| 86662 | حدیث سے متعلق مسائل کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
حدیث متواتر کسے کہتے ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
متواتر، اصطلاح حدیث میں ایسی حدیث کو کہتے ہیں جس کے بیان کرنے والوں (راویوں) کی تعداد ہرزمانے میں اتنی کثیر ہو کہ ان کا آپس میں غلطی پر اتفاق کرلینا عقلاً وعادتاً محال ہو، یعنی کوئی حدیث اس وقت تک متواتر نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس میں یہ شرائط نہ پائی جاتی ہوں:
۱۔ اسے روایت کرنے والے کثیر تعداد میں ہوں ۔
۲۔ یہ وصف (کثرت تعداد) ابتداء سے انتہاء تک ہرزمانے میں ہو۔
۳۔ ان رواۃ کا غلطی پر اتفاق کرنا عادتا محال ہو۔
۴۔ اس روایت کو رُواة ایسی حِسّی مشاہدے کے طور پر بیان کریں مثلاً یہ کہیں کہ ہم نے سنا ہے یا ہم نے دیکھا ہے محض اپنی عقل سے قیاس آرائی کرکے بیان نہ کریں۔
حدیث متواتر کی دو قسمیں ہیں:
۱۔متواتر لفظی:متواتر کی وہ قسم ہے جس میں حدیث کے الفاظ اور معنی دونوں تواتر کے ساتھ منقول ہوں۔
مثال: من کذب عليّ متعمدًا فلیتبوأ مقعدہ من النار. یہ حدیث ستر سے زائد صحابہ کرام - رضوان اللہ علیھم اجمعین-سے منقول ہے۔
۲۔ متواتر معنوی:وہ حدیث ہے جس کا معنی تو تواتر کے ساتھ نقل ہو،لیکن اس کے الفاظ تواتر کے ساتھ منقول نہ ہوں،جیسےدعا مانگتے وقت ہاتھ اٹھانا آنحضرت ﷺسے ثابت ہے ،جس کا ذکر مختلف روایات میں آیا ہے،ان میں مشترک بات یہی ہے کہ حضور ﷺ نے دعا مانگتے وقت ہاتھ اٹھائے، لیکن یہ بات مختلف احادیث سے ثابت ہے جس میں سے ہر حدیث متواتر نہیں، لیکن دعا کے وقت ہاتھ اٹھانے کا ذکر سب میں مشترک ہے۔
ٍحدیث متواتر کا حکم:
خبر متواتر ضروری علم کا فائدہ دیتی ہے، یعنی ایسا علم یقینی حاصل ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے انسان قطعی تصدیق پر مجبور ہو جاتا ہے ،جس طرح انسان خود اس کا مشاہدہ کر رہا ہو تو وہ اس کی تصدیق میں کسی طرح تردد کا شکارنہ ہوگا، خبر متواتر بھی اسی طرح ہے، اسی وجہ سےہر خبر متواتر مقبول ہے اور اس کے راویوں کے حالات سے بحث کی حاجت نہیں ہے۔
حوالہ جات
تیسیر مصطلح الحدیث للطحان۲۳:
الخبر المتواتر: ما رواه عدد كثير، تُحِيل العادة تواطُؤَهم على الكذب.
شروطه:يتبين من شرح التعريف أن التواتر لا يتحقق في الخبر إلا بشروط أربعة وهي:
أ- أن يرويه عدد كثير، وقد اختلف في أقل الكثرة على أقوالٍ، المختار أنه عشرة أشخاص.
ب- أن توجد هذه الكثرة في جميع طبقات السند.
ج- أن تحيل العادة تواطؤهم على الكذب.
د- أن يكون مستند خبرهم الحس؛ كقولهم: سمعنا، أو رأينا، أو لمسنا، أو ... أما إن كان مستند خبرهم العقل، كالقول بحدوث العالم مثلا، فلا يسمى الخبر حينئذ متواترا.
حُكْمُهُ:المتواتر يفيد العلم الضروري، أي العلم اليقيني الذي يضطر الإنسان إلى التصديق به تصديقا جازما، كمن يشاهد الأمر بنفسه؛ فإنه لا يتردد في تصديقه، فكذلك الخبر المتواتر، لذلك كان المتواتر كله مقبولا، ولا حاجة إلى البحث عن أحوال رواته.
ينقسم الخبر المتواتر إلى قسمين هما: لفظي، ومعنوي:
أ- المتواتر اللفظي: وهو ما تواتر لفظه ومعناه.مثل حديث: "من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار". رواه بضعة وسبعون صحابيا. ثم استمرت هذه الكثرة -بل زادت- في باقي طبقات السند.
ب- المتواتر المعنوي: هو ما تواتر معناه دون لفظه.مثل: أحاديث رفع اليدين في الدعاء، فقد ورد عنه صلى الله عليه وسلم نحو مائة حديث، كل حديث منها فيه: أنه رفع يديه في الدعاء، لكنها في قضايا مختلفة، فكل قضية منها لم تتواتر، والقدر المشترك بينها -وهو الرفع عند الدعاء- تواتر باعتبار مجموع الطرق.
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
27/ رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


