03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدین،شوہرایک بیٹااورایک بیٹی میں وراثت کی تقسیم
85219میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ایک عورت فوت ہوئی جس کے ورثاء میں شوہر،ایک بیٹا،ایک بیٹی اور متوفیہ کے والدین اور شوہر کے والدین موجود ہیں،متوفیہ کی منقولہ وغیر منقولہ جائداد شرعاً کیسے تقسیم ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحومہ کی منقولہ و غیر منقولہ جائداد کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ تجہیز و تکفین کا خرچ  منہاکرنے اورمرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہوتواسےاداکرنےکےبعد،یامرحومہ نےکوئی جائزوصیت کی ہوتواسےایک تہائی ترکہ میں نافذکرنےکےبعد،باقی جائداد چھتیس حصوںمیں تقسیم کرکے چھ چھ حصےمرحومہ کے والدین میں سے ہر ایک کو،نوحصےمرحومہ کےشوہر کو،دس حصے مرحومہ کے بیٹے کو اورپانچ حصے مرحومہ کی بیٹی کو ملیں گے۔ فیصد کے اعتبار سے 16.6666 فیصد والد کو،16.6666 فیصد والدہ کو،25 فیصد شوہر کو،27.7777 فیصد بیٹے کو اور 13.8888 فیصد بیٹی کو ملے گا،یاد رہے مرحومہ کے شوہر کے والدین کو مرحومہ کی وراثت میں سے کچھ نہیں ملے گا۔

مرحومہ سے رشتہ

عددی حصہ

فیصدی حصہ

والد

6/36

16.67 فیصد

والدہ

6/36

16.67 فیصد

شوہر

9/36

25فیصد

بیٹا

10/36

27.78فیصد

بیٹی

5/36

13.89فیصد

مجموعہ

36

100فیصد

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 770)

(وللأب والجد) ثلاث أحوال الفرض المطلق وهو (السدس) وذلك (مع ولد أو ولد ابن) والتعصيب المطلق عند عدمهما والفرض والتعصيب مع البنت أو بنت الابن.

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 770)

(قوله مع ولد) أي للزوج الميت ذكرا أو أنثى ولو من غيرها.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 770)

(والربع للزوج) فأكثر كما لو ادعى رجلان فأكثر نكاح ميتة وبرهنا ولم تكن في بيت واحد منهما ولا دخل بها فإنهم يقسمون ميراث زوج واحد لعدم الأولوية (مع أحدهما) أي الولد أو ولد الابن (والنصف له عند عدمهما) فللزوج حالتان النصف والربع.

الدر المختار للحصفكي (7/ 377)

ويكون الباقي للذكر كالانثيين.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

 ۲۷.ربیع الثانی۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب