| 86374 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
سوال:میں نے بیچلر آف فارمیسی(B.Pharm)کی ڈگری حاصل کی ہے اس ڈگری کے بعد ہمیں ایک لائسنس بھی جاری کیا جاتا ہے جس سے ہم کوئی میڈیکل سٹور یا فارمیسی قانوناً چلا سکتے ہیں۔میرے بعض دوستوں نے اپنی لائسنس کسی میڈیکل سٹور والے کو لیز پر دے کر ان سے سالانہ یا چھ ماہ کا اگریمنٹ کیا ہے۔کیا ایسا کرنا جائز ہے؟لائسنس کے بدلے لیے جانے والے پیسوں کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کوئی شخص ادویات اور طبی نسخوں کو جانتا ہو اور اس میں تجربہ رکھتا ہو تو اس کے لیے دوا کی بیچنے کی گنجائش ہوتی ہے۔البتہ ہمارے ملک میں بغیر لائسنس کے باضابطہ میڈکل سٹور چلانا قانون کی خلاف ورزی ہے اور جائز امور میں حکومت کے وضع کردہ قوانین کی پاسداری ضروری ہے، اس لیےکسی فارمسسٹ کو با ضابطہ ملازم رکھ لیا جائے اور اس سےماہانہ یا سالانہ معاہدہ طے ہو کہ اتنے گھنٹے یا دن آپ نےسیلز ٹیم کی نگرانی رکھنی ہے ۔اس نگرانی کے عوض اس کے لیے تنخواہ مقرر کرسکتے ہیں۔قانونی تقاضے سے جب پیش ہونا ہو وہ بھی اس ملازمت کے ضمن میں درست ہوگا۔اس طرح میڈیکل سٹور والے کےلیے سٹور چلانا جائز ہوگا اور فارمسسٹ کے لیے تنخواہ کی صورت میں پیسے لینا جائز ہوں گے۔صرف لائسنس رکھوا کر اس کا کرایہ لینا شرعاً جائز نہیں ہے،کیونکہ لائسنس صرف ایک اجازت نامہ ہے،یہ کوئی ایسا مال نہیں ہے جس پر کرایہ لیا جا سکے،نیزاب تک جتنا کرایہ لیا ہےوہ مالک کو واپس کرنا واجب ہے ۔تاہم آئندہ سالوں میں اجرت زیادہ رکھی جاسکتی ہے۔
حوالہ جات
قال اللہ تبارک و تعالی:﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ﴾ [النساء: 59]
وقال ابن عباس: {وأولي الأمر منكم} يعني أهل الفقه والدين، وكذا قال مجاهد وعطاء {وأولي الأمر منكم} يعني العلماء، والظاهر أنها عامة في كل أولي الأمر من الأمراء والعلماء كما تقدم.(مختصرتفسير ابن كثير:1 / 408)
وفی بحوث فی قضایا فقھیۃ:الترخیص التجاری:وما قلنا فی حکم الاسم التجاری والعلامۃ التجاریۃ من جواز الاعتیاض عنھما یصدق علی الترخیص التجاری ...ولکن کل ذلک إنما یتاتی إذا کان فی الحکومۃ قانون یسمح بنقل ھذہ الرخصۃ الی رجل آخر ،أما إذا کانت الرخصۃ باسم رجل مخصوص أو شرکۃ مخصوصۃ ،ولا یسمح القانون بنقلھا إلی رجل آخر أو شرکۃ اخری ،فلا شبھۃ فی عدم جوازھا ، لأن بیعہ یؤدی حینئذ إلی الکذب والخدیعۃ ، فإن مشتری الرخصۃ یستعملھا باسم البائع ، لا باسم نفسہ ، فلا یحل ذلک إلا بأن یوکل حامل الرخصۃ بالبیع و الشراء.(بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ: 120/1)
وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی: وفی الاشباہ : لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة کحق الشفعۃ.
وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی:قوله: (لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة على الملك) قال في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها.أقول: وكذا لا تضمن بالإتلاف. قال في شرح الزيادات للسرخسي:وإتلاف مجرد الحق لا يوجب الضمان؛ لأن الاعتياض عن مجرد الحق باطل.(رد المحتار518/4:)
وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی:و الحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، و إلا فإن علم عين الحرام لايحلّ له و يتصدّق به بنية صاحبه، و إن كان مالًا مختلطًا مجتمعًا من الحرام و لايعلم أربابه و لا شيئًا منه بعينه حلّ له حكمًا، و الأحسن ديانةً التنزه عنه.(رد المحتار:99/5)
وقال العلامۃ المرغینانی رحمہ اللہ تعالی:والأجير الخاص الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة.( بداية المبتدي: 190)
جنید صلاح الدین
دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
14/رجب المرجب6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جنید صلاح الدین ولد صلاح الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


