہی ہے، اس لیے مکان کا یہ حصہ والد صاحب کی وراثت شمار ہو گا، جس میں تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار ہوں گے اور اس میں وہ بیٹا بھی شریک ہو گا جس کو زندگی میں والد صاحب نے اس کا حصہ بطورِ ہبہ دے دیا تھا، البتہ اس بیٹے کا اخلاقی فريضہ یہ ہے کہ وہ اس میں سے حصہ نہ لے، کیونکہ وہ والد صاحب کی پراپرٹی میں سے اپنا حصہ زندگی میں بطورِ ہبہ لے چکا ہے۔

البحر الرائق (6/133): (تتمة: في مسائل القرض):

قال في المحيط: ويجوز القرض فيما هو من ذوات الأمثال، كالمكيل، والموزون والعددي المتقارب، كالبيض، والجوز؛ لأن القرض مضمون بالمثل، ولا يجوز في غير المثلي؛ لأنه لا يجب دينا في الذمة" انتهى.

الفتاوى الهندية (4/ 374) دار الفكر، بيروت:

أما تفسيرها شرعا فهي تمليك عين بلا عوض، كذا في الكنز. وأما ركنها فقول الواهب: وهبت؛ لأنه تمليك وإنما يتم بالمالك وحده، والقبول شرط ثبوت الملك للموهوب له۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وأما حكمها فثبوت الملك للموهوب له غير لازم حتى يصح الرجوع

والفسخ وعدم صحة خيار الشرط فيها فلو وهبه على أن للموهوب له الخيار ثلاثة أيام صحت الهبة إن اختارها قبل أن يتفرقا.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 127) دار الكتب العلمية، بیروت:

(وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين كذا ذكر القاضي الاختلاف بينهما في شرح مختصر الطحاوي وذكر محمد في الموطإ ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل  بعضهم على بعض.وظاهر هذا يقتضي أن يكون قوله مع قول أبي يوسف وهو الصحيح لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتى بالنعمان إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال النبي- عليه الصلاة والسلام - فأرجعه وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة۔

مجلة الأحكام العدلية (ص: 313) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

المادة (1592) إذا قال أحد في حق الحانوت الذي في يده بموجب سند: إنه ملك فلان, وليس لي علاقة فيه واسمي المحرر في سنده مستعار , أو قال في حق حانوت مملوك اشتراه بسند من آخر: إنني كنت قد اشتريته لفلان , وإن الدراهم التي أديتها ثمنا له هي من ماله , وقد حرر اسمي في سنده مستعارا. يكون قد أقر بأن الحانوت ملك ذلك الشخص في نفس الأمر.

مجلة الأحكام العدلية (ص: 39) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

الفصل الرابع: في حق البيع بشرط:

(المادة 186) : البيع بشرط يقتضيه العقد صحيح والشرط معتبر. مثلا لو باع بشرط أن يحبس المبيع إلى أن يقبض الثمن فهذا الشرط لا يضر في البيع بل هو بيان لمقتضى العقد.

(المادة 187) : البيع بشرط يؤيد العقد صحيح والشرط أيضا معتبر مثلا لو باع بشرط أن يرهن المشتري عند البائع شيئا معلوما أو أن يكفل له بالثمن هذا الرجل صح البيع ويكون الشرط معتبرا حتى أنه إذا لم يف المشتري بالشرط فللبائع فسخ العقد ; لأن الشرط مؤيد للتسليم الذي هو مقتضى العقد.

4۔ مذکورہ بھائی کی زوجہ کا  اس مکان میں کوئی حصہ نہیں ہے، اس لیے اس کو اس میں سے کسی  حصے کےمطالبے کا حق حاصل نہیں ہے، لہذا اب اس مکان پر لگائی گئی رقم سوال نمبر3کے جواب میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق تقسیم ہو گی، باقی ہروارث کا کتنا حصہ ہو گا؟ تو اس کا جواب آگے آرہا ہے۔

5۔ اس کا جواب سوال نمبر3کے جواب میں گزر چکا ہےکہ اس مکان کے چوّن (54)گزوں میں وراثت جاری نہیں ہو گی، کیونکہ وہ حصہ ایک بیٹے کی ملکیت ہو چکا ہے، اس کے علاوہ چھبیس (26)گزوں میں وراثت کا حکم جاری ہو گا۔

6۔وراثتی حصہ میں سب بہن بھائیوں کو موجودہ قیمت کے حساب سے حصہ ملے گا اور جتنا حصہ والد صاحب نے ایک بیٹے کو بیچ دیا تھا اس میں صرف طے شدہ قیمت ہی ملے گی، جو والد صاحب نے 2004ء میں فی حصہ کے حساب سے پندرہ ہزار روپیہ طے کی تھی، البتہ اگر یہ بھائی اپنی مرضی سے کچھ رقم بطور ہبہ (جس کے گفٹ ہونے کی باقاعدہ صراحت بھی کر دے) زائد دے دے تو بہتر ہے، اس سے بہن بھائیوں کے درمیان تعلقات بھی اچھے رہیں گے اور اس بھائی کو اس کے عوض آخرت میں بھی ان شاء اللہ تعالیٰ بہت بڑا اجروثواب ملے گا۔

7۔والد صاحب چونکہ وفات پا چکے ہیں اس لیے مذکورہ مکان میں چھبیس  (26)گز سمیت ان کا چھوٹا بڑا  کل سازوسامان ترکہ شمار ہو گا، جس میں تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار ہوں گے۔اس لیے ان کاحصہ نکالنے کی ضرورت نہیں۔

8۔اگر والدہ نے سونا دیتے وقت یہ کہا تھا کہ میں سونا ہی واپس لوں گی، جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو اس صورت میں ان کو ایک تولہ سونا ہی واپس کیا جائے گا، خواہ اس کی قیمت کم ہو یا زیادہ! اور یہ سونا اسی کیرٹ کا ہو گا جس کیرٹ کا وصول کیا گیا تھا۔

فتح القدير للكمال ابن الهمام (9/ 428) الناشر: دار الفكر:

إن المديون يجبر على قضاء الدين والديون تقضى بأمثالها على ما عرف، فصار ما يؤدي المديون بدلا عما في ذمته.

العناية شرح الهداية (9/ 426) الناشر: دار الفكر:

أخذ المثل في القرض جعل كأخذ العين فجعل القرض بذلك بمنزلة العارية.

9۔اگر مذکورہ بھائی نے مشترکہ رہنے کے دوران والدین کے کچن پر اخراجات کرتے وقت ان سے واپس لینے کی باقاعدہ صراحت کی تھی اور اس پر گواہ موجود ہوں یا باقی ورثہ اس کو تسلیم کرتے ہوں  تو اس صورت میں یہ اخراجات قرض شمار ہوں گے اور  وہ  کچن پر خرچ کی گئی رقم وصول کر سکتے ہیں، لیکن اگر انہوں نے والدین کے کچن پر تبرع اور احسان کی نیت سے خرچہ کیا تھا جیسا کہ سوال سے معلوم ہوتا ہے تواس صورت میں اب اس کو یہ رقم واپس لینے کا حق حاصل نہیں ہے، بلکہ اس کو تبرع اور احسان سمجھا جائے گا، جس کا اجر ان کو ان شاء اللہ تعالیٰ آخرت میں ملے گا۔

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (4/ 488) دار إحياء التراث العربي:

 ومن عمر دار زوجته بماله أي بمال الزوج بإذنها أي بإذن الزوجة فالعمارة تكون لها أي للزوجة لأن الملك لها وقد صح أمرها بذلك والنفقة التي صرفها الزوج على العمارة دين له أي للزوج عليها أي على الزوجة؛ لأنه غير متطوع فيرجع عليها لصحة الأمر فصار كالمأمور بقضاء الدين.

وإن عمّرها أي الدار لها أي للزوجة بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة لها أي للزوجة وهو أي الزوج في العمارة متبرع في الإنفاق فلا يكون له الرجوع عليها به وإن عمر لنفسه بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة له أي للزوج لأن الآلة التي بنى بها ملكه فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه فيبقى على ملكه فيكون غاصبا للعرصة وشاغلا ملك غيره بملكه فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك كما في التبيين لكن بقي صورة وهي أن يعمر لنفسه بإذنها ففي الفرائد ينبغي أن تكون العمارة في هذه الصورة له والعرصة لها ولا يؤمر بالتفريغ إن طلبته انتهى.

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 141) دار المعرفة، بیروت:

المستأجر إذا أخذ منه الجباية الراتبة على الدور والحوانيت يرجع على الآجر وكذا الأكار في الأرض وعليه الفتوى. المستأجر إذا عمر في الدار المستأجرة عمارات بإذن الآجر يرجع بما أنفق وإن لم يشترط الرجوع صريحا.

الفتاوى الهندية (2/ 301) دار الفكر، بيروت:

وحكمها وقوع الزيادة على الشركة بقدر الملك، ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه ويجوز بيع أحدهما نصيبه من شريكه في جميع الصور ومن غير شريكه بغير إذنه إلا في صورة الخلط والاختلاط، كذا في الكافي.

مجلة الأحكام العدلية (1 /100) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

التعميرات التي أنشأها المستأجر بإذن الآجر إن كانت عائدة لإصلاح المأجور وصيانته عن تطرق الخلل كتنظيم الكرميد (أي القرميد وهو نوع من الآجر يوضع على السطوح لحفظه من المطر) فالمستأجر يأخذ مصروفات هذه التعميرات من الآجر وإن لم يجر بينهما شرط على أخذه وإن كانت عائدةً لمنافع المستأجر فقط كتعمير المطابخ فليس للمستأجر أخذ مصروفاتها ما لم يذكر شرط أخذها بينهما.

10۔ آپ کے والدمرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاور مرحوم کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے ، ان کے ذمہ  واجب الاداء  قرض ادا کرنے اور ایک تہائی(3/1) تک جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد باقی ترکہ  میں سے آٹھواں حصہ مرحوم کی بیوی کو دینے کےبعدبقیہ ترکہ بیٹے اور بیٹیوں کے درمیان اس طرح تقسیم کیا جائے کہ ہر بیٹے کوبیٹی کی بنسبت دوگنا حصہ ملے، چنانچہ اوپر ذکر کیے گئے مرحوم کے تین حقوق ادا کرنے کے بعد بقیہ ترکہ کو ایک سو اٹھائیس (128) حصوں میں برابر تقسیم کر کے مرحوم کی بیوی کو سولہ(16) حصے،ہربیٹے کو  چودہ (14) حصے اور ہر بیٹی کو  سات(7) حصے دیے جائیں گے، تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیوی

16

12.5%

2

بیٹا

14

10.937%

3

بیٹا

14

10.937%

4

بیٹا

14

10.937%

5

بیٹا

14

10.937%

6

بیٹا

14

10.937%

7

بیٹا

14

10.937%

8

بیٹی

7

5.468%

9

بیٹی

7

5.468%

10

بیٹی

7

5.468%

11

بیٹی

7

5.468%

12

ٹوٹل

128

100

حوالہ جات

     القرآن الکریم : [النساء:11]:

       يوصيكم اللَّه في أَولَادكم للذكَر مثل حظ الأنثيينِ.

      السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:

وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.

(المادة 188) : البيع بشرط متعارف يعني المرعي في عرف البلد صحيح والشرط معتبر , مثلا: لو باع الفروة على أن يخيط بها الظهارة , أو القفل على أن يسمره في الباب أو الثوب على أن يرقعه يصح البيع ويلزم على البائع الوفاء بهذه الشروط.

السراجية في الميراث (1/ 11) الناشر: مكتبة المدينة، كراتشي:

تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبة الأول: يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير ولا تقتير، ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله، ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين، ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة وإجماع الأمة.

محمد نعمان خالد

دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی

18/جمادی الاخری 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب