03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دھوکے سے ایک طلاق کا کہہ کر تین طلاق والی دستاویزپر دستخط کروادئیے تو کیا حکم ہے
86318طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

میری اپنی بیوی کے ساتھ گھر کے کچھ مسائل تھے جس کی وجہ سے میری بیوی نے روبرو اپنے والدین  اور جرگہ معززین کے سامنے مجھ سے علیحدگی کا مطالبہ کیا، میں اپنی  بیوی کو طلاق نہیں دینا چاہتا تھا ،میں ہر صورت اپنا گھر آباد رکھنا چاہتا تھا ،لیکن بیوی کے والدین اور جرگہ نے مسلسل ڈیڑھ ماہ تک مجھ پر ذہنی دباؤڈالا ،بیوی کے والدین کی طرف سے ایک ہی مطالبہ کیا جاتا کہ ہماری بیٹی کو طلا ق دی جائے ۔الغرض  بیوی  کے والدین اور جرگہ کے شدید دباو ٔاور ٹینشن میں آکر    اور مزید دباو ٔنہ برداشت کرتے ہوئے  میں نے ایک طلاق کی نیت کی ،تاکہ اس کے بعد رجوع کی صورت باقی رہے ،لیکن میں نے منہ سے کوئی لفظ ادا نہیں کیا ،مجھ سے جرگہ میں ایک  تحریر پر دباؤ ڈال کر  سائن لیے گئے  ،تحریر بیوی اور اس کے والدین کی مرضی سے تیار کی گئی  ،تحریر نہ مجھے پڑھنے دی گئی اور نہ کسی نے پڑھ  کر سنائی مجھے ایک طلاق کا کہا کہ تحریر میں ایک طلاق ہے،اور اس تحریر کو بغیر میرے علم میں لائے  کہ اس میں ایک طلاق ہے یا تین ،اور یہ معاملہ میرے ساتھ پہلی بار پیش آیا تھا  اس لیے مجھے کاغذات کا کوئی علم نہیں  تھا ۔واضح رہے کہ بقول سائل منشی نے جلدی سے طلاق کے  نوٹس پر دستخط کرائے ،سائل نے ایک  طلاق کی نیت سے دستخط کیے اور بالکل پڑھنے بھی نہیں دیا بعد میں پتہ چلا کہ وہ تین طلاق کانوٹس تھا ۔مہربانی کرکے شریعت کے مطابق رہنمائی کی جائے کہ ایک طلاق ہے یا تین طلاق واقع ہوئی؟

تنقیح:سائل سے زبانی سوالات کیے گئے جن کے مطابق سائل کے بقول اس نے سات، آٹھ کلاس اسکول پڑھا ہے اور وہ   پڑھنا ٹوٹا پھوٹا جانتا ہے ۔اورتحریر نہ میں  نے لکھی ہے اور  نہ میرے کہنے پر لکھی گئی    بلکہ تحریر سسرال والوں کے وکیل اور منشی نے تیار کی ہے ، تحریر نہ مجھے پڑھ کر سنائی گئی اور نہ ہی میں نے پڑھنے کا مطالبہ کیا تھا ،چونکہ اس وقت ذہنی دباؤ بہت زیادہ  تھا ،اور منشی بھی دستخط کروانے پر جلدی کررہا تھا  ،تو میں نے ایک طلاق کی نیت سے دستخط کردیا،کیونکہ تحریر تیار کرنے سے پہلے انہوں نے  اس طرح  بتایا تھا کہ ہم ایک طلاق  کی تحریر تیار کرتے ہیں جس پر آپ کو دستخط کرنے ہوں گے۔اس وقت بھی میں طلاق دینے پر راضی نہیں تھا ،میں اپنا گھر بسانا چاہتا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 سوال کے جواب سے پہلے بطور تمہید یہ سمجھ لینا چاہیے کہ طلاق کا معاملہ انتہائی اہم،نازک اور حلال وحرام کا ہوتا ہے۔سائل جو سوال پوچھتا ہے اس کے مطابق اسے دارالافتاء سے جواب دیا جاتا ہے لیکن اگر پوچھنے والا غلط بیانی کرکے اپنی مرضی کا جواب حاصل کرلے تو اس سے میاں بیوی کا تعلق جائز نہیں ہوتا بلکہ وہ عنداللہ مجرم ہی سمجھے جاتے ہیں اور سخت گناہ گار ہوتے ہیں ۔

اس تمہید کے بعد اگر سوال میں لکھی گئی تمام باتیں درست ہیں یعنی آپ نے اس طلاق نامے کو نہ لکھوایا ہے اور نہ ہی آپ نے اسے پڑھا ہے اور نہ آپ کو پڑھ کر سنا یا گیا ہے ،اور نہ ہی آپ کو معلوم تھا کہ اس میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں اور آپ کو بتایا گیا تھا کہ اس طلاق نامے میں ایک طلاق لکھی ہوئی ہے تو چونکہ ایک طلاق کی نیت آپ نے کی تھی لہذا  صورت مسئولہ میں ایک طلاق واقع ہوئی ہے،تین واقع نہیں ہوئیں۔پس مذکورہ شخص  اپنی زوجہ سے عدت کے اندر رجوع کرسکتا ہے ،ازسرنو نکاح کرنے کی ضرورت نہیں۔اوراگر  عدت گزرچکی ہے تو  بیوی کی رضا مندی سے دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہو گا ۔

حوالہ جات

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله :الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو.

(رد المحتار:246/3)

‌ قال العلامة ابن عابدين رحمه الله :فلو ‌أكره ‌على ‌أن ‌يكتب ‌طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا.(رد المحتار:236/3)

‌ قال العلامة ابن عابدين رحمه الله :ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابة أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اهـ ملخصا. (رد المحتار:246/3)

محمد فیاض بن عطاءالرحمن

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۲  رجب المرجب ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فیاض بن عطاءالرحمن

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب