03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جس کے زبان میں لکنت ہو تواس کی نماز کا حکم
86779نماز کا بیانقراءت کے واجب ہونے اور قراء ت میں غلطی کرنے کا بیان

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب  میں نے تجوید مدنی قاعده اور روحانی قاعدہ سے خود سیکھی ہے اور یوٹیوب  پر جو قاری صاحبان  تجوید کے ساتھ پڑھنا سکھاتے ہیں وہاں سے بھی سیکھا ہے ۔  اب میں نے سیکھ لیا ہے کہ کس حرف کی ادائیگی منہ کے کس حصے سے ہوگی ؟  مجھے  لکنت کی وجہ سے  بولنے میں تھوڑی دقت پیش آتی ہے اور کچھ حروف کی ادائیگی میرے لیے مشکل ہوتی ہے ۔ نماز میں میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ ہر حرف کو میں اس کے صحیح مخرج کے ساتھ پڑھوں۔ لیکن پھر بھی "غیر المغضوب علیھم" وغیره پڑھنے میں دقت آتی ہے۔ میں پوری کوشش سے صحیح مخرج کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ کیا میری نمازیں درست ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ تجوید سیکھنے میں سنجیدہ  ہیں اور آپ نے اس کے لیے کافی وقت بھی خرچ کیا ہے۔جو شخص بھی تجوید سیکھنے میں مصروف ہو تو اس زمانے کی کمی  کوتاہی  معاف ہوتی ہے اور نمازیں  درست شمار ہوتی ہیں ۔لہذا فی الحال  آپ کی نمازیں درست ہیں ۔تاہم تجویدایک عملی   چیز ہے جو صرف پڑھنےاور یوٹیوب کا درس سننے سے مکمل طور پر  نہیں آتی ،لہذا   اس کے لیے کسی ماہر قاری کے پاس کچھ وقت لگاکر اس کی باقاعدہ مشق کر لیں تو  مکمل اصلاح ہو جا ئے گی۔

حوالہ جات

قال اللہ تبارك وتعالی:ﵟلَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۚﵞ [البقرة: 286] 

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ :سئل الخير الرملي عما إذا كانت اللثغة يسيرة. فأجاب بأنه لم يرها لأئمتنا، وصرح بها الشافعية بأنه لو كانت يسيرة بأن يأتي بالحرف غير صاف لم تؤثر. قال وقواعدنا لا تأباه اهـ وبمثله أفتى تلميذ الشارح المرحوم. (رد المحتار : 1/ 582)

وفی الفتاوى العالمكيرية :وأما ‌الذي ‌لا ‌يقدر ‌على ‌إخراج ‌الحروف إلا بالجهد ولم يكن له تمتمة أو فأفأة فإذا أخرج الحروف أخرجها على الصحة لا يكره أن يكون إماما.( الفتاوى العالمكيرية : 1/ 86)

وفی الموسوعة الفقهية : ويرى هؤلاء الفقهاء أن الألكن إن تمكن من إصلاح لسانه وترك الإصلاح والتصحيح فصلاته في نفسه باطلة، فلا يجوز الاقتداء به، وإن لم يتمكن من الإصلاح والتصحيح: بأن كان لسانه لا يطاوعه، أو كان الوقت ضيقا ولم يتمكن قبل ذلك فصلاته في نفسه صحيحة، فإن اقتدى به من هو في مثل حاله صح اقتداؤه لأنه مثله فصلاته صحيحة .

وقد صرح الشافعية بأنه لو كانت اللثغة يسيرة، بأن لم تمنع أصل مخرج الحرف وإن كان غير صاف لم تؤثر ، وقواعد الحنفية لا تأبى هذا الحكم.( الموسوعة الفقهية : 35/ 326)

سخی گل  بن گل محمد    

دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی

27/رجب المرجب ،1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سخی گل بن گل محمد

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب