| 85200 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
آج کل مارکیٹ میں کافی قسم کی ایپلیکیشنز آرہی ہیں، جن سے ایک عام آدمی کچھ رقم انویسٹ کرکے آن لائن ارننگ کرتے ہیں،اسی طرح کی ایک ایپلیکیشن میٹافورس کے نام سے ہے،جس میں موبائل ایپ انسٹال کرکے اپنا اکاؤنٹ بنا کر کچھ رقم کے عوض سکے خریدے جاتے ہیں اور ان سکوں کو سٹور کرکے قیمت بڑھنے پر کمائی کی جاتی ہے،کیا یہ جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سےآن لائن ارننگ کی مختلف ایپلیکیشنز آئے روز مختلف ناموں سے سامنے آتی رہتی ہیں،ان تمام ایپلیکیشنز میں لوگوں سے انویسٹمنٹ لینےاور انویسٹمنٹ پر اضافی رقم دینے کا طریقہ کار تقریباً ایک جیسا ہوتا ہے،بعض ڈیجیٹل ایسٹس کے نام سے کام کرتی ہیں اور بعض روایتی کرنسیوں کے نام پر کام کرتی ہیں،اب تک سامنے آنے والی اس طرح کی تقریباً تمام ایپلیکیشنز دھوکہ دہی ،غلط بیانی یا کسی دوسری شرعی خرابی پر مشتمل معلوم ہوئی ہیں،اس لیے ذیل میں کچھ اصولی باتیں ذکر کی جاتی ہیں ،اس کے مطابق اس طرح کی ایپلیکیشنز سے متعلق عمل کیا جائے۔
سب سے پہلے انویسٹمنٹ لینے والی کمپنی کی مکمل معلومات حاصل کی جائیں کہ وہ کمپنی کن کی ملکیت ہے؟اس کے مالکان کون ہیں؟کون سے ملک کی ہے؟جس ملک کی ہے کیا وہاں کسی معتبرقانونی ادارے میں رجسٹرڈ ہے یا نہیں؟اگر رجسٹرڈ ہےتو رجسٹریشن سرٹیفیکٹ کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے کہ وہ اصلی ہے یا جعلی؟اگر اصلی ہے تو یہ تحقیق کی جائے کہ یہ سرٹیفیکٹ کن بنیادوں پر ملتا ہے؟کیا انویسٹمنٹ لینےکے لیے فقط یہ سرٹیفیکٹ کافی ہےیا مزید تحقیق کی ضرورت ہے؟مذکورہ سرٹیفیکٹ کی تفصیلات معلوم کی جائیں کہ اس سرٹیفیکٹ کی بنیاد پر کمپنی کو کون کون سے کاموں کی اجازت قانوناً ملی ہے؟کیا وہ اس سرٹیفیکٹ کی بنیاد پر لوگوں سے انویسٹمنٹ لے سکتی ہے یا نہیں ؟وغیرہ
دوسرے نمبر پر کمپنی کے کاروبار کی معلومات کی جائے کہ کمپنی کیا کاروبار کرتی ہے؟جس کے ذریعے وہ لوگوں کی انویسٹمنٹ سے نفع حاصل کرکےوہ نفع لوگوں میں تقسیم کرتی ہےاور پھرکاروبار کی مکمل تفصیل تحقیق کے ساتھ معلوم کرکے اس کا شرعی حکم معلوم کیا جائے۔
تیسرے نمبر پر کمپنی کا انویسمنٹ لینے اور اس پر نفع دینے کا تفصیلی طریقہ کار معلوم کرکے اس کا شرعی حکم معلوم کیا جائے۔
چوتھے نمبر پر یہ تحقیق بھی ضروری ہے کہ بالفرض اگر پہلی تین چیزیں عملاً اور شرعاً قابل اطمینان ہوں تو کمپنی کے تمام آپریشنز کا شریعت کے مطابق سرانجام دیے جانے کا مکینزم یعنی طریقہ کار کیا ہے؟کیا کوئی ایسی معتبرباڈی موجود ہے جو کمپنی کے معاملات کی عملاً اور شرعاً جانچ پڑتال کرتی ہو اور مسلسل نگرانی کرتی ہو؟
موجودہ دور میں ماہرین معیشت پونزی اسکیمز یا مختلف اسکیم(scam) کو پہچاننے کے چند طریقے بتاتے ہیں ،جو معمولی فرق کے ساتھ تقریباً وہی ہیں جو اوپر بیان کیے گئے ہیں،ان کا بھی لحاظ رکھنا ضرروی ہے،جوکہ درج ذیل ہیں:
- سب سے پہلے کمپنی کا بزنس دیکھا جائے کہ کمپنی حقیقتاً کوئی چیز بیچتی ہے،کوئی خدمات فراہم کرتی ہےیا فقط نئے ممبر بنانے پر فوکس کرتی ہے؟اگر فقط نئے ممبر بنانے پر فوکس کرتی ہے تو یہ پونزی اسکیم ہوسکتی ہے۔
- دوسرے نمبر پر شفافیت دیکھی جائے کہ کمپنی کے تمام آپریشنز،مالکان ،مینجمنٹ اور فائنانشل اسٹرکچر بالکل واضح اور قابل اعتماد ہیں یا نہیں۔
- تیسرے نمبر پر مختلف آزادفورمز سے کمپنی سے متعلق تحقیق کی جائے کہ جیسا بتایا جارہا ہے،کیا حقیقتاً ایسا ہے یا نہیں؟اس کام کے لیے آڈٹ رپورٹس ،میڈیا رپورٹس ،متعلقہ حکومتی ادارے اور یوزرز وغیرہ سے معلومات لی جاسکتی ہیں۔
- چوتھے نمبر پر ریگولیٹری کمپلائنس کے حوالے سے معلوم کیا جائے ۔
- پانچویں نمبر پر یہ دیکھا جائے کہ کمپنی حقیقی مارکیٹ پریکٹس کے برخلاف غیر معمولی نفع کا وعدہ تو نہیں کر رہی؟اگر کر رہی ہے تو یہ پونزی اسکیم ہوسکتی ہے۔
درج بالا تمام تر تفصیلات کو سامنے رکھتے ہوئے مذکورہ ایپلیکیشن یعنی میٹافورس کے ذریعے انویسٹمنٹ کرنے سے اجتناب کرنا ضروری ہے،کیوں کہ میٹافورس کے بارے میں جو معلومات انٹر نیٹ اور دیگر ذرائع سے موصول ہوئی ہیں اس کے مطابق میٹافورس کا بنیادی کام نیٹ ورک مارکیٹنگ کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جوڑنا اور انویسٹمنٹ کے نام سے پیسے جمع کرنا ہے،پھر ان پیسوں کے عوض ڈیجیٹل ایسٹس یعنی کوائنز وغیرہ دیے جاتے ہیں جو بعد میں کسی رائج کرنسی میں کنورٹ کیے جاسکتے ہیں،جس کی تفصیل یہ ہے کہ انٹرنیٹ پہ میٹا فورس کے نام سےیہ ایک پلیٹ فارم ہے،اس میں پانچ ڈالر میں دو کرپٹو کرنسیوں DAI اور MATIC کی خاص مقدار لے کر کسی کے ریفرل لنک کے ذریعے جوائن کرنا پڑتا ہے، رجسٹریشن کے بعد اس میں بارہ لیول ملتے ہیں، ان میں پہلا لیول تو رجسٹریشن کے ساتھ ہی ایکٹیو ہو جاتا ہے اور بعد کے ہر لیول کو کرپٹو کی خاص مقدار سے ایکٹیو کرنا پڑتا ہے، پھر ہر لیول میں چھ یا تین دائرے ہوتے ہیں، جب اسی طریقے کے ساتھ اپنے ریفرل لنک سے کسی آدمی کو رجسٹر کروایا جاتا ہے تو وہ ایک دائرہ پُر ہو جاتا ہے اور ہر لیول کے حساب سے DAIملتے ہیں،اس طرح چھ بندے رجسٹر کرنے سے چھ دائروں والا سلاٹ مکمل ہوتا ہے،اور تین دائروں والے سلاٹ میں اس طرح سے تین بندے رجسٹر کرنے پڑتے ہیں، پھر ہر بندہ رجسٹر کرنے پہ کمپنی کی طرف سے کرپٹو ملتے ہیں،مثلا 5 DAI والے سلاٹ میں کسی کو رجسٹر کرنے پہ فی بندہ 5 DAI ملتے ہیں، جن میں پہلے دو سے ملنے والے کرپٹو اپ لائن کو جاتے ہیں، اگلے تین ملنے والے اسی بندے کو ملتے ہیں، پھر چھٹے دائرے سے ملنے والے بھی اپ لائن کو ملتے ہیں، اس کے ساتھ ہی ری سائیکل ہو کر سلاٹ خالی ہو جاتا ہے، اور اس طرح سے مزید بندے بھی داخل کیے جاتے ہیں، اس طرح سے ملنے والی DAI کو کسی کو پاکستانی روپوں کے عوض بیچ دیا جاتا ہے اور ایک DAI کی قیمت ڈالر کے آس پاس ہوتی ہے۔
مذکورہ تفصیل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک خالصتاً ملٹی لیول مارکیٹنگ پروگرام ہے، جسے بلاک چین پر بنایا گیا ہے،اس میں مختلف سلاٹس ہوتی ہیں جو پیسے لگا کر کھولنی ہوتی ہیں، یہ پیسے ملٹی لیول مارکیٹنگ کے طریقہ کار کے مطابق اوپر کے ممبران میں تقسیم ہو جاتے ہیں،سلاٹ کھولنے والا شخص جب کسی کو دعوت دیتا ہے اور وہ اس پلیٹ فارم پر رجسٹر ہوتا ہےتو اس کی رقم سے اس دعوت دینے والے کو اور اس کے اوپر کے ممبران کو کمیشن دیا جاتا ہے، اسی طرح یہ سسٹم چلتا رہتا ہے، اس سسٹم کے مکمل بلاک چین پر ہونے کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی لیکن بالفرض اگر یہ بلاک چین پر ہو تب بھی اس کا مطلب فقط یہ ہوگا کہ اس کا اسمارٹ کنٹریکٹ کبھی بند نہیں ہو سکتا، لیکن کمیونٹی کے اسے ترک کر دینے کی صورت میں یہ فقط ایک سافٹ وئیر کی طرح رہ جائے گا جس کا کوئی اور استعمال نہیں ہوگا۔
مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں یہ واضح ہوا کہ جو شخص سلاٹ کھولتا ہے وہ اس بنیاد پر پیسے لگاتا ہے کہ وہ آگے ممبر بنائے گا تو اس کی یہ رقم پوری ہو کر اسے منافع بھی حاصل ہوگا اور اگر وہ ممبر نہ بنا سکا تو یہ رقم بھی ضائع ہو جائے گی،شرعاً یہ معاملہ قمار (جوے) کے تحت آتا ہے اور اس کی آمدن سود کے حکم میںحکم ہوتی ہے، لہٰذا اس میں سلاٹ کھولنا، ممبر بنانا اور اس کی انکم حاصل کرنا، سب ناجائز اورحرام ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جب تک میٹا فورس کے تمام معاملات واضح نہیں ہوجاتے اس وقت تک درج بالاجواب کی روشنی میں مذکورہ ایپ کے ذریعے آمدن حاصل کرنے سے اجتناب کیا جائے،جب تفصیلی معاملات واضح ہوجائیں تو ان معاملات کی تفصیل لکھ کر دارالافتاء سے حکم معلوم کرکے اس کے مطابق عمل کیا جائے۔
حوالہ جات
البناية شرح الهداية (8/ 158):
وقد نهى النبي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عن بيع الملامسة والمنابذة. ولأن فيه تعليقا بالخطر.
الموسوعة الفقهية الكويتية (41/ 375، بترقيم الشاملة آليا)
وقال ابن حجر المكّي : الميسر : القمار بأيّ نوع كان , وقال المحلّي : صورة القمار المحرّم التّردد بين أن يغنم وأن يغرم .
وقال مالك : الميسر : ميسران , ميسر اللّهو وميسر القمار فمن ميسر اللّهو النّرد والشّطرنج والملاهي كلها , وميسر القمار ما يتخاطر النّاس عليه . وبمثل ذلك قال ابن تيمية .
أحکام القرآن للجصاص:(تحت آیۃ سورۃ البقرۃ:329/1(
ولا خلاف بین أہل العلم في تحریم القمار۔
مسند أحمد: (324/6(
"عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه، قال: " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صفقتين في صفقة واحدة"۔
المبسوط للسرخسي( 15/102(
وإن اشترى ثوبا على أن يخيطه البائع بعشرة فهو فاسد؛ لأنه بيع شرط فيه إجارة؛ فإنه إن كان بعض البدل بمقابلة الخياطة فهي إجارة مشروطة في بيع، وإن لم يكن بمقابلتها شيء من البدل فهي إعانة مشروطة في البيع، وذلك مفسد للعقد۔
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (227/6)
"وهو قمار فلا يجوز لأن القمار من القمر الذي يزاد تارة، وينقص أخرى"۔
بدائع الصنائع: (فصل في شروط جواز السابق، 350/8)
"ولو کان الخطر من الجانبین جمیعًا ولم یدخلا فیہ محللاً لا یجوز؛ لأنہ في معنی القمار، نحو أن یقول أحدہما لصاحبہ: إن سبقتني فلک عليّ کذا، وإن سبقتک فلي علیک کذا، فقبل الآخر"۔
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۲۴.ربیع الثانی ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


