| 86373 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | ملازمت کے احکام |
سوال
میں فی الحال ایک فارماسیوٹیکل کمپنی میں جاب کررہا ہوں۔میرے پوسٹ کا کا م بس نگرانی اور چیکنگ کرنا ہے جو جلدی ختم ہوجاتا ہے،پھر میں فارغ ہوتا ہوں۔کیا اپنا کام ختم کرنے کے بعد میں کمپنی ٹائم میں آنلائن ٹیوشن پڑھا سکتا ہوں؟کیا میرے لیے ایسا کرنا جائز ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی ادارے میں ملازمت کے دوران ملازم اجیر خاص ہوتا ہے۔اس پر ادارے کی طرف سے مقرر کردہ وقت کی پابندی لازم ہے۔ ملازم ادارے کے مقرر کردہ اوقات میں فارغ ہوتا ہی نہیں،بلکہ وہ خود کو فارغ سمجھتا ہے، کیونکہ کام کے کئی درجے ہوتے ہیں یا تو طے شدہ کام کیا جائے اگر وہ مکمل ہوگیا ہو تو اگر پچھلا کوئی کام باقی ہو وہ کرے، ورنہ آئندہ کے کام کی منصوبہ بندی کرے۔اگر آپ ان تمام امور کو مکمل کرنے کے بعد واقعتاً فارغ ہوں تب بھی آپ کے لیےڈیوٹی کے اوقات میں اجازت کے بغیر اپنا کوئی ایسا مستقل کام کرنا جائز نہیں ہے جس سے ادارے کے کام میں حرج واقع ہو۔البتہ اگر اس بارے میں ادارے کے ذمہ داران سے اجازت لے لی جائےتو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی:وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل.
وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی:قوله:(وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة.وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى...قوله:(ولو عمل نقص من أجرته) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة.(رد المحتار:6/70)
وقال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ تعالی:وإذا ذكر المدة أولا نحو أن يستأجر راعيا شهرا يرعى غنمه المعلومة بدرهم فهو أجير خاص، إلا إذا صرح في آخر كلامه بما يدل على أنه مشترك بأن يقول: ارع غنمي وغنم غيري...وسمي الأجير خاصا وحده؛ لأنه يختص بالواحد وليس له أن يعمل لغيره؛ ولأن منافعه صارت مستحقة للغير والأجر مقابل بها فيستحقه ما لم يمنع مانع من العمل كالمرض والمطر ونحو ذلك مما يمنع التمكن (البحر الرائق:8/ 30)
جنید صلاح الدین
دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
14/رجب المرجب6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جنید صلاح الدین ولد صلاح الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


