03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کے وراثتی گھر کے کرایہ کا حکم
86489میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے والد 2020ء  میں وفات پا گئے اور ان کی وراثت ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی۔ میں ان کے گھر میں رہ رہا ہوں،  لیکن میرے بھائی اور بہن مجھ سے وراثتی گھر کا کرایہ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کیا میں شرعی طور پر اس گھر کا کرایہ دینے کا پابند ہوں، خاص طور پر جب وراثت ابھی تقسیم نہیں ہوئی؟ مزید یہ کہ میرے دوسرے بھائی اور والدہ نے اسی گھر میں ایک کمرہ اور ایک فلور اپنے قبضے میں رکھا ہوا ہے، لیکن وہ وہاں رہتے نہیں، بلکہ صرف تالے لگائے ہوئے ہیں،کیا وہ بھی اس گھر کا کرایہ دینے کے ذمہ دار ہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ میراث کے بارے میں شریعت کا حکم یہ ہے  کہ اس کو جلد از جلد ورثاء میں تقسیم کرکے اس فريضہ سے سبکدوش ہونا چاہیے، کسی  معتبر عذرکےبغیر میراث کی تقسیم میں تاخیر درست نہیں،تاکہ بعد میں کسی قسم کی بد مزگی، آپس کے اختلافات اور کسی کی حق تلفی نہ ہو۔

صورتِ مسئولہ میں بھی آپ  اورآپ  کے بہن بھائیوں کو چاہیے کہ ترکہ جلد از جلد تقسیم کر کے ہر وارث کو اس کا شرعی حصہ  دے دیں۔ اگر کسی معتبر عذر کی بنا پر ترکہ کی تقسیم فی الحال ممکن نہ ہو، تو  سوال میں مذکور متروکہ گھر میں مرحوم کے تمام شرعی ورثاء حصصِ شرعیہ کے تناسب سے شریک ہیں۔پس مذکورہ گھر کے آٹھویں حصہ پر مرحوم کی بیوہ کا شرعی حق ہے،  جب کہ بقیہ گھر میں مرحوم کے بیٹے اور بیٹیاں ایک اور آدھے کے تناسب سے شریک ہیں۔  لہٰذا پہلے  کل مکان(بشمول مقبوضہ کمرہ و فلور) میں ورثاء کی شرعی حصص کی تعیین کی جائے ، اس کے بعد جس کے حصے میں مکان کا  جو حصہ آئے، وہ اس میں رہائش یا کرایہ کا حقدار ہوگا۔ تاہم کرایہ طے کرنے سے قبل، جتنا عرصہ ورثا ءمیں سے کوئی اس گھر میں مقیم رہا ہے، اس مدت کے دوران رہائش کا کرایہ ان پر لازم نہیں ہوگا، کیونکہ یہ قیام ورثا کے مشترکہ حق ملکیت کے تحت شمار ہوگا۔  

حوالہ جات

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص368):

لو واحد من الشريكين سكن في الدار مدة مضت من الزمن ‌فليس ‌للشريك أن يطالبه بأجرة السكنى ولا المطالبة بأنه يسكن من الاول لكنه إن كان في المستقبل يطلب أن يهائ الشريك ايجابا.

مجلۃ الاحکام العدلیۃ(206):

(المادة 1071) يجوز لأحد الشريكين أن يتصرف مستقلا في الملك المشترك بإذن الآخر لكن لا يجوز له أن يتصرف تصرفا مضرا بالشريك.

(المادة 1073) تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح.

مجلة الاحکام  (ص 111):

مادة 597: لا يلزم ضمان المنفعة في مال استعمل بتأويل ملك ولو كان معدا للاستغلال، مثلا لو تصرف مدة أحد الشركاء في المال المشترك  بدون إذن شريكه مستقلا فليس للشريك الآخر اخذ أجرة  حصته؛ لأنه استعمله على أنه ملكه.

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 588):

شرح المادة 597: مسائل تتفرع عن ذلك: أولًا: مثلًا لو تصرف أحد الشركاء تغلبًا في المال المشترك كالدار والحانوت مدةً بدون إذن شريكه مستقلًا واستعمله بنفسه، فليس للشريك الآخر أخذ أجرة حصته؛ لأنه استعمله على أنه ملكه، كما أنه ليس له أن يطالب بسكنى الدار وحده بقدر ما سكنها شريكه، انظر المادة ( 1083 )، حتى أن الساكن إذا دفع إلى شريكه أجرة حصته يزعم أنها تلزمه فله استردادها بعد ذلك، انظر المادة ( 97 ) .

ويفهم من هذه المادة أن لأحد الشريكين أن يسكن المال المشترك سواء أكان شريكه حاضرا  أو غائبًا؛ إذ يتعذر عليه الاستئذان في كل مرة فكان له أن يسكن في حال غيبته . ثانيا : إذا تسبب أحد الشريكين بتعطيل المال المشترك ، فليس للشريك الثاني أجرة . ثالثا : إذا آجر أحد الشریکین حصته من شریکه سنة و سکنها المستأجر سنتین فلا تلزم أجرة للسنة الثانیة.

حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

19  /رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب