03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدالتی یک طرفہ خلع کی شرعی حیثیت
86371طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

السلام علیکم!مفتی صاحب   اس مسئلے کے بارے میں بتائے کہ میری ایک عزیزہ  ہے جس نے  عدالت کے ذریعےیک طرفہ  خلع لے لی ہے،کیونکہ ان کے شوہر کو عدالت کی طرف سے نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ،لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے۔ان  کے عمر وں میں بھی کافی فرق تھا جس کی وجہ سے  ان  کا  آپس میں  نہیں بنتی تھی،کئی سال سے ان کا جسمانی تعلق بھی نہیں تھا، بلکہ ایک دوسرے سے بات چیت تک نہیں کرتے تھے تو ان حالات میں اس عورت نے عدالتی خلع لے لی ہے۔ان کا اپنے خاوند سے  تعلق تو عرصہ  پہلے ہی ختم ہوچکا تھا،البتہ خلع کی ڈگری کو ملے دس بارہ دن ہوگئے۔اب  مسئلہ یہ ہے کہ یہ خاتون  دوسری شادی کرنا چاہتی ہے تو کیا  عدت خلع کی   ڈگری ملنے  کے بعد سے شروع ہوگی حالانکہ چار ماہ تو کیس میں لگے ہیں یا  کیس والے ایام  بھی عدت میں شمار ہوں گے؟

     تنقیح:سائل نے مقدمے کے کاغذات اور خلع کی ڈگری بھی ارسال کی ہے جس میں اس بات کو بنیاد بنا کر خلع کا فیصلہ  جاری کیا گیا ہے کہ میاں بیوی کے تعلقات  خراب ہوگئے تھے، کیونکہ شوہر کا رویہ بد اخلاقی اور بد تمیز ی پر مبنی تھا،اس نے بیوی کو ذہنی تشدد کا نشانہ بنا رکھا تھا،ذلیل کرتا تھا اور مناسب کفالت فراہم نہیں کرتا تھا۔نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ بیوی شوہر سے سخت متنفر ہوگئی ہے اور  مزید اس شوہر کے ساتھ نہیں رہ سکتی تھی اور مجبور ہوکر عدالت سے خلع کا فیصلہ لے لیا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ عدالتوں میں شوہر  یا اس کے وکیل کی غیر موجودگی میں جو  یک طرفہ  طور پر  خلع کی ڈگری دی جاتی ہے وہ خلع شرعاً معتبر نہیں۔ اس کی وجہ سے میاں بیوی کے  نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا ،اس لیے کہ خلع  کے شرعاً درست ہونے کے لیے شوہر اور بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے،دونوں میں سے کسی ایک کی رضا  مندی کے بغیر شرعاً خلع درست نہیں ہوتا  اور نہ ہی کسی عدالت یا جج کو شرعاً یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ میاں بیوی  میں سے کسی کی رضامندی کے بغیر خلع کا فیصلہ دے۔

      البتہ چند اسباب ایسے ہیں جن کے ثابت ہونے کے بعد شرعاً عدالت یا جج کو بھی یہ اختیار دیا گیا ہے  کہ وہ شوہر کی رضا مندی کے بغیر  اس کی غیر موجودگی میں اس کے قائم مقام ہوکر میاں بیوی کے درمیان تفریق کردے ،جسے فسخ نکاح کہا جاتا ہے،بشرطیکہ وہ  اسباب شرعی معیار کے مطابق ثابت ہوجائیں اور عدالت شرعی طریقے کے مطابق ہی فیصلہ صادر کر ے تب وہ فیصلہ نافذ ہوتا ہے۔

      صورت مسئولہ میں خلع کی ڈگری اورمقدمے کےجو کاغذات ارسال  کیے گئے ہیں،ان میں چونکہ ایسا کوئی الزام بیوی کی طرف سے واضح نہیں ہےجس کی بنیاد پرشوہر  کی رضا مندی کے بغیرعدالت کی طرف سےدی جانے والی خلع معتبر ہوسکےاور نہ ہی تنسیخِ نکاح کےاسباب میں سے کسی سبب کو عدالت میں شرعی طریقے سے ثابت کیا گیا ہے،لہٰذا اس صورت میں یہ خلع شرعاً معتبر نہیں ہے۔جب خلع ہی درست نہیں تو مذکورہ خاتون پر کوئی عدت  نہیں ہے، بلکہ سابقہ نکاح اب بھی برقرار ہےاوراس عورت کے لیے کسی اور جگہ نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

        قال العلامۃ عبد الوہاب رحمہ اللہ تعالی:وأما القاضي فلا يطلق الزوجة بناء على طلبها إلا في خمس حالات: التطليق لعدم الإنفاق، والتطليق للعيب و التطليق للضرر، والتطليق لغيبة الزوج بلا عذر، والتطليق لحبسه.(أحكام الأحوال الشخصية في الشريعة الإسلامية،ص: 165)

          وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی:قوله:( وإلا بانت بالتفريق ) ؛لأنها فرقة قبل الدخول حقيقة فكانت بائنة ولها كمال المهر وعليها العدة لوجود الخلوة الصحيحة.قوله:(من القاضي إن أبى طلاقها ) أي إن أبى الزوج ؛لأنه وجب عليه التسريح بالإحسان حين عجز عن الإمساك بالمعروف،فإذا امتنع كان ظالما فناب عنه وأضيف فعله إليه.(رد المحتار:3/ 498)

         وقال العلامۃ السرخسی رحمہ اللہ تعالی:والخلع جائز عند السلطان وغيره؛لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض،وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.(المبسوط:6/ 173)

       وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی:في التتارخانية وغيرها: مطلق لفظ الخلع محمول على الطلاق بعوض؛ حتى لو قال لغيره اخلع امرأتي فخلعها بلا عوض لا يصح .قوله:( أو اختلعي) إذا قال لها اخلعي نفسك فهو على أربعة أوجه: إما أن يقول بكذا فخلعت يصح وإن لم يقل الزوج بعده: أجزت، أو قبلت على المختار،وإما أن يقول بمال ولم يقدره، أو بما شئت فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده. ..(رد المحتار: 3/ 440)

 جنید صلاح الدین

دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

15/رجب المرجب6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جنید صلاح الدین ولد صلاح الدین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب